01/08/2025
کریر ۔۔ کریل۔۔کرینہہ ۔۔۔کری, ڈیلا پھل, کیپربیری
اس کی جڑ کر اصل الکبر کہتے ہیں,
اور انگریزی نام Caper berry,
لاطینی میں CAPRIS APNYLLA
صحرائی, دریاوں کے کناروں میں ریت کے ٹیلوں اور ٹیلوں کے درمیانی سخت زمین پر بکثرت ملنے والا جنگلی خادار جھاڑی نما درخت ھے, جس کی شاخوں پر باریک پتے لگتے ہیں جو جلد جھڑ جاتے ہیں, اور پورا درخت بے برگ معلوم ہوتا ہے, اور پرانے قبرستانوں میں بھی پایا جاتا ھے -
پختہ پھل سرخ مست رنگ والا ملائم اور میٹھا ہوتا ہے جو کہ مزاج میں معتدل ہے جب کہ بعض حکماء گرم خشک کہتے ہیں
مزاج جڑ پوست گرم خشک
اصلاح انیسوں و کلیمن
مضر مثانہ و گردہ
بدل ہینگ سکنجبین
مقدار خوراک دو ماشہ سے دس ماشہ
ہند و پاکستان دور دراز علاقوں میں بہت پایا جاتا ہے, پاکستانیوں کی راے میں یہ نڈر بےباک اور ضدی درخت ہے اس کو جتنا کاٹو اتنا پھیلتا ہے, یہ خزان اور خشک سالی کا مقابلہ جرات مندی سے کرتا ہے, اسی وجہ سے سالہا سال تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی تندرست و توانا رہتا ہے, اور بارہ ماہ سرسبز شاداب سدابہار درخت ہے, فروری مارچ میں شنگرفی رنگ کے پھول گچھوں کی صورت میں لگتے ہیں, جس سے جھاڑی سرخ دکھائ دیتی ہے,
درخت کا تنا کھردرا اور دھاریوں والا ہوتا ہے
مون سون کی بارشوں کے بعد اس پر جوبن ھوتا ھے اور اس کے پھول دلکش منظر کی طرح عجب بہار دکھاتے ہیں, پھول کے اندر ایک مائع شکل پانی یا رس کا قطرہ ہوتا ہے جو انتہائی میٹھا ہوتا ہے, بچے جوان بوڑھے پھولوں کی مٹھاس حاصل کرنے کیلیے شوق سے چوستے ہیں مرغوب غذا ہے, راقم کا میرا زاتی آزمودہ تجربہ و مشاہدہ ہے,
اس کی کلیوں اور پھولوں کی سالن بھی لوگ کھاتے ہیں جو کہ کھایا ہے, کچھ عرصہ بعد انہی پھولوں کی جگہ پھل لگ جاتا ہے جس کو عرف عام میں ڈیلا کہتے ہیں, کچا پھل سبز رنگ کا اس کو چبانے سے منہ کا ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے, تخم یہ تلخ ہوتا ہے, مرچ سیاہ سے لیکر بیر تک بڑا ہوتا ہے
اس کے نیم پختہ پھل سے سالن اور اچار بنایا جاتا ہے, پہلے اس کی کڑواہٹ دور کی جاتی ہے اور گلایا جاتا ہے, جو نہایت لذیذ اور ہاضمہ میدہ ھے اور ادھ کھلی کلیوں کا سالن بنایا جاتا ھے جو بھرپور غذا ہے بلکہ درد مفاصل اور نقرس کے بھی انتہائی مفید ہے, جھکی کمر اور گھٹنوں کے درد میں کڑوی سالن کھاتے ہیں,
اسکے پھولوں سے حاصل کردہ شہد بہت عمدہ اور لطیف ہوتا ھے, اور اکثر چھوٹے شہد کے چھتے اس کریر کے درخت کی جھاڑی میں پائے جاتے ہیں,
کچھ اطباء کریر کو کبر کا مترادف کہتے ہیں, لیکن اس کا پھول سفید رنگ کا ہوتا ہے,
