14/04/2024
موٹر وے اور اعطیاطی تدابیر ۔
تحریر ۔چوہدری عبدالرحمن ۔
میں شعبہ تعمیرات بلڈنگ ٹھیکیداری اور سروسز کے کام سے سے وابستہ ھوں آج سے تقریبا 8سال پہلے مجھے M2 پشاور سے لاھور موٹر وے مختلف سروس ایریا پر کام کرنے کا اتفاق ھوا تو کچھ عجیب سے کارنامے دیکھنے کو ملتے تھے۔سوچا آپ کے ساتھ شعر کر دوں ۔
ملتان سے پشاور یا پشاور سے لاھورکا سفر موٹروے پر چھ سے نو گھنٹے کا ہے اور اس دوران ۔ہر گاڑی کسی نہ کسی سروس ایریا اپنے مخصوص پوائنٹ پر رکتی ھے۔یا کوئی اگر ذاتی گاڑی والا بھی بو اسے بھی رکنا پڑتا ھے۔ چاے وہ ریسٹ ایریا کے لئے رکے یا نماز یا پیٹ پوجا کے لئے۔موٹر وے پر تقریبا ہر سہولت موجود بے ماسوائے روم سروس کے شائد اب وہ بھی شروع بو گئی بو ۔
اب تو کافی عرصہ ھوا سفر کرنا چھوڑا ھوا ھے۔ورنہ آئے روز جانا آنا لگا رہتا تھا۔موٹر وے کو سمجھنے کا سہی موقع تب ملا جب 2015/16 میں PSO سے ہیسکول کو فیولنگ ایریا دیا گیا ۔میرے علم کے مطابق موٹر وے سروس ایریا کا ماحول باہر سے بلکل مختلف ھے وہ اس لئیے گاڑی پر ویپر لگانے والے ھوں گاڑی میں ھوٹل سروس دینے والے یا نمکو ریوڑی بیچنے والےھوں شفٹ کے حساب سے ٹک شاپ ھوٹل اور پمپ پر اپنی جیب سے روزانہ پیسے دے کر وہاں کام کرتے ہیں۔اور پھر بھی انکو اچھی خاصی بچت ھوتی ھے ایک سروس ایریا پر کم و پیش 25 ٹھیکے ھوتے ہیں۔ہر پوئنٹ پر سادہ لوح عوام کو مختلف طریقوں سے لوٹا جاتا ھے۔
ایک مرتبہ کا واقع بتاتا چلوں سیال سروس ایریا پر جب گاڑی نے سٹے کیا تو ایک مسافر اتر کر شاپ پر گیا اور وہاں سے ایک ہاف لیٹر سیون اپ مانگی جو اس نے شائد 60 روپے کی بتائی
اس نے بوتل لینے کے بعد روکاندار کو ایک ہزار روپے کا نوٹ دیا دوکاندار نے بقایا پیسے دیے
جب مسافر نے پیسے گنے تو 790 روپے تھے جبکہ بقایہ 940 بنتے تھے
مسافر نے دوکاندار کو کہا بھائی یہ تو پیسےکم ہے اس نے کہا لاؤ مجھے دکھاؤ
جب مسافر نے اس دوکاندار کو پیسے واپس دیے تو اس نے گن کر مسافر سے معذرت کی اور ساتھ والے لڑکے سے کہا کہ ان کو 940 روپے پورے دو لڑکے نے دراز سے پیسے نکال کر اس کو دیے اور اس نے ان پیسوں میں 170 روپے ڈال کر اسے دے دیے
اس مسافر نے بغیر گنے پیسے والٹ میں ڈال دیئے ۔
ساتھ ٹائر پنکچر والے پاس پہنچا حوا چیک کرائی تو اس نے بھی کام دکھا دیا کہ ٹائر کو کٹ لگا حوا ھے آپکو ٹائر تبدیل کرنا بوگا حالانکہ چاروں ٹائر ایک جیسے اور اچھی حالت میں تھے۔ٹائر تبدیل کیا اپنے دیہاڑی لگائی مسافر اس کو پیسے دینے لگا وائلٹ سے وہ پیسے نکالے تو اس کو حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ نو سو ساٹھ روپے کی جگہ پانچ سو دس روپے نکلے ۔میں یہ سارا ماجرہ روز دیکھتا تھا وہ بندہ واپس اس دوکاندار کے پاس آیا تو تب تک وہاں سے نا کا تھا اور وہاں دوسرا چہرہ موجود تھا وہ مایوس بو کر گاڑی لی اور چلا گیا۔
اس وقت مجھے اس دوکاندار پر بڑا غصہ آیا لیکن غلطی اس مسافر کی تھی کیونکہ اس نے پیسے گنے نہیں تھے۔
