26/12/2025
یہ استثناء کا موسم چل رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے قانون سے ہٹ کر سکھ برادری کو ہیلمٹ پہننے سے استثناء دے دیا ہے۔ ہم نے کل بھی لکھا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جو خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، ایسی مثال دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی — اور ہماری تحریر کے کچھ ہی گھنٹوں بعد یہ خبر بھی سامنے آ گئی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہیلمٹ کی پابندی شہریوں کی جان بچانے کے لیے لازم کی گئی ہے، تو کیا سکھ بھائیوں کی جانیں قیمتی نہیں؟ کیا وہ ریاست کے شہری نہیں؟ یا یہ مان لیا گیا ہے کہ ان کو کبھی کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آ سکتا؟
دوسری جانب، ہمارے مسلمان بھائی جو پگڑی یا عمامہ استعمال کرتے ہیں، اس فیصلے پر برحق ردعمل دے رہے ہیں، اور ان کا مؤقف اصولی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ اگر سکھوں کو مذہبی آزادی کی بنیاد پر رعایت دی جا سکتی ہے تو وہ مسلمان علماء و افراد جو عمامہ کو نبی کریم ﷺ کی سنت سمجھ کر پہنتے ہیں، ان کا بھی استثناء مانگنا مکمل طور پر بجا ہے۔
تاہم، اسلامی حکمت اور عقلمندی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مناسب ہے کہ ایسے استثناء لینا بذاتِ خود حکمت کے خلاف ہے۔ ہیلمٹ نہ پہننا محض جذباتی ردعمل ہوگا اور کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔
لہٰذا، اصولی احتجاج ضرور کریں، اپنی آواز بلند کریں، مگر عملی طور پر دورانِ سفر عمامہ اتار کر ہیلمٹ پہننا ہی بہتر اور محفوظ اقدام ہے۔
جیسا کہ فرمایا گیا:
*"حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں ملے، اسے لے لینا چاہیے۔"*