ARCH Architect & Consultant

ARCH Architect & Consultant A Company of Architectural Design
and Construction Consultants

14/04/2024

موٹر وے اور اعطیاطی تدابیر ۔

تحریر ۔چوہدری عبدالرحمن ۔

میں شعبہ تعمیرات بلڈنگ ٹھیکیداری اور سروسز کے کام سے سے وابستہ ھوں آج سے تقریبا 8سال پہلے مجھے M2 پشاور سے لاھور موٹر وے مختلف سروس ایریا پر کام کرنے کا اتفاق ھوا تو کچھ عجیب سے کارنامے دیکھنے کو ملتے تھے۔سوچا آپ کے ساتھ شعر کر دوں ۔
ملتان سے پشاور یا پشاور سے لاھورکا سفر موٹروے پر چھ سے نو گھنٹے کا ہے اور اس دوران ۔ہر گاڑی کسی نہ کسی سروس ایریا اپنے مخصوص پوائنٹ پر رکتی ھے۔یا کوئی اگر ذاتی گاڑی والا بھی بو اسے بھی رکنا پڑتا ھے۔ چاے وہ ریسٹ ایریا کے لئے رکے یا نماز یا پیٹ پوجا کے لئے۔موٹر وے پر تقریبا ہر سہولت موجود بے ماسوائے روم سروس کے شائد اب وہ بھی شروع بو گئی بو ۔
اب تو کافی عرصہ ھوا سفر کرنا چھوڑا ھوا ھے۔ورنہ آئے روز جانا آنا لگا رہتا تھا۔موٹر وے کو سمجھنے کا سہی موقع تب ملا جب 2015/16 میں PSO سے ہیسکول کو فیولنگ ایریا دیا گیا ۔میرے علم کے مطابق موٹر وے سروس ایریا کا ماحول باہر سے بلکل مختلف ھے وہ اس لئیے گاڑی پر ویپر لگانے والے ھوں گاڑی میں ھوٹل سروس دینے والے یا نمکو ریوڑی بیچنے والےھوں شفٹ کے حساب سے ٹک شاپ ھوٹل اور پمپ پر اپنی جیب سے روزانہ پیسے دے کر وہاں کام کرتے ہیں۔اور پھر بھی انکو اچھی خاصی بچت ھوتی ھے ایک سروس ایریا پر کم و پیش 25 ٹھیکے ھوتے ہیں۔ہر پوئنٹ پر سادہ لوح عوام کو مختلف طریقوں سے لوٹا جاتا ھے۔
ایک مرتبہ کا واقع بتاتا چلوں سیال سروس ایریا پر جب گاڑی نے سٹے کیا تو ایک مسافر اتر کر شاپ پر گیا اور وہاں سے ایک ہاف لیٹر سیون اپ مانگی جو اس نے شائد 60 روپے کی بتائی
اس نے بوتل لینے کے بعد روکاندار کو ایک ہزار روپے کا نوٹ دیا دوکاندار نے بقایا پیسے دیے
جب مسافر نے پیسے گنے تو 790 روپے تھے جبکہ بقایہ 940 بنتے تھے
مسافر نے دوکاندار کو کہا بھائی یہ تو پیسےکم ہے اس نے کہا لاؤ مجھے دکھاؤ
جب مسافر نے اس دوکاندار کو پیسے واپس دیے تو اس نے گن کر مسافر سے معذرت کی اور ساتھ والے لڑکے سے کہا کہ ان کو 940 روپے پورے دو لڑکے نے دراز سے پیسے نکال کر اس کو دیے اور اس نے ان پیسوں میں 170 روپے ڈال کر اسے دے دیے
اس مسافر نے بغیر گنے پیسے والٹ میں ڈال دیئے ۔
ساتھ ٹائر پنکچر والے پاس پہنچا حوا چیک کرائی تو اس نے بھی کام دکھا دیا کہ ٹائر کو کٹ لگا حوا ھے آپکو ٹائر تبدیل کرنا بوگا حالانکہ چاروں ٹائر ایک جیسے اور اچھی حالت میں تھے۔ٹائر تبدیل کیا اپنے دیہاڑی لگائی مسافر اس کو پیسے دینے لگا وائلٹ سے وہ پیسے نکالے تو اس کو حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ نو سو ساٹھ روپے کی جگہ پانچ سو دس روپے نکلے ۔میں یہ سارا ماجرہ روز دیکھتا تھا وہ بندہ واپس اس دوکاندار کے پاس آیا تو تب تک وہاں سے نا کا تھا اور وہاں دوسرا چہرہ موجود تھا وہ مایوس بو کر گاڑی لی اور چلا گیا۔
اس وقت مجھے اس دوکاندار پر بڑا غصہ آیا لیکن غلطی اس مسافر کی تھی کیونکہ اس نے پیسے گنے نہیں تھے۔
