18/03/2025
زکوة کہاں خرچ کی جا سکتی ہے اور کون اس کا حقدار ہے؟
زکوة قرآن مجید (سورۃ التوبہ 9:60) میں بیان کردہ آٹھ مستحق طبقات کو دی جا سکتی ہے:
1. فقیر (المساکین) – جو بالکل بے سہارا ہوں اور بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکتے ہوں۔
2. مسکین (الفقراء) – وہ لوگ جن کے پاس کچھ وسائل ہوں لیکن ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوں۔
3. زکوة کے منتظمین (العاملین علیها) – وہ افراد جو زکوة کی وصولی اور تقسیم پر مقرر کیے گئے ہوں۔
4. دل جوڑنے کے لیے (المؤلفة قلوبهم) – نومسلم یا وہ افراد جنہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے مدد درکار ہو۔
5. غلاموں کی آزادی (فی الرقاب) – غلاموں کو آزاد کرانے یا کسی مالی قید سے نکالنے کے لیے۔
6. قرضدار (الغارمين) – ایسے لوگ جو جائز قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوں اور ادا نہ کر سکتے ہوں۔
7. اللہ کی راہ میں (فی سبیل اللہ) – اسلام کی خدمت اور فلاحی کاموں کے لیے، جیسے غریب طلبہ کی تعلیم یا مستحقین کی مدد۔
8. مسافر (ابن السبیل) – وہ مسافر جو سفر میں مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہوں اور انہیں مدد درکار ہو۔
کن لوگوں کو زکوة نہیں دی جا سکتی؟
• جو خود کفیل اور صاحبِ نصاب ہوں۔
• قریبی رشتہ دار جن کا خرچ دینا آپ کی ذمہ داری ہے (والدین، اولاد، بیوی)۔
• مساجد کی تعمیر یا دیگر عام فلاحی کام، جب تک کہ وہ براہِ راست مستحقین کی مدد میں شمار نہ ہوں