18/03/2026
جدہ کا کنگ عبد العزیز انٹرنیشنل ائیر پورٹ ٹرمینل ون نیو ائیرپورٹ ہے جو کہ کافی مصروف اور بڑا ائیر پورٹ ہے وہاں جو بندہ پہلی بار جا رہا ہے وہ تھوڑا کنفیوژن کا شکار ہو سکتا یے، کم پڑھے لکھے تو دور کی بات پڑھے لکھے بھی پہلی بار تھوڑا پریشان ہو سکتے ہیں، اگر آپ بھی پہلی بار سفر کر رہے ہیں یا کرنے والے ہیں تو یہ پوسٹ آپ کیلئے ہے ورنہ آپ اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ سکتے ہیں، میں نے جدہ سے اسلام آباد کا سفر کیا تھا اور یہ معلومات اس کے مطابق ہیں،
ائیر پورٹ پر پہلے آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ آپ نے check in کہاں سے کرنا ہے ہر فلائٹ کا الگ یا پھر مختلف فلائٹس کا ایک چیک ان ایریا ہو سکتا ہے اپنی فلائٹ کے مطابق چیک ان کروائیں اگر نہیں سمجھ آ رہی تو سٹاف کے کسی بندے سے پوچھ لیں یہ ہماری مدد کیلئے ہی کھڑے ہوتے ہیں، اس کے علاؤہ وہاں سکرین پر بھی فلائٹ نمبر اور ٹائم وغیرہ شو ہو رہا ہوتا یے،
چیک ان اور luggage جمع کروانے کے بعد بورڈنگ پاس مل جاتا ہے جس پر آپ کی سیٹ نمبر وغیرہ اور فلائٹ کی تفصیلات درج ہوتی ہیں اپنا ہینڈ بیگ پکڑ کر departure والی سائیڈ پر آ جائیں وہاں اپنا ہینڈ بیگ یا ہینڈ کیری چیک کروائیں بیلٹ، موبائل اور اگر جیب میں کوئی کوائن وغیرہ ہیں تو وہ بھی سکریننگ کے بعد ہی آگے جانے دئیے جائیں گے، امیگریشن کاؤنٹر والی سائیڈ پر شیشے کے چھوٹے چھوٹے انٹری پوائنٹس بنے ہیں جہاں ایک پاکستانی بھائی نے مجھے بتایا کہ سکینر پر پاسپورٹ کی مین سائیڈ رکھیں اگر سکین ہو گیا تو شیشے سائیڈ پر ہو جائیں گے،
جب نے میں پاسپورٹ سکین کیا تو سکرین پر نوٹیفیکیشن شو ہوا کہ کاؤنٹر پر رابطہ کریں یعنی میرا پاسپورٹ سکین نہیں ہوا، جب میں کاؤنٹر پر گیا تو مجھے کہا گیا کہ اپنی شہادت والی انگلی سکینر پر رکھیں جب میں نے انگلی رکھی تو ساتھ ہی کاؤنٹر پر بیٹھے بندے نے پاسپورٹ پر ایگزٹ کی سٹمپ لگا دی۔
اس کے بعد آپ کو ایکسلریٹر سے نیچے اترنا ہے وہاں سے ٹرین پکڑیں وہ آپ کو تھوڑا آگے جا کر اتارے گی پھر وہاں سے ایکسلریٹر یا لفٹ کی مدد سے اوپر چلے جائیں وہاں ویٹنگ ایریا ہے مختلف سکرینیں لگی ہیں جہاں سے آپ کو اپنی فلائٹ کا نمبر، ٹائم اور گیٹ نمبر معلوم ہو جائے گا عموماً گیٹ نمبر departure ٹائم سے ڈیڑھ یا دو گھنٹے پہلے شو ہوتا ہے اس کے علاؤہ آن لائن بھی چیک کیا جا سکتا یے۔
ٹائم سے گھنٹہ ڈیڑھ پہلے اپنے مطلوبہ گیٹ کے پاس بنے ویٹنگ ایریا میں بیٹھ جائیں پھر وہاں سے تمام مسافروں کو بسوں میں بیٹھا کر جہاز کے پاس لے جایا جاتا ہے اور وہاں سے جہاز میں بیٹھا دیا جاتا ہے۔ ہمارا گیٹ 30 D تھا میرے سے پہلے پینٹ شرٹ پہنے کھلے بالوں والی ایک لڑکی کھڑی تھی جب وہ کاؤنٹر کے پاس پہنچی تو وہاں کھڑی خاتون نے ٹکٹ چیک کیا تو اس لڑکی سے کہا آپ نے تو مسقط جانا ہے جبکہ یہ اسلام آباد کی فلائٹ ہے یہ کہہ کر کاؤنٹر پر کھڑی خاتون نے اس لڑکی کو سائیڈ پر کر دیا اور باقی مسافروں کو بسوں میں بیٹھا کر جہاز کے پاس لے جایا گیا۔