08/05/2022
Tafseer:
Surat No. 65 Ayat NO. 12
سورة الطَّلَاق حاشیہ نمبر :23
اُنہی کے مانند کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اُتنی ہی زمینیں بھی بنائیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں ۔ اور زمین کی قسم سے مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں ، اپنی موجودات کے لیے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں ۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں ، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں ( مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ۔ الشوریٰ ، آیت 29 ، حاشیہ 50 ) ۔ بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بے شمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں ، یہ سب ڈھنڈار پڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں ۔
قدیم مفسرین میں سے صرف ابن عباس ایک ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کائنات میں اس زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے ۔ آج اس زمانے کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے ، کجا کہ 14 سو برس پہلے کے لوگ اسے بآسانی باور کر سکتے ۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہو جائیں ۔ چنانچہ مجاہد کہتے ہیں کہ ان سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر میں اس کی تفسیر تم لوگوں سے بیان کروں تو تم کافر ہو جاؤ گے اور تمہارا کفر یہ ہوگا کہ اسے جھٹلاؤ گے ۔ قریب قریب یہی بات سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر میں تمہیں اس کا مطلب بتاؤں تو تم کافر نہ ہو جاؤ گے ۔ ( ابن جریر ۔ عبد بن حمید ) ۔ تاہم ابن جریر ، ابن ابی حاتم اور حاکم نے ، اور شعب الایمان اور کتاب الاسماء و الصفات میں بیہقی نے ابوالضحٰی کے واسطے سے باختلاف الفاظ ابن عباس کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ : فی کلِّ ارضٍ نبیٌّ کنبیِّکم و اٰدمُ کَاٰدَمَ و نوحٌ کنوح و ابراہیم کا براھیم و عیسیٰ کعیسیٰ ۔ ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا ، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ جیسا ۔ اس روایت کو ابن حجر نے فتح الباری میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے ۔ اور امام ذہبی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے البتہ میرے علم میں ابوالضحٰی کے سوا کسی نے اسے