تین سال پہلے ھم اسلام آباد سے فیصل آباد موٹر وے پر اپنے کام کے سلسلے بہاولپور جا رھے تھے ھم دو دوست تھے سوچا ایک جاتے ھوئے گاڑی چلاتا جائےگا اور واپسی پر دوسرا چلا لے گا دوپہر کا ٹائم ھوا تو حسب معمول سروس ایریا پر رکنا تھا نماز ظہر کا ٹائم تھا سوچا کہ جس جگہ پر نماز کا ٹائم ہوگا اس جگہ پر ہم گاڑی روک لیں گے
خانیوال سے کچھ کلومیٹر پہلے ھم نے اپنی کار کو ایک سروس ایریا پر روکا۔ ھم نے وہاں پر نماز پڑھی اور کچھ کھایا پیا اور اس کے بعد میں دوسری شاپ پر پانی کی بوتل لینے چلا گیا
اس بھائی نے مجھے بوتل 70 روپے کی بتائی اتفاق سے اس وقت میرے پاس بھی ہزار کا نوٹ تھا میں نے اس کو ہزار روپے کا نوٹ دیا اور اس نے مجھے بقا یا پیسے دیے جب میں نے گنے تو وہ 730 روپے تھے
میں نے دوکاندار کو بتایا کہ اس میں تو دو سو روپیہ کم ہے تو اس نے کہا لاؤ میں گنتا ہوں
جب اس نے یہ الفاظ بولے تو مجھے چھ سال پہلے والا واقعہ یاد آ گیا بارحال میں نے اس کو پیسے دیے اور اس نے گننے کے بعد مجھ سے معذرت کی اور اسی طرح ساتھ لڑکے سے کہا کہ یار دو سو روپیہ تو دو اس نے دو سو روپے اسے دیا اور اس نے ان پیسوں میں دو سو روپیہ ڈال کر مجھے دے دیے جب میں نے پیسے پکڑے تو مجھے کم لگے اور جب میں گننے لگا وہ 930 کی بجائے پانچ سو تیس روپے تھے
اس دکاندار نے جب دیکھا کہ یہ پیسے گن رہا ہے تو اس نے فٹافٹ چار سو روپیہ میرے پاس ہاتھ پر رکھ دیئے اور کہا کہ سر یہ اپنے پیسے پورے کر لے
میرے پاس کھڑا ہوا مسافر یہ سب دیکھ رہا تھا
جب میں شاپ سے پیچھے ہٹا تو وہی مسافر میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سر آج آپ بچ گئے
میں نے کہا کیوں بھائی کیا ہوا تو اس نے کہا سر میرے ساتھ ایسا دو بار ہو چکا ہے یہ ایسے ہی کرتے ہیں
پہلے مسافر کو پیسے کم دیتے ہیں اور پھر واپس لے کر انہیں کے سامنے پیسے ڈال کر آدھے پیسے غائب کر دیتے ہیں اور ان کی ہاتھ کی صفائی ایسی ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اور یہ دیتے بھی بقایا میں سو سو پچاس پچاس والے نوٹ ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو
میں نے کہا سر آپکا شکریہ میں یہ ڈرامے ان کے پہلے کئی مرتبہ دیکھ چکا ھوں اسی لئے میں نے احتیاط برتی
تو اس مسافر نے مجھے بتایا کہ بھائی پچھلی بار جب ہوا تو میں ان کے ساتھ لڑنے لگا لیکن یہ پوری ٹیم کے ساتھ میرے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے اور الٹا مجھے ہی انہوں نے چور کہہ دیا
اس لئے ان کے ساتھ بحث کرنا بھی فضول ہے کوشش یہ کریں کہ جب بھی پیسے لے یا دے تو کوئی احتیاط کریں
آپ لوگوں کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی آپ سفر پر جائے اور جہاں بھی گاڑی سے سٹے کریں موٹر وے پر تو اس بات کا خاص خیال رکھیں۔ یہ تو ایک میں تھا پتا نہیں مجھ جیسے کتنے ہی لوگ ان کا شکار بن جاتے ہیں اور ہزاروں روپے یہ ایسے لوگوں سے لوٹ لیتے ہیں
ذمہ دار اداروں سے گزارش ہے جہاں موٹر وے کے باقی قانوں سخت ہیں تو ان باتوں کا بھی ایکشن لیا جائے تاکہ مسافر محفوظ رہ سکیں
اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو.......آمین