06/08/2022
میں پہلے بھی لکھ چُکا ہوں کہ صحافیوں کے لیے کُچھ ضابطہ اخلاق ہونا چائیے لیکن اس سوشل میڈیا نے چوڑے چمار بھی صحافی بنا دئیے ہیں جن کو ایک کپ چاے پلائی جائے یا ایک سٹینگ کی بوتل اور خبر لگوا لیں سارا دن لوگوں کی پگڑیاں اُچھالتے ہیں ان کی مائیں گلی محلوں میں مانگ کر ان کو ٹچ فون لے کر دیتی ہیں سالیو ایس ایچ او یا اے سی سرکار کے اپوائنٹیڈ بندے ہوتے ہیں اُن کی بدلی ہونا سرکاری کام ہے لیکن جو بھی بدلی ہو کر جاتا ہے ایسے شور کرتے ہیں کہ ان کی بہن کو طلاق ہو گئی ہے