کریر کے پھول کونپلیں لکڑی اور پوست دواوں میں مستعمل ہے,
افعال اور استعمال کریر کے فوائد
محلل اورام ہے, رسولیوں کیلیے اور ورم تو یقیناً عظم تلی اور جگر پر 100% کام مفید ہے, کھانے اور لیپ کے لیے,
اس کا پھل ڈیلے پختہ مقوی باہ اور اعادہ شباب کیلیے پانچ دانہ روزآنہ کھانے سے گردہ و مثانہ کی طاقت اور مردانگی میں اضافہ, اگر مرد و عورت نے جوانی قوت دیکھنی ہو تو اس درخت کا پکا پھل ڈیلے کھا کر دیکھین, بے شمار فوائد ہیں, ایک مقولہ ہے ایک بوڑھے عربی نے حسرت سے کہا ہاے کاش جوانی کبھی لوٹ آتی, میرے خیال میں اس کو ڈیلے نہیں ملے ؤرنہ حسرت کا اظہار نہ کرتا,
یہ پھل وحشت اور جنون کو زائل کرتا ہے,حواس اور زہین کو قوی کرتا ہے,
اس کا روغن بنا کر خارش اور زخموں کیلیے,
پھل کریر اور جڑ کے پوست سے حاذق حکماء تانبہ کا کشتہ بھی بناتے ہیں,دیگر فوائد سفوف اجملی
یہ سفوف دمہ, نزلہ کھانسی, اعصابی کمزوری, جسمانی دردوں, آپریش کے بعد کے درد, گینگرین, گندے پھوڑوں اور زخموں کے لیے کامیابی سے مفید ہے,
درخت کری یا کریر کی شاخوں کا قیمہ بنا کر توےّ آہنی پر کوئلہ بنا کر محفوظ کر لیں,
مقدار خوراک ایک ماشہ صبح دوپہر, اور شام دودھ کے ہمراہ خالی معدہ دیں,
یہ سفوف دمہ, نزلہ, کھانسی, اعصابی کمزوری اور جسمانی درد, اپریشن کے بعد کے درد, گینگرین, گندے پھوڑوں اور زخموں کیلیے کامیابی کے ساتھ عرصہ دراز سے زیر عمل ہے, سے
یہ ہر قسم کے عظم اعضاء, ورم, تلی کا بڑھ جانا, عظم جگر, اور سرد قسم کے تمام اورام, خصوصاً نمونیا میں پھیپھڑوں کا ورم, ان کو تحلیل کرنے کے لیے مفید و موثر ہے,
اجزاء کریر کی نرم کونپلیں خشک شدہ, رائی, تخم مولی, گوگل, اشق, ہم وزن کوٹ کر پاریک سفوف بنائیں, بڑے کیپسول 1000 ملی گرام والے بھر لیں, ایک سے دو کپسول,
مقدار خوراک ایک ماشہ سے تین ماشہ ہمراہ پانی دن میں تین بار
کریر کی جڑ کا سفوف جادوائی اثر کا حامل ہے, رائی کے ساتھ ملا کر عظم طحال اور عظم جگر پر لیپ کرتے ہیں, کھلانے کے لیے 5-10 ماشہ روزآنہ تلی و جگر کو مجرب ہے
پوست جڑ کبر اور رائی برابر وزن ملا کر سفوف بنائیں اور حسب عمر و طاقت دو سے دس ماشہ تک روزانہ کھلانا بڑھی ہوئی تلی کے لے مجرب ہے, دیگر پوست جڑ کبر زوفا, برگ مکو, پرسیاوشاں, تخم سمبھالو, تحم سداب ہر ایک برابر وزن ک سفوف بقدر سات ماشہ ہمراہ سکنجبین کے تلی کیلیے ایک ہفتہ متواتر استعمال کرنے سے تلی بالکل جاتی رہتی ہے,
