Moon Nursery Farm

Moon Nursery Farm We have all types of fruit and ornamental plants. We sale all varieties of indoor and out-door fancy plants.All types of palm and Ficus are also available

 # # # **🌿 ہائبرڈ ساگوان – سنہری لکڑی، شاندار منافع! 🌿**  **مون نرسری فارم پتوکی** پیش کرتا ہے **اعلیٰ معیار کے ہائبرڈ س...
22/03/2025

# # # **🌿 ہائبرڈ ساگوان – سنہری لکڑی، شاندار منافع! 🌿**

**مون نرسری فارم پتوکی** پیش کرتا ہے **اعلیٰ معیار کے ہائبرڈ ساگوان پودے** جو تیز بڑھوتری، بہترین لکڑی کی کوالٹی اور زیادہ منافع کی ضمانت ہیں۔ **ساگوان (Tectona grandis)** دنیا کی نمبر ون لکڑی مانی جاتی ہے، جو **دیمک، پانی اور موسمی اثرات** کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے۔

# # # **ہائبرڈ ساگوان کی اقتصادی اہمیت:**
ہائبرڈ ساگوان ایک نہایت قیمتی لکڑی فراہم کرنے والا درخت ہے، جو صرف **8 سے 10 سال میں فروخت کے قابل ہو جاتا ہے**، جبکہ روایتی ساگوان کی بڑھوتری میں **25 سال** لگتے تھے۔ اس کی لکڑی عالمی مارکیٹ میں انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے، اور پاکستان میں اس وقت **ساگوان کی لکڑی کی قیمت تقریباً 20,000 روپے فی مکعب فٹ** ہے۔ اگر ایک درخت سے **اوسطاً 20 مکعب فٹ لکڑی حاصل ہو** تو اس کی قیمت تقریباً **4,00,000 روپے** بنتی ہے، جبکہ **ایک ایکڑ میں 435 درخت لگائے جا سکتے ہیں**، جن کی مجموعی پیداوار کی مالیت **تقریباً 17.4 کروڑ روپے** ہو سکتی ہے۔ یہ محتاط اندازہ ہے، اور مارکیٹ کے نرخ میں اضافہ یا درختوں کی بہتر نشوونما کے باعث آمدن مزید بڑھ سکتی ہے۔ ساگوان کی لکڑی اپنی **اعلیٰ کوالٹی، مضبوطی، پانی اور دیمک سے محفوظ رہنے کی خصوصیات** کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھی جاتی ہے اور **فرنیچر، جہاز سازی، تعمیرات، فرش اور سجاوٹ کے کاموں** میں استعمال کی جاتی ہے۔ کم لاگت اور دیکھ بھال کے باوجود یہ زیادہ منافع دینے والا درخت ہے اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایک **بہترین زرعی منصوبہ** ثابت ہو سکتا ہے۔

# # # **ساگوان کے استعمال اور فوائد:**
🌳 **اعلیٰ معیار کا فرنیچر** – پائیدار اور خوبصورت لکڑی، جو صدیوں تک خراب نہیں ہوتی۔
🚢 **جہاز سازی اور سمندری استعمال** – پانی اور سڑن سے محفوظ، بحری جہازوں اور کشتیوں کے لیے بہترین۔
🏠 **تعمیرات اور اندرونی سجاوٹ** – دروازے، کھڑکیاں، فرش اور مضبوط شہتیروں کے لیے مثالی۔
🔥 **دیمک اور موسمی اثرات سے مزاحمت** – دیمک، پھپھوندی اور شدید موسم سے محفوظ رہنے والی لکڑی۔
♻ **ماحولیاتی لحاظ سے بہترین انتخاب** – پائیدار اور ماحول دوست لکڑی، جو لمبے عرصے تک اپنی اصل حالت میں رہتی ہے۔

# # # **پلانٹیشن کی تفصیلات:**
🌱 **پودے لگانے کا فاصلہ:** 10x10 فٹ (بہترین نشوونما اور لکڑی کے زیادہ حجم کے لیے)۔
🌱 **ایک ایکڑ میں کل درخت:** **تقریباً 435 درخت** لگائے جا سکتے ہیں۔