تین سال پہلے ھم اسلام آباد سے فیصل آباد موٹر وے پر اپنے کام کے سلسلے بہاولپور جا رھے تھے ھم دو دوست تھے سوچا ایک جاتے ھوئے گاڑی چلاتا جائےگا اور واپسی پر دوسرا چلا لے گا دوپہر کا ٹائم ھوا تو حسب معمول سروس ایریا پر رکنا تھا نماز ظہر کا ٹائم تھا سوچا کہ جس جگہ پر نماز کا ٹائم ہوگا اس جگہ پر ہم گاڑی روک لیں گے
خانیوال سے کچھ کلومیٹر پہلے ھم نے اپنی کار کو ایک سروس ایریا پر روکا۔ ھم نے وہاں پر نماز پڑھی اور کچھ کھایا پیا اور اس کے بعد میں دوسری شاپ پر پانی کی بوتل لینے چلا گیا
اس بھائی نے مجھے بوتل 70 روپے کی بتائی اتفاق سے اس وقت میرے پاس بھی ہزار کا نوٹ تھا میں نے اس کو ہزار روپے کا نوٹ دیا اور اس نے مجھے بقا یا پیسے دیے جب میں نے گنے تو وہ 730 روپے تھے
میں نے دوکاندار کو بتایا کہ اس میں تو دو سو روپیہ کم ہے تو اس نے کہا لاؤ میں گنتا ہوں
جب اس نے یہ الفاظ بولے تو مجھے چھ سال پہلے والا واقعہ یاد آ گیا بارحال میں نے اس کو پیسے دیے اور اس نے گننے کے بعد مجھ سے معذرت کی اور اسی طرح ساتھ لڑکے سے کہا کہ یار دو سو روپیہ تو دو اس نے دو سو روپے اسے دیا اور اس نے ان پیسوں میں دو سو روپیہ ڈال کر مجھے دے دیے جب میں نے پیسے پکڑے تو مجھے کم لگے اور جب میں گننے لگا وہ 930 کی بجائے پانچ سو تیس روپے تھے
اس دکاندار نے جب دیکھا کہ یہ پیسے گن رہا ہے تو اس نے فٹافٹ چار سو روپیہ میرے پاس ہاتھ پر رکھ دیئے اور کہا کہ سر یہ اپنے پیسے پورے کر لے
میرے پاس کھڑا ہوا مسافر یہ سب دیکھ رہا تھا
جب میں شاپ سے پیچھے ہٹا تو وہی مسافر میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سر آج آپ بچ گئے
میں نے کہا کیوں بھائی کیا ہوا تو اس نے کہا سر میرے ساتھ ایسا دو بار ہو چکا ہے یہ ایسے ہی کرتے ہیں
پہلے مسافر کو پیسے کم دیتے ہیں اور پھر واپس لے کر انہیں کے سامنے پیسے ڈال کر آدھے پیسے غائب کر دیتے ہیں اور ان کی ہاتھ کی صفائی ایسی ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اور یہ دیتے بھی بقایا میں سو سو پچاس پچاس والے نوٹ ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو
میں نے کہا سر آپکا شکریہ میں یہ ڈرامے ان کے پہلے کئی مرتبہ دیکھ چکا ھوں اسی لئے میں نے احتیاط برتی
تو اس مسافر نے مجھے بتایا کہ بھائی پچھلی بار جب ہوا تو میں ان کے ساتھ لڑنے لگا لیکن یہ پوری ٹیم کے ساتھ میرے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے اور الٹا مجھے ہی انہوں نے چور کہہ دیا
اس لئے ان کے ساتھ بحث کرنا بھی فضول ہے کوشش یہ کریں کہ جب بھی پیسے لے یا دے تو کوئی احتیاط کریں
آپ لوگوں کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی آپ سفر پر جائے اور جہاں بھی گاڑی سے سٹے کریں موٹر وے پر تو اس بات کا خاص خیال رکھیں۔ یہ تو ایک میں تھا پتا نہیں مجھ جیسے کتنے ہی لوگ ان کا شکار بن جاتے ہیں اور ہزاروں روپے یہ ایسے لوگوں سے لوٹ لیتے ہیں
ذمہ دار اداروں سے گزارش ہے جہاں موٹر وے کے باقی قانوں سخت ہیں تو ان باتوں کا بھی ایکشن لیا جائے تاکہ مسافر محفوظ رہ سکیں
اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو.......آمین