پوست جڑ کریر ریوند ہر ایک سات ماشہ, کشتہ مرجان, صبر زرد, تخم کرفس, غاریقون, نمک ہندی ہر ایک تین ماشہ کوٹ کر عرق بید میں گولیاں بنا کر ماءالعسل کے ساتھ چار ماشہ دینا تلی بڑھی کو مجرب ہے,
مرہم
کریر سبز کی نرم کونپلیں ایک حصہ, آک کے پھول خشک ایک حصہ, سرخ مرچ کے خشک ڈوڈے ایک حصہ, سرسوں کا تیل تین حصہ سب ملا کر آگ پر پکائیں, جب سب کچھ جل جاے تو کریر کے ڈنڈے سے رگڑائی کر کے رکھ لین, اور یہ مرہم پھایہ کے ساتھ زخم پر لگائیں, مجرب ہے,
کریر کی لکڑی کی راکھ ہمراہ روغن کنجد ناسور کے لئے نافع ہے,
اور جلی لکڑی کوئلہ کا سفوف دو ماشہ تھوڑے گھی میں ملا کر چاٹنے سے جوڑوں کا درد اور کمر درد دور ہوتا ہے,
بڑے بزرگوں کے دکھتے درد گھٹنوں اور جھکی کمر, درد کمر کے لیے نیم پختہ ڈیلوں کی کڑوی کیسلی سالن ضرور استعمال کریں
ادویاتی ترکیب استعمال ۔1
اسکی تازہ پتیاں پیس کر ایک پیسٹ بنایا جاتا ھے اور ایسے گندے زخم جو ٹھیک نہ ھو رہے ھوں ان پر باندھا جاتا ھے
اسکے علاوہ برص کے داغوں پر بھی لگایا جاتا ھے ۔
ترکیب نمر 2 -
اسکے پھول کلیوں سائے میں خشک کیئے ھوئے باریک سفوف بنایا جاتا ھے اور یہ سفوف 2 تا 5 گرام صبح شام پانی یا گائے کی لسی کے ساتھ دیا جاتا ھے - بواسیر خونی میں مفید ھے جگر کی صفائی کرتا ھے بھوک بڑھاتا ھے - درد مفاصل, عرق النساء اور نقرس کیلیے
ترکیب نمبر 3 -
500 گرام نیم پختہ پھل ۔۔۔۔۔سائے میں خشک کریں ۔۔۔بعد ازاں گٹھلی دور کر کے نہایت باریک سفوف بنائیں ۔۔۔5تا 7 گرام پانی کے ساتھ دینے سے موٹاپا دور کرتا ھے ۔۔۔خراب کولیسٹرول L.D.L . کو میٹابولزم کرواتا ھے اور خون کو پتلا کر کے اسکی روانی کو بہتر کرتا ھے ۔
اسکے علاوہ شوگر میں بھی مفید ھے ۔
ترکیب نمبر 4 -
کریل کی لکڑی کا کوئلہ کرکے سفوف بنایا جاتا ھے اور 2 تا 5 گرام صبح شام پانی کے ساتھ ۔۔۔۔ٹوٹی ھوئی ہڈیوں کے جوڑنے کے لیئے مفید ھے - دو ماشہ تھوڑے سے گھی میں ملا کر چاٹنے سے درد کمر اور جوڑوں کے درد دور ہوتا ہے, لکڑی کی راکھ اس کا کوئلا ھڈی کو ویلڈنگ کر دیتا ھے
دیگر فوائد
دافع بخار ھے۔ بھوک بڑھاتا ھے اور جگر کی حفاظت کرتا ھے ۔۔۔فیٹی لیور میں مفید ھے نیز صفرا کے بہاو کو متوازن کرتا ھے ۔۔۔بواسیر ۔۔السر ۔۔۔دمہ کھانسی ۔۔۔جیسے امراض میں مفید ھے اسکے علاوہ خون کو پتلا کرتا ھے اور خراب چکنائی کو استحالہ کرواتا ھے,
نمبر 5 مرہم خاص
کریر کی نرم کونپلوں کا پانی 1 تولہ, افتیموں سبز کا پانی ایک تولہ, روغن چنبیلی 5 تولہ ان کو ملا کر آگ پر رکھیں, جب پانی خشک ہو جاے تو روغن اتار لیں, یہ خارش کیلیے انتہائی مفید ہے, مالش کرین,
جانوروں کے زخم لاگا مشکل سے تھیک ہونے والے اس دوا سے ٹھیک ہو جاتے ہیں