14/05/2026
اگر آپ حفظ کے استاد ہیں؟
تو مندرجہ ذیل تحریر آپ ہی کے لیے ہے۔
یاد رکھیں ! کہ تدریس پارٹ ٹائم جاب نہیں ، یہ قوم کے دماغوں کی سرجری ہے۔ اگر آپ کے ہاتھ کانپتے ہیں یا اوزار ( علم کے ) پرانے ہوگئے ہیں تو آپ مسیحا نہیں، قاتل ہیں۔ ایک ایسا استاد بننے کے لیے کہ جسے دنیا یاد رکھے، تو آپ کو روایتی " مولا بخش " والی سوچ سے نکل کر جدید اصول اپنانے ہوں گے۔
پہلا اصول:
دوست نہیں ، مینٹور بنیں۔ نئے اساتذہ اکثر بچوں کے " دوست " بننے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ پسند کیے جائیں۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے، حالانکہ بچوں کے بہت سے دوست ہوتے ہیں، انہیں ایک رہبر یعنی لیڈر چاہیے، ایک ایسا فاصلہ رکھیں کہ وہ آپ سے اپنی ذاتی بات بھی کر سکیں مگر بدتمیزی کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔
دوسرا اصول:
اپنی جہالت کا اعتراف کریں، کوئی بھی بچہ کمزور اور غبی نہیں ہوتا۔ ہمیں ذہین اور کمزور کے فرق کو ختم کرکے ہر بچے کو امّت کی امانت سمجھنا ہے۔ ہم چونکہ صحیح طور پر پڑھا نہیں رہے ہوتے، اسی لیے بچہ کمزور ہی محسوس ہوتا ہے۔
آپ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے پرہیز کریں۔ غبی بچے کو اپنا مرکوزِ توجہ بنائیں، اس پر نئے نئے آئیڈیاز اپنائیں، پیار دیں ، شفقت کا مظاہرہ کریں، بے وجہ انعام سے نوازیں، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ ان شاء اللہ وہ آگے بڑھے گا اور خوب چمکے گا۔
تیسرا اصول:
دوران کلاس بچے جمائیاں لے رہے ہیں یا سو رہے ہیں تو قصوروار بچے نہیں ، آپ ہیں۔ آپ ایک بورنگ ٹیچر ہیں، اپ بچوں سے شور مچا کر ، چیخ کر کام نکلوانے کے عادی ہیں، کلاس کی ابتدا آپ مار پیٹ سے کرتے ہیں۔ لہذا آپ کو خود کو بدلنا ہو گا۔ ہلکے پھلکے انداز میں کلاس کا آغاز کروائیں۔ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے خوب صورت لحن سے نواز ہے تو اپنی آواز میں، وگرنہ سماعتِ قراء سے اپنی کلاس کی ابتدا کریں۔ ابتدا ہی میں بچوں کی درود شریف بآواز بلند پڑھنے کی عادت بنائیں۔ فجر کے وقت سورہ یاسین لازمی پڑھائیں۔ دس سے پندرہ منٹ میں آپ کے بچے فریش نظر آئیں گے ان شاء اللہ۔
چوتھا اصول:
شور مچانے سے پرہیز کریں، چیخیں مت، جتنا ممکن ہو آنکھوں کا استعمال کریں۔ کھیلتے بچے کو پانچ سیکنڈز تک گھور کر دیکھ لینا اس کے لیے کافی ہوگا۔ آپ کی پر اسرار خاموشی آپ کے چیخنے اور چلانے سے زیادہ خوفناک اور موثر ہوگی۔
پانچواں اصول :
اپنی انا کو دروازے پر چھوڑ دیں۔ " یہ بچہ میرے ہی سامنے بیٹھ کر کھیل رہا ہے؟ فلاں بچہ جان بوجھ کر آس پاس دیکھتا ہے اور میرے دیکھتے ہی پڑھنے لگتا ہے؟ یہ بچہ پورا دن چپ کرکے بیٹھتا ہے؟ یہ بچہ پورا دن پڑھتا ہے، یاد کرتا ہے مگر پھر بھی کچھ نہیں سنا رہا؟ فلاں بچہ بار بار چھٹیاں کر رہا ہے؟"
یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کے آگے اساتذہ ہار جاتے ہیں اور اپنی انا کے آگے مار کھا جاتے ہیں ، جس سے ننھے منّے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔
محض انا کی تسکین کے لیے گالیوں اور طعنوں سے شروع ہونے والا سلسلہ پھر تھپڑوں اور گھونسوں تک جا پہنچتا ہے۔