14/04/2024

موٹر وے اور اعطیاطی تدابیر ۔

تحریر ۔چوہدری عبدالرحمن ۔

آج سے 8سال پہلے مجھے M2 پشاور سے لاھور موٹر وے مختلف سروس ایریا پر کام کرنے کا اتفاق ھوا تو کچھ عجیب سے کارنامے دیکھنے کو ملتے تھے۔سوچا آپ کے ساتھ شعر کر دوں ۔
ملتان سے پشاور یا پشاور سے لاھورکا سفر موٹروے پر چھ سے نو گھنٹے کا ہے اور اس دوران ۔ہر گاڑی کسی نہ کسی سروس ایریا اپنے مخصوص پوائنٹ پر رکتی ھے۔یا کوئی اگر ذاتی گاڑی والا بھی بو اسے بھی رکنا پڑتا ھے۔ چاے وہ ریسٹ ایریا کے لئے رکے یا نماز یا پیٹ پوجا کے لئے۔موٹر وے پر تقریبا ہر سہولت موجود بے ماسوائے روم سروس کے شائد اب وہ بھی شروع بو گئی بو ۔
اب تو کافی عرصہ ھوا سفر کرنا چھوڑا ھوا ھے۔ورنہ آئے روز جانا آنا لگا رہتا تھا۔موٹر وے کو سمجھنے کا سہی موقع تب ملا جب 2015/16 میں PSO سے ہیسکول کو فیولنگ ایریا دیا گیا ۔میرے علم کے مطابق موٹر وے سروس ایریا کا ماحول باہر سے بلکل مختلف ھے وہ اس لئیے گاڑی پر ویپر لگانے والے ھوں گاڑی میں ھوٹل سروس دینے والے یا نمکو ریوڑی بیچنے والےھوں شفٹ کے حساب سے ٹک شاپ ھوٹل اور پمپ پر اپنی جیب سے روزانہ پیسے دے کر وہاں کام کرتے ہیں۔اور پھر بھی انکو اچھی خاصی بچت ھوتی ھے ایک سروس ایریا پر کم و پیش 25 ٹھیکے ھوتے ہیں۔ہر پوئنٹ پر سادہ لوح عوام کو مختلف طریقوں سے لوٹا جاتا ھے۔
ایک مرتبہ کا واقع بتاتا چلوں سیال سروس ایریا پر جب گاڑی نے سٹے کیا تو ایک مسافر اتر کر شاپ پر گیا اور وہاں سے ایک ہاف لیٹر سیون اپ مانگی جو اس نے شائد 60 روپے کی بتائی
اس نے بوتل لینے کے بعد روکاندار کو ایک ہزار روپے کا نوٹ دیا دوکاندار نے بقایا پیسے دیے
جب مسافر نے پیسے گنے تو 790 روپے تھے جبکہ بقایہ 940 بنتے تھے
مسافر نے دوکاندار کو کہا بھائی یہ تو پیسےکم ہے اس نے کہا لاؤ مجھے دکھاؤ
جب مسافر نے اس دوکاندار کو پیسے واپس دیے تو اس نے گن کر مسافر سے معذرت کی اور ساتھ والے لڑکے سے کہا کہ ان کو 940 روپے پورے دو لڑکے نے دراز سے پیسے نکال کر اس کو دیے اور اس نے ان پیسوں میں 170 روپے ڈال کر اسے دے دیے
اس مسافر نے بغیر گنے پیسے والٹ میں ڈال دیئے ۔
ساتھ ٹائر پنکچر والے پاس پہنچا حوا چیک کرائی تو اس نے بھی کام دکھا دیا کہ ٹائر کو کٹ لگا حوا ھے آپکو ٹائر تبدیل کرنا بوگا حالانکہ چاروں ٹائر ایک جیسے اور اچھی حالت میں تھے۔ٹائر تبدیل کیا اپنے دیہاڑی لگائی مسافر اس کو پیسے دینے لگا وائلٹ سے وہ پیسے نکالے تو اس کو حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ نو سو ساٹھ روپے کی جگہ پانچ سو دس روپے نکلے ۔میں یہ سارا ماجرہ روز دیکھتا تھا وہ بندہ واپس اس دوکاندار کے پاس آیا تو تب تک وہاں سے نا کا تھا اور وہاں دوسرا چہرہ موجود تھا وہ مایوس بو کر گاڑی لی اور چلا گیا۔
اس وقت مجھے اس دوکاندار پر بڑا غصہ آیا لیکن غلطی اس مسافر کی تھی کیونکہ اس نے پیسے گنے نہیں تھے۔
