WaQas Marble and grynight

WaQas Marble and grynight Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from WaQas Marble and grynight, Home improvement, shop no 15 Bada board pak colony Mangopir Road, Karachi.

03/11/2025
18/09/2025

آپ کو شاید اجے دیوگن کی فلم "پھول اور کانٹے" یاد ہو، جس میں ولن "راکی" کا کردار بےحد مشہور ہوا تھا، یہ کردار اداکار عارف خان نے نبھایا تھا، جنہوں نے اپنی اداکاری سے کافی داد سمیٹی تھی
اس کے بعد عارف خان نے کئی فلموں میں ولن کا کردار ادا کیا اور سلمان خان، سنیل شیٹی، اور اجے دیوگن جیسے ستاروں کے ساتھ کام کیا، وہ فلموں "مہرہ"، "دل جلے" اور "ویرگتی" میں نظر آئے۔
تاہم کچھ عرصہ بعد عارف خان اداکاری اور بالی ووڈ کو خیرباد کہہ کرروحانیت کی جانب گامزن ہوگئے ، آج ان کی حیرت انگیز تبدیلی نے انہیں پہچاننا مشکل بنا دیا ہے۔
عارف خان نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم "پھول اور کانٹے" سے ولن کے طور پر کیا، جہاں انہوں نے "راکی" کا کردار نبھایا،یہ کردار ان کے فلمی کیریئر کی بنیاد بنا، اجے دیوگن اپنی اداکاری کا آغاز کر رہے تھےاور عارف خان بھی ولن کے طور پر اپنی جگہ بنا رہے تھے۔
انہوں نے کئی بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا لیکن ان کا کیریئر وہ کامیابی حاصل نہ کر سکا جس کی وہ امید کر رہے تھے، عارف خان نے سلمان خان کے ساتھ "ویرگتی"، سنیل شیٹی کے ساتھ "مہرہ" اور اجے دیوگن کے ساتھ "دل جلے" میں منفی کا کردار ادا کیا۔
2007 میں عارف خان نے ہالی ووڈ کا رخ کیا اور فلم "اے مائٹی ہارٹ" میں انجلینا جولی کے ساتھ کام کیا، اس فلم میں انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کا کردار نبھایا جو ان کے بین الاقوامی کیریئر میں ایک اہم قدم تھا۔
کئی سال بالی ووڈ میں گزارنے کے بعد عارف خان نے فلمی دنیا کی چمک دمک کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت کے ساتھ جڑتے ہوئے روحانیت کی راہ اپنائی۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات پھیلانے اور سادگی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
ایک انٹرویو میں عارف خان نے بتایا کہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے وہ بےچینی کا شکار تھے اور انہیں سکون نہیں مل رہا تھا، وہ اکثر سوچتے کہ انہیں بڑے بینرز کی فلموں میں کردار کیوں نہیں ملتے، اس دباؤ نے انہیں بری عادتوں اور نشے کی لت میں مبتلا کر دیا۔ کئی سال بالی ووڈ میں کام کرنے کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کو چھوڑ کر اپنے مذہب کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
آج عارف خان ایک سادہ زندگی گزار رہے ہیں، لمبی داڑھی کے ساتھ ان کی پہچان مشکل ہو گئی ہے، وہ انسٹاگرام پر فعال ہیں، جہاں وہ خود کو "سابق بالی ووڈ اداکار، موٹیویشنل اسپیکر، اور پانی کم چائے کے بانی" کے طور پر بیان کرتے ہیں،ان کا اپنا یوٹیوب چینل بھی ہے، جہاں وہ اپنی زندگی کے تجربات اور اسلام کے پیغامات شیئر کرتے ہیں۔

تحریر و تبصرہ : تیمور احمد

Join Movies Planet (موویز پلینٹ)

20/07/2025

20/07/2025

شیتل اور زرک تیری محبت کو سلام ۔۔۔۔
آپ نے محبت کی بنیاد پر نکاح کیا
حلال راستہ چُنا، کسی کا دل نہیں دکھایا، کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ مگر اُن کا قصور بس اتنا تھا کہ انہوں نے "پسند" سے شادی کی۔
اور زیادہ تر غیرت کے ٹھیکیداروں کی غیرت کو پسند سے نکاح کبھی برداشت نہیں رہا۔

دعوت پر بلایا گیا، مگر یہ کھانے کی نہیں، مارنے کی دعوت تھی۔
چٹیل میدان، قافلہ گاڑیاں، 19 مرد —5 لوڈڈ بندوقیں — اور بیچ میں دو بے بس انسان۔۔۔
شیتل، ہاتھ میں قرآن لیے، خود قتل گاہ کی جانب بڑھی، اُس کے لبوں پر التجا نہیں تھی، رحم کی درخواست نہیں تھی، صرف ایک جملہ:

"صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔۔۔"

اور پھر 9 گولیاں — ایک عورت کی محبت، وقار، وجود، سب کچھ چھین لیا گیا۔

پھر زرک کی باری آئی — 18 گولیاں — تاکہ غیرت کا توازن برقرار رہے۔
کیسی عدالت تھی یہ، جس میں جرم محبت تھا اور سزا موت؟

جہاں باپ، بھائی، چچا، ماموں سب مل کر اپنی ہی بیٹی، بہن، بھتیجی کو قتل کرتے ہیں اور پھر راضی نامہ نامی کاغذ سے سب دھو ڈالتے ہیں۔

کیا کسی نے سوال کیا کہ:

اگر قرآن اُس کے ہاتھ میں تھا تو تمہارے ہاتھ میں بندوق کیوں تھی؟
اگر وہ "بے غیرت" تھی، تو تم نے غیرت کا ثبوت کس عمل سے دیا؟

شیتل مر گئی۔۔۔ مگر وہ ہزاروں سوال چھوڑ گئی۔
اور شاید کل کوئی اور شیتل، کسی اور زرک کے ساتھ اُسی میدان میں کھڑی ہو، اُسی پگڑی کے نیچے انصاف مانگے، اور پھر مٹی میں دفن کر دی جائے۔

سوال صرف یہ ہے:
کیا غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کی غیرت، صرف
نکاح کرنے والوں کے لئے کیوں جاگتی ہے اس کا حق تو انہیں ان کا خالق بھی دیتا ہے

اور اگر یہی غیرت کسی بیٹے کی حرام کاری پر نہیں جاگتی،
کسی زانی کو سر عام شریعت اسلامیہ کے تحت کوڑے نہیں مارے جاتے تو پھر یہ غیرت نہیں۔۔۔ یہ بزدلی ہے۔

سورۃُ النِّساء میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔۔۔۔!

"فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ"
ترجمہ:
"پس تم اُن (عورتوں) کو نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہو جائیں۔

17/07/2025
17/07/2025

Address

Shop No 15 Bada Board Pak Colony Mangopir Road
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when WaQas Marble and grynight posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share