# # # **کاشت کے لیے موزوں علاقے:**
ہائبرڈ ساگوان **پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان** کے اکثر علاقوں میں کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے **میرا اور قدرے ریتلی زمین** موزوں ہوتی ہے، جہاں پانی کا نکاس بہتر ہو۔

# # # **بہترین کاشت کا وقت:**
🌱 **15 فروری سے 30 مئی** اور **15 جولائی سے 15 اکتوبر** کے درمیان پودے لگانے کا بہترین وقت ہے، تاکہ ساگوان کے درخت زیادہ تیزی سے بڑھ سکیں اور بہترین پیداوار دے سکیں۔

📍 **دستیاب: مون نرسری فارم پتوکی**
📞 **رابطہ کریں:** **محمد عرفان –. 03008003335
📩 **محدود اسٹاک – آج ہی اپنے ہائبرڈ ساگوان کے پودے بُک کروائیں!**





















31/12/2024
29/12/2024

Moon Nursery

ہر قسم کے درختی پوداجات ہول سیل ریث پر دستیاب ہیں۔۔سکچین۔کچنار۔پیلکن۔املتاس۔جامن۔بوتل برش۔ساگوان۔پلونیا۔۔ارجن۔بکین۔نیم۔ش...
01/08/2024

ہر قسم کے درختی پوداجات ہول سیل ریث پر دستیاب ہیں۔۔سکچین۔کچنار۔پیلکن۔املتاس۔جامن۔بوتل برش۔ساگوان۔پلونیا۔۔ارجن۔بکین۔نیم۔شریں۔ٹاک۔کنیر۔ہر۔۔ساییز۔میں دستیاب ہیں ۔۔رابط مون نرسری فارم پتوکی۔03008003335

ایوکیڈو  🥑🥑 😍Avocado خواتین و حضرات ہر قوم ہر ملک کا آپنا سچ ہوتا ہے ہر قوم کی تہذیب اور ثقافت بھی ان کی علاقائی مجبوری ...
15/06/2024

ایوکیڈو 🥑🥑 😍Avocado
خواتین و حضرات ہر قوم ہر ملک کا آپنا سچ ہوتا ہے ہر قوم کی تہذیب اور ثقافت بھی ان کی علاقائی مجبوری تاریخ اور محل وقوع کے حساب سے تفاخر کا سبب ہوتی ہے سچ صرف ہمارا، ہی نہیں ہوتا دوسری دنیا کی بھی کچھ حقیقتیں ہوتی ہیں.
ہم پاکستانی لوگ آم کو پھلوں کا بادشاہ سمجھتے ہیں اور آموں کو چوسنے اور کھانے میں ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جیسا بادشاہ لوگ عام رعایا کا خون چوسنے سے کرتے تھے.
بیشک غالب کی طرح ہم کو بھی موسم گرما کی یہ رسیلی میٹھی سوغات بہت پسند ہے لہذا چونسے لنگڑے سندھی دوسہری انور راٹھور قلمی سے ہم کو بھی پیار ہے اور اس پیار کا اظہار ہم ٹھنڈے برفیلی پانی سے بھرے ٹب میں تیرتے آموں کو کھاتے پیتے اور کچی لسی سے دم پخت کرتے ہیں. کچے آموں کا اچار ہمارے کھانوں کے ساتھ چٹخارے کی لازمی شے ہے اس کا مربع بھی اور کچی انبیوں کی چٹنی بھی.
مگر یہ صرف ہمارے ہاں پھلوں کا بادشاہ ہے.
یورپ میں ایسا ہی مقام و مرتبہ سٹرابری کو حاصل ہے.
مگر ہم ذک کر رہے ہیں ایوکیڈو کا یہ بے مزا ناشپاتی کی شکل اور سائز رکھتا پھل لاطینی امریکہ اور یورپ میں پھلوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے. سیب اگر دو روپے کا دانہ ہوتا ہے تو ایوکیڈو دس روپے کا عدد.
اس پھل میں رس نہیں ہوتا، اور نہ ہی مٹھاس مگر گری نما گودہ ہوتا ہے جس پر نمک اور لیموں کا چھڑکاو کریں تو کچھ ذائقہ بنتا ہے
آپ اس کو ٹوسٹ پر لگا کر کھا سکتے ہیں سلاد کا حصہ بنا لیں یا ویسے ہی کھا جائیں اور ملک شیک سے بھی انکار نہیں. ڈاکٹر لوگوں کی تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ باقی تمام تر پھلوں کو جمع کیا جائے تو وہ سب ملکر بھی ایوکیڈو کی خصوصیات کا مقابلہ نہیں کر سکتے.
نوجوان لڑکیاں آپنی جلد کی تروتازگی کے لیے اس کا استعمال بہت زیادہ کرتی ہیں اور ان کے کھانے میں یہ ضرور شامل ہوتا ہے
ہم نے مسلسل چھ ماہ تک روزانہ ایک عدد اس کو اپنا معمول بنایا ہماری سکن پر تو اشتہاری اثرات بلکل بھی نمایاں نہیں ہو سکے اور نہ ہی کسی نے ہم کو وے سب توں سوہنیا ہائے وے من موہنیا کہا مگر اس کے بے ذائقہ سواد کے عادی ہو گے.
مری کے قریب اس کے چند درخت پائے جاتے ہیں جن کا پھل اسلام آباد کے وزیر مشیر لوگ کھاتے ہیں
ہمارا موسم اور آب و ہوا اس کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے مگر اس طرف دھیان کون دے؟ ہم بیشک بنیادی طور پر زرعی ملک رکھتے ہیں مگر ہماری زراعت کے انداز باقی دنیا کے مقابلے پر بوسیدہ ہیں. فرانس میں ایک قطعہ زمین سے سال میں چار فصلیں تک لی جاتی ہیں.
میرے دوستو مطلب آم کی برائ نہیں بلکہ ایوکیڈو کی اچھائی بیان کرنا تھا. مگر یہ پھل ہمارے مزاج کے مطابق نہیں ہے کیونکہ ہم لوگ میٹھے اور رسیلے فروٹ کے عادی لوگ ہیں.
کیا آپ میں سے کسی کو ایوکیڈو کھانے کا موقعہ ملا ہے؟ اگر کھایا ہے تو کیسا تجربہ تھا ہم کو ضرور بتائیں. 🙂
ایووکیڈو کے بہترین پودے دستیاب ہیں
مون نرسری فارم گھلن پھاٹک پتوکی
عرفان پھولا
03008003335