تین سال پہلے ھم اسلام آباد سے فیصل آباد موٹر وے پر اپنے کام کے سلسلے بہاولپور جا رھے تھے ھم دو دوست تھے سوچا ایک جاتے ھوئے گاڑی چلاتا جائےگا اور واپسی پر دوسرا چلا لے گا دوپہر کا ٹائم ھوا تو حسب معمول سروس ایریا پر رکنا تھا نماز ظہر کا ٹائم تھا سوچا کہ جس جگہ پر نماز کا ٹائم ہوگا اس جگہ پر ہم گاڑی روک لیں گے
خانیوال سے کچھ کلومیٹر پہلے ھم نے اپنی کار کو ایک سروس ایریا پر روکا۔ ھم نے وہاں پر نماز پڑھی اور کچھ کھایا پیا اور اس کے بعد میں دوسری شاپ پر پانی کی بوتل لینے چلا گیا
اس بھائی نے مجھے بوتل 70 روپے کی بتائی اتفاق سے اس وقت میرے پاس بھی ہزار کا نوٹ تھا میں نے اس کو ہزار روپے کا نوٹ دیا اور اس نے مجھے بقا یا پیسے دیے جب میں نے گنے تو وہ 730 روپے تھے
میں نے دوکاندار کو بتایا کہ اس میں تو دو سو روپیہ کم ہے تو اس نے کہا لاؤ میں گنتا ہوں
جب اس نے یہ الفاظ بولے تو مجھے چھ سال پہلے والا واقعہ یاد آ گیا بارحال میں نے اس کو پیسے دیے اور اس نے گننے کے بعد مجھ سے معذرت کی اور اسی طرح ساتھ لڑکے سے کہا کہ یار دو سو روپیہ تو دو اس نے دو سو روپے اسے دیا اور اس نے ان پیسوں میں دو سو روپیہ ڈال کر مجھے دے دیے جب میں نے پیسے پکڑے تو مجھے کم لگے اور جب میں گننے لگا وہ 930 کی بجائے پانچ سو تیس روپے تھے
اس دکاندار نے جب دیکھا کہ یہ پیسے گن رہا ہے تو اس نے فٹافٹ چار سو روپیہ میرے پاس ہاتھ پر رکھ دیئے اور کہا کہ سر یہ اپنے پیسے پورے کر لے
میرے پاس کھڑا ہوا مسافر یہ سب دیکھ رہا تھا
جب میں شاپ سے پیچھے ہٹا تو وہی مسافر میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سر آج آپ بچ گئے
میں نے کہا کیوں بھائی کیا ہوا تو اس نے کہا سر میرے ساتھ ایسا دو بار ہو چکا ہے یہ ایسے ہی کرتے ہیں
پہلے مسافر کو پیسے کم دیتے ہیں اور پھر واپس لے کر انہیں کے سامنے پیسے ڈال کر آدھے پیسے غائب کر دیتے ہیں اور ان کی ہاتھ کی صفائی ایسی ہے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اور یہ دیتے بھی بقایا میں سو سو پچاس پچاس والے نوٹ ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو
میں نے کہا سر آپکا شکریہ میں یہ ڈرامے ان کے پہلے کئی مرتبہ دیکھ چکا ھوں اسی لئے میں نے احتیاط برتی
تو اس مسافر نے مجھے بتایا کہ بھائی پچھلی بار جب ہوا تو میں ان کے ساتھ لڑنے لگا لیکن یہ پوری ٹیم کے ساتھ میرے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے اور الٹا مجھے ہی انہوں نے چور کہہ دیا
اس لئے ان کے ساتھ بحث کرنا بھی فضول ہے کوشش یہ کریں کہ جب بھی پیسے لے یا دے تو کوئی احتیاط کریں
آپ لوگوں کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جب بھی آپ سفر پر جائے اور جہاں بھی گاڑی سے سٹے کریں موٹر وے پر تو اس بات کا خاص خیال رکھیں۔ یہ تو ایک میں تھا پتا نہیں مجھ جیسے کتنے ہی لوگ ان کا شکار بن جاتے ہیں اور ہزاروں روپے یہ ایسے لوگوں سے لوٹ لیتے ہیں
ذمہ دار اداروں سے گزارش ہے جہاں موٹر وے کے باقی قانوں سخت ہیں تو ان باتوں کا بھی ایکشن لیا جائے تاکہ مسافر محفوظ رہ سکیں
اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو.......آمین

13/04/2024

مدد کے بدلے نقصان ۔

1960 کی دہائی میں جرمن جیل میں یہ واقعہ پیش آیا ، قیدیوں کو جیل کے گارڈز کی طرف سے ظلم اور ہر لحاظ سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا تھا -
قیدیوں میں ایک شمٹ نامی قیدی بھی شامل تھا جس کو طویل مدت تک ( یعنی عمر قید ) کے لیے سزا سنائی گئی تھی لیکن جیل اس قیدی کو باقی سب قیدیوں سے میں اچھی مراعات مل رہی تھیں اور محافظ اس کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا کرتے تھے -
جس کی وجہ سے باقی قیدی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ ان محافظوں کا ایک ایجنٹ ہے - شمٹ نے قیدیوں کو یقین دلانے کے لیے حلف اٹھایا کہ وہ ان جیسا ہی ایک قیدی ہے اور اس کا سیکیورٹی سروسز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

"لیکن کسی نے بھی اس کی بات پر یقین نہ کیا ، چنانچہ قیدیوں نے کہا ، "ہم جاننا چاہتے ہیں کہ جیل کے محافظ آپ کے ساتھ ہم سے مختلف سلوک کیوں کرتے ہیں؟"

شمٹ نے قیدیوں سے کہا: "ٹھیک ہے ، مجھے یہ بتائیں کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ہفتہ وار جو خطوط لکھتے ہیں اس میں کیا لکھ کر بھیجتے ہیں؟"
سب نے ایک زبان ہوکر کہا: " ہم ان لعنتی محافظوں کے ہاتھوں جیل میں ہم پر ہونے والے ظلم اور زیادتی کی داستان کے بارے میں لکھتے ہیں-"

شمٹ نے قیدیوں کو جواب میں کہا: میں ہر ہفتے اپنی بیوی کو خط لکھتا ہوں اور خط کی آخری سطروں میں جیل کے محافظوں اور محسنوں اور ان کے حسن سلوک کا ذکر کرتا ہوں اور بعض اوقات اپنے خطوط میں کچھ محافظوں کے نام بھی لکھ دیتا ہوں اور ان کی تعریف بھی کردیتا ہوں.
قیدیوں نے شمٹ کو جواب دیا: اس سب کا کیا لینا دینا جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ یہاں بہت ظلم کیا جاتا ہے؟
شمٹ نے کہا کہ جیل کے زمہ داران ہمارے تمام خطوط اور پیغامات جیل سے اس وقت تک باہر نہیں بھیجے جاتے جب تک کہ محافظ ان خطوط کو خود پڑھ نہ لیں اور اس طرح وہ ہر چھوٹی بڑی بات کا پتہ لگا لیتے ہیں اور خطوط میں درج باتوں کو بدل بھی دیتے ہیں -

اگلے ہفتے قیدیوں کو یہ دیکھ کر حیرت سے شدید دھچکا لگا کہ تمام جیل گارڈز نے قیدیوں کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ بدترین سلوک کیا ، حتی کہ شمٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا اور اس کے ساتھ جیل کا عملہ نہایت سختی سے پیش آیا ۔
کچھ دن بعد شمٹ نے قیدیوں سے پوچھا: تم نے اس ہفتے کے خطوط میں ایسا کیا لکھ دیا تھا ؟

سب نے جواب میں کہا : ہم نے لکھا تھا کہ شمٹ نے ہمیں ملعون محافظوں کو دھوکہ دینے اور ان کا اعتماد اور یقین حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ سکھایا ہے کہ اپنے خط کے اندر محافظوں کی جھوٹی تعریف کیا کرو آپ کو بھی رعایت مل جایا کرے گی -
یہ سن کر شمٹ نے دکھ کے مارے اپنے منہ گال پیٹ لیے اور اپنے بال پاگلوں کی طرح نوچنے شروع کردیے…

اس لییے کہتے ہیں دوسروں کی مدد کرنا اچھی بات ہے، لیکن یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ آپ جس شخص سے بات کر رہے ہیں وہ کس فطرت کا مالک ہے؟۔جرمن ادب ۔۔

علم۔ادب سے۔

تحریر: چوہدری عبدالرحمن

13/04/2024

محکمے کیسے وجود میں آئے۔
تحریر ۔چوہدری عبدالرحمن۔

کسی ملک کا بادشاہ شکار کیلئے جا رہا تھا کہ اس کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ نہر سے پانی پی رھے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا یہاں صاف پانی کی سہولت میسر نئی تو بتایا گیا اس کا پی سی ون تیار کیا جارہا ھے جلد آپکو پیش کر دیا جائے گا ۔
بادشاہ سلامت نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے کوئی جانی نقصان نہ ھو ۔تا کی ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے۔ بادشاہ سلامت یہ کہہ کر اپنیے سفر پر آگے کی طرف چل نکلے۔*یہ ڈیوٹی مشیر خاص کے ذمہ سونپ دی گئی۔ مشیر خاص نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے بوے مختلف سپلائیرز سے اسٹیمیٹ لئیےجس کی کوالٹی اچھی اور قیمت مناسب تھی اس کمپنی سے گھڑا منگوا کر رکھ دیا گیا ۔
*مشیر خاص کے سیکٹری نے مشورہ دیا حضور شاہی امانت کی حفاظت ھم پر فرض ھے اس کی دیکھ بھال کے لئیے ایک ذمہ دار سنتری کا ھونا ضروری ھے عوامی دولت سے یہ گھڑا خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے مشیر خاص نے شاباش دی اور کام جاری رکھنے کا آڈر دے دیا*

*سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ آٹھ سنتری اور آٹھ ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔*

*ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلئے آٹھ باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔*

*ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا شعبہ بنانا ہوگا، ۔*
*ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔*

*ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔*ایک معزز ممبر نے سب کی توجہ حاصل کرتے ھوے جناب علی ہر نیک کام میں رکاوٹیں آتی ہیں جھگڑے اور بیماری ساتھ ساتھ ھوتی صحت کا شعبہ ھونا ضروری ھے ۔ایک ماہر امراض کا شعبہ بھی بنا دیا گیا۔حسب معمول دھوبی گھاٹ ،نائی اور موچی کے کھوکھے بنا دے گئے۔

*ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔*

*سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنالوں پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آرھی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت امور تحفظ برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔*

*بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے باہر تختی پر اس کے القابات ۔ ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔*

*بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے مشیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔*

*بادشاہ کے مشیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئیے کیا گیا۔ جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔*

*بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو نسب کرنے کا حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:*

*"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلئے اپنے عطیات جمع کرائیں

۔ منجانب ۔
وزارت امور تحفظ برائے گھڑا"*

11/04/2024

مصنوعی کلچر۔

تحریر ۔چوہدری عبدالرحمن۔

مجھے پاکستان کے اندر سفر کرتے 32سال اور اسلام آباد میں 28 سال سے زیادہ عرصہ ھونے کو ھے میرا کام 1996 سے گھروں کی چھوٹی موٹی مرمت سے مکانوں کی تعمیرات اور منہ متھہ اور گھروں کے علاوہ ھوٹلز پارک پلازے وغیرہ کو خوب صورت بنانے کا ھے کئی سفارتخانے و اعلی درجے کے اداروں سے لے بڑے بڑے عہدے والے حاضر اور ریٹائرڈ آفیسروں کے علاوہ نسل در نسل بیرون ملک خاندانوں سے ملنے کا شرف ھوتا ھے جن میں کئی خاندانوں کی اب تیسری نسل بھی میرے ساتھ منسلک ھے جو میرے کام اور اعتماد کی سند ھے الحمداللہ ۔
ان گھروں دفتروں کے علاوہ اکسر نجی محفلوں پر بھی چلا جاتا ھوں ۔میں اکثر ان بڑے بڑے عہدے والوں بابوں سے جب ملتا ھوں ان کو اپنی زبان میں بات کرتے دیکھتا تو مجھے بہت اچھا لگتا ھے اور حیرت بھی ھوتی ھے ۔پھر میں بھی ان کے ساتھ اپنی مادری زبان بولنے کو ترجہی دیتا ھوں جو ایک ٹوٹی پھوٹی سرائیکی ٹچ پنجابی زبان ھے ۔انتہائی مجبوری سے اردو بولنا پڑے تو بولتا ھوں اور وہ بھی بعد میں سوچتا ھوں آس کی بھی ضرورت نئی تھی۔
وہ اس لئیے ہر پاکستانی جب گانا ،قوالی اور نعت کو پنجابی میں سن سکتا بے گالی دے اور سمجھ سکتا ھے اسکو سمجھ آسکتی بے تو پھر یہ ڈوغلی ڈرامے بازی کی کیا ضرورت تھی سیدھی( ٹھوک) پنجابی۔حیرت اس بات پر ھے جب آپ کسی ھوٹل پر جاتے ہیں وہاں جب ہمیں کھانے کی فہرست پیش کی جاتی ھے تو وہ انگریزی میں کیوں لکھی ھوتی ھے۔ ۔
ویٹر ہم سے کھانے کا ارڈر لینے آتا ھے تو پاکستانی ھوتا ھے خد اردو پنجابی بول رہا ھوتا ھے۔
پچھلے سال کی بات ھے میں گرمیوں میں اپنی معمول کی عادت کے مطابق اپنے سالانہ ٹورز پر نکلا جو بہت لمبا ھوتا ھے میں نے چند ایک پوائنٹ تاڑے ھوئے ہیں جو اسلام آباد کے گردونواح کے گلیات اور ہزارہ میں آتے ہیں جدھر ہر سال نہانے کے لئیے جاتا ھوں اور ہمیشہ اکیلا جاتا بوں وہ اکیلا سفر مجھے سکون دیتا ھے ۔ کھانے کا ٹائم ھوا تو ایک ھوٹل پر موٹر سائیکل روکا کیونکہ نہانے کے بعد بھوکھ زیادہ لگتی ھے۔
تو ویٹر نے مجھ سے اردو میں پوچھا کہ اپ کا کیا ارڈر ہے۔۔میں نے اسے پنجابی میں جواب دیا تیرے کول تیار کی ھے۔۔۔۔اس طرح باقی لوگ بھی انگریزی میں رقم کردہ فہرست کا ارڈر اردو میں ہی دے رہے تھے۔ مجھے یہ بات انتہائی معیوب لگی تو میں ہاتھ دھونے کے بعد مینیجر کے پاس شکایت کی صورت مخاطب بوا اور ان سے کہا کہ( اے ھوٹل کدوں تو چلا رھے ھو؟ جواب ملا دادے دے ویلے تو ) اس وقت میں اپ سے پنجابی میں مخاطب ھوا تو آپ نے انتہائی مناسب پنجابی لہجے میں کہا دادے دے ویلےتوں۔۔اور یہاں جتنے بھی لوگ ھوٹل ،ریسٹورنٹ میں موجود ہیں یہ بھی سو فیصد اردو اور پنجابی بول رہے ہیں۔چائے یہ کسی صوبے سے ہیں تو کیا اپ کھانوں کی فہرست اردو میں نہیں لکھ سکتے تھے۔ اگر اپ نے انگریزی لکھنی بھی تھی تو پہلے ایک طرف اردو لکھتے اور دوسری طرف انگریزی۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا اپ چائینہ' ترکی' ایران' فرانس' جرمنی ' کوریا' اٹلی دنیا کے دو سو ممالک میں جائیں کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ ممالک اپنے کھانوں کی فہرست اپنی عوام کی زبان میں نہ لکھیں؟ مینیجر ایک سلجھا ہوا انسان اور خوش اخلاق شخصیت کا مالک تھا یا پھر اس موقع پر اس نے غنیمت سمجھا کہ اس ٹائم اس سے جان چھڑانے کا طریقہ ھے ہاں دے ہاں ملا لو کون سا اس نے دوبارہ آنا ھے ۔ اس نے کہا کہ سر اپ نے بہت اچھی بات کی ہے کسی نے بھی اج تک ہماری توجہ اس طرف نہیں دلائی۔لیکن اپ کی بات میں بہت وزن ہے ۔اپ اپنی تحریری شکایت ہماری نوٹ بک میں لکھ کر جائیں ۔اس مینیجر کو میں نے اپنا اور اپنے شعبے کا تعارف کروایا۔پہلے تو انہوں نے بہت اچھی سروس دی ساتھ بل میں خاص ڈسکونٹ بھی بخشا ۔
میں نے ان سے گزارش کہ اپ پاکستان کے سب سے خوبصورت سیاحتی ایریا میں بیٹھے ہیں جناب آپ پاکستانی اردو زبان کو عالمی شناخت کروائیں نہ کہ غلامی کی زبان کی۔ یہاں آپ کے ہوٹلوں میں سو فی صد پاکستانی اتے ہیں ۔ یہ پاکستانی اپنی زبان رکھتے ہیں گونگے نہیں ہیں۔ کیا اپ کے ہوٹل میں صرف امریکہ و برطانیہ ہی کے گاہک اتے ہیں؟ ہمیں تو یہاں کوئی امریکی اور برطانوی نظر نہیں آیا۔۔پھر کیا اپ کی غلامی کی زبان میں رقم کردہ اس فہرست کو کیا ترکی' فراث' جاپان' جرمن' چین ' ایران' کا باشندہ بھی پڑھ سکے گا؟
یہ مذکورہ بالا تمام ممالک تو پاکستانیوں کے لئے اپنا پیغام پاکستانیوں کی زبان میں رقم کرتے ہیں ۔کیونکہ انہیں علم ہے کہ پاکستانیوں کی زبان اردو ہے۔ اور وہ پاکستانیوں سے موثر ابلاغ کے لئے اردو میں مخاطب ہوتے ہیں۔ تم کم اذکم ان ہی کی پیروی کرلو!
مینجر نے میری شکایات سنیں ' اور متعلقہ احکام تک پہنچانے کا وعدہ کیا۔ ھم سب کو چائیے ہر فورم پر ہوٹلز سمیت ہر ریستوران میں نفاذ اردو کا یہ پیغام ضرور دیں۔کیونکہ ھم کسی نہ کسی مسلک سے ضرور جڑے ھوے ہیں جب ھم یہی عوام مجلس، محفل ،موسیقی،جیسے پروگراموں میں سب کچھ سمجھ رھے ھوتے ہیں تو پھر ختم کریں اس مصنوعی کلچر کو اور آئیں اپنے کلچر کی شان بڑھائیں۔اور اپنی بابوں والی زبان کو ترجیع دیں۔۔۔۔۔

15/03/2024

313 مستحق افراد کی رجسٹریشن کرنی ھے 25 رمضان تک۔
پلیٹ فارم حاضر ھے۔
اپنا نام ۔شناختی کارڈ نمبر ،تعلیم، ہنر۔شعبہ۔بتانا لازمی ھو گا۔
غلط کمنٹس کرنے سے اجتناب کریں شکریہ۔

05/09/2023

ویلڈنگ،پلمبر،الیکٹرک، Ac.گیزر۔ کارپینٹر,رنگ پینٹ,پالش،اور مکمل رینیویشن۔کے لئے۔
ھوم۔مینٹیننس سروس اسلام آباد ۔ 03276501240۔

05/05/2023

آرچ آرکیٹکٹ ایک سکیم لایا اسلام آباد اور راولپنڈی میں ۔
چمن در ۔
4 سالہ قسطوں پر مکان 2مرلہ 3 مرلہ 4 مرلہ اور 5 مرلہ یہ سکیم کرایہ دار اور بے گھر لوگوں کے لیئے ھے جہاں گیس بجلی پانی کی سہولت موجود بہترین لوکیشن اور میں لہتراڑ روڑ سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ۔۔
بکنگ کی آخری تاریخ 10 مئی 2023 ھے۔
یہ ذاتی زمیں ھے جسکی رجسٹری انتقال ھے آج ھی بکنگ کریں عرصہ ½2 اڑھائی سال میں اپنے گھر میں شفٹ ھو جائیں اور باقی قسطیں کرائے کی صورت میں ادا کریں۔
رابطہ وٹس ایپ پر کریں
03335220579

14/04/2023

مکان اور دوکان آسان اقساط پر خریدیں ۔

ترلائی کلاں لہتراڑ روڑ اسلام آباد میں 2مرلہ،3 مرلہ 4 مرلہ۔ سنگل و ڈبل سٹوری مکان🏨
اور
،دوکان سائز 10×20 =7×10۔ بیسمنٹ گراؤنڈ اور میزنائن فلور۔۔۔
فلیٹ سنگل و ڈبل بیڈ روم 3 سال تک کی قسطوں پر حاصل کریں۔رجسٹری انتقال کے ساتھ ۔
آیڈونس بکنک جاری ھے ۔

ایڈجسٹمنٹ آپشن بھی موجودہ ھے۔

۔03335220579 وٹس ایپ پر رابطہ کریں ۔

13/04/2023

اسلام آباد میں مکان قسطوں پر۔

میں 2مرلہ،3 مرلہ ،4 مرلہ۔ سنگل و ڈبل سٹوری مکان🏨 خریدیں آسان اقساط پر۔
یا
،دوکان سائز 10×20 =7×10۔ بیسمنٹ گراؤنڈ اور میزنائن فلور۔۔

اگر فلیٹ پسند ھو تو۔

سنگل بیڈ ، ڈبل بیڈ روم 3 سال کی قسطوں پر حاصل کریں -پانی ،گیس اور بجلی کی سہولیت کے ساتھ۔

آیڈونس بکنک جاری ھے

۔03335220579 وٹس ایپ پر رابطہ کریں ۔

09/02/2023

مکانوں کی چھت، پانی کی ٹینکی اور بنیادوں میں لیکج سیپج سے نجات کے لئے واٹر پروفنگ کا کام ھم گارنٹی سے کرتے ہیں03465282945۔

Address

2nd Floor Gulab Plaza Main Lathrar Road Gori Garden Islamabad
Islamabad
44000

Telephone

+923335220579

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARCH Architect & Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ARCH Architect & Consultant:

Share