خاندان میں  سخت لکڑی کے درخت کی قسم ہے۔ یہ ایک بڑا درخت ہے جو مخلوط سخت لکڑی کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ساگوان کی لکڑی، ...
14/06/2024

خاندان میں سخت لکڑی کے درخت کی قسم ہے۔ یہ ایک بڑا درخت ہے جو مخلوط سخت لکڑی کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
ساگوان کی لکڑی، پانی کے خلاف مزاحم اور گھنے ڈھانچے کی وجہ سے شیشم سے زیادہ پائیدار سمجھی جاتی ہے۔ شیشم کی لکڑی زیادہ پانی کی فیصد کی وجہ سے نمی کا شکار ہے۔ نیز، شیشم مرطوب حالات میں تپنے کا رجحان رکھتا ہے۔ واضح طور پر ساگون کی لکڑی یہاں کامیاب ہے۔ساگون کو وسیع پیمانے پر سب سے زیادہ پائیدار لکڑیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ساگوان قریب دانے دار ہے اور معدنیات اور قدرتی تیل میں زیادہ ہے لہذا یہ مضبوط، پائیدار، اور تقریباً تمام موسم کی انتہاؤں اور سڑنے سے بے نیاز ہے۔ساگوان کی لکڑی اپنی پائیداری، سڑنے، کیڑوں اور پانی کے خلاف مزاحمت اور اس کی خوبصورت شکل کی وجہ سے مہنگی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت مارکیٹ میں لکڑی کی کمی اور ساگون کے جنگلات کے ضوابط کی وجہ سے ہے۔ یہ کہیں بھی $7 سے $41 فی فٹ تک ہے۔
تھائی لینڈ کے ساگون کی لکڑی کرہ ارض پر بہترین کوالٹی کی لکڑی ہے۔ یہ برمی اور ہندوستانی ساگون کی لکڑیوں سے بھی بہتر ہے۔ تاہم، نایاب دستیابی کی وجہ سے اب یہ عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
ساگوان کے درخت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر حصوں میں اگتے ہیں، دنیا میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ساگون کے درختوں کا تقریباً نصف میانمار (سابقہ برما) کے جنگلات میں اگتا ہے۔
تمام اچھی چیزیں مہنگی ہوتی ہیں۔ ساگوان کی لکڑی خوبصورت لگ سکتی ہے لیکن یہ سب سے مہنگی لکڑیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کی کم ہوتی تعداد کی وجہ سے ساگون کی اصلی لکڑی حاصل کرنا مشکل ہے۔
ساگوان 40 میٹر (131 فٹ) تک اونچا درخت ہے جس میں سرمئی سے سرمئی بھوری شاخیں ہیں، جو اپنی اعلیٰ قسم کی لکڑی کے لیے مشہور ہے۔ اس کے پتے بیضوی سے بیضوی ہوتے ہیں، 15–45 سینٹی میٹر (5.9–17.7 انچ) لمبے 8–23 سینٹی میٹر (3.1–9.1 انچ) چوڑے ہوتے ہیں، اور مضبوط پیٹیولز پر رکھے جاتے ہیں جو 2–4 سینٹی میٹر (0.8–1.6 انچ) ہوتے ہیں۔ ) طویل پتے کے حاشیے پورے ہوتے ہیں۔
خوشبودار سفید پھول جون سے اگست تک 25-40 سینٹی میٹر (10-16 انچ) لمبے 30 سینٹی میٹر (12 انچ) چوڑے پینکلز پر پیدا ہوتے ہیں۔ کرولا ٹیوب 2.5-3 ملی میٹر لمبی ہوتی ہے جس میں 2 ملی میٹر چوڑے اوبٹیوز لاب ہوتے ہیں۔ ٹیکٹونا گرینڈس ستمبر سے دسمبر تک پھل لگاتا ہے۔ پھل گلوبز اور 1.2–1.8 سینٹی میٹر قطر کے ہوتے ہیں۔ پھول اس لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں کہ اینتھر پختگی میں بدنما داغ سے پہلے ہوتے ہیں اور پھول کھلنے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر جرگ نکل جاتا ہے۔ پھول بنیادی طور پر entomophilous (کیڑے جرگ) ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھار anemophilous (ہوا سے پولن شدہ) ہو سکتے ہیں۔ 1996 کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تھائی لینڈ میں اس کی آبائی حدود میں، سب سے زیادہ پولنیٹر شہد کی مکھیوں کی نسل سیریٹینا میں موجود تھے۔
لکڑی کی ساخت سخت اور غیر محفوظ ہے۔ کثافت نمی کے مواد کے مطابق مختلف ہوتی ہے: 15% نمی پر یہ 660 kg/m3 ہے۔[10] دل کی لکڑی زرد سے سنہری بھوری ہوتی ہے۔ سیپ ووڈ سفیدی مائل سے ہلکی پیلی بھوری ہوتی ہے۔ یہ دل کی لکڑی سے آسانی سے الگ ہو سکتا ہے۔ ساگوان کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے اس پر منحصر ہے کہ اس میں ایک بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ پرانی نشوونما میں نئی نمو کے مقابلے بہت سخت حلقے ہوتے ہیں۔ نئی کٹی ہوئی لکڑی میں چمڑے کی طرح کی خوشبو ہے۔
ساگون کا قدرتی تیل اسے بے نقاب جگہوں پر مفید بناتا ہے، اور لکڑی کو دیمک اور کیڑوں سے مزاحم بناتا ہے۔ تیل یا وارنش کے ساتھ علاج نہ ہونے پر بھی ساگ پائیدار ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ساگون کے پرانے درختوں سے کٹی ہوئی لکڑی کو باغات میں اگائے جانے والے ساگون سے زیادہ پائیدار اور سخت ہوتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پودے لگانے والا ساگون کٹاؤ کی شرح، جہتی استحکام، وارپنگ، اور سطح کی جانچ میں پرانے بڑھنے والے ساگون کے برابر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن UV کی نمائش سے رنگ کی تبدیلی کے لیے زیادہ حساس ہے۔
تجارتی طور پر کٹائی جانے والی ساگون کی اکثریت انڈونیشیا میں پائے جانے والے ساگون کے باغات پر اگائی جاتی ہے اور اس کا کنٹرول پیرم پرہوتانی (ایک ریاستی ملکیتی جنگلاتی ادارہ) ہے جو ملک کے جنگلات کا انتظام کرتا ہے۔ انڈونیشیا میں کاشت شدہ ساگون کا بنیادی استعمال بیرونی ساگون کے فرنیچر کی برآمد کے لیے ہے۔ کیرالہ، بھارت میں نیلمبور ساگون کا ایک بڑا پروڈیوسر بھی ہے، اور دنیا کے سب سے قدیم ساگون کے باغات کا گھر ہے۔
ساگون کا استعمال متعدد ماحولیاتی خدشات کو جنم دیتا ہے، جیسے کہ نایاب پرانے بڑھنے والے ساگون کا غائب ہونا۔ تاہم، اس کی مقبولیت نے جنگلاتی باغات میں موسمی طور پر خشک علاقوں میں پائیدار پودے لگانے کے ساگون کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ فاریسٹ اسٹیورڈ شپ کونسل پائیدار طور پر اگائی جانے والی اور کاشت کی جانے والی ساگون کی مصنوعات کا سرٹیفیکیشن پیش کرتی ہے۔ پودے لگانے کے مقاصد کے لیے ٹشو کلچر کے ذریعے ساگون کا پھیلاؤ تجارتی طور پر قابل عمل ہے۔
نوآبادیاتی دور میں استوائی افریقہ میں ساگون کے باغات بڑے پیمانے پر قائم کیے گئے تھے۔ یہ لکڑی کے وسائل اور تیل کے ذخائر موجودہ (2014) جنوبی سوڈانی تنازعہ کے مرکز میں ہیں۔
دنیا کے ساگون کا زیادہ تر حصہ انڈونیشیا اور میانمار سے برآمد کیا جاتا ہے۔ وسطی امریکہ (کوسٹا ریکا) اور جنوبی امریکہ میں بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی پودے لگانے والی مارکیٹ ہے۔ ساگون کے جنگلات کے بقیہ قدرتی ہیکٹرز کی کمی کے ساتھ، لاطینی امریکہ میں باغات میں اضافے کی توقع ہے۔
مون نرسری فارم گھلن پھاٹک پتوکی
چوہدری عرفان پھولا
03008003335

03/06/2024
Thailand Sun Shade NetAvailable in 60% and 70%Black and Green color Used for green house purposeFeel free to contactArfa...
02/06/2024

Thailand Sun Shade Net
Available in 60% and 70%
Black and Green color
Used for green house purpose
Feel free to contact
Arfan 03008003335

 #آم کے بارے میں چند رسیلے حقائق   آم کی تعریف کچھ اس طرح کی جا سکتی ہے کہ گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا رس دار اور گودے...
04/04/2024

#آم کے بارے میں چند رسیلے حقائق
آم کی تعریف کچھ اس طرح کی جا سکتی ہے کہ گرم علاقوں
میں پیدا ہونے والا رس دار اور گودے دار پھل جو مختلف رنگ و بیضوی شکل میں نظر آتا ہے۔ اسے پکنے پر کھایا جاتا ہے اور کچے میں اس کا اچار بنایا جاتا ہے۔ اس کی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اقسام ہیں اور برصغیر میں اسے سب پھلوں کا راجہ کہا جاتا ہے
مختلف علاقے کے لحاظ سے آم کی مختلف اقسام ہیں جو سینکڑوں اور ہزاروں پر محیط ہیں۔
بعض رس دار اور میٹھے ہوتے ہیں تو بعض ترش، بعض قدرے گرم جبکہ بعض انناس کی ترشی لیے ہوئے اور یہ سب بڑے شہروں کے سپر مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔
آپ اس کی میٹھی اقسام کا ذائقہ لینا چاہتے ہیں تو الفانسو کھا کر دیکھ سکتے ہیں۔آم پاکستان، ہندوستان اور فلپائن کا قومی پھل ہے
اس کے علاوہ یہ بنگلہ دیش کا قومی درخت بھی ہے۔
آم کا نام 'مینگو' انڈیا سے آیا ہے
ایک پھل اور بہت سے وٹامنز
ایک پیالی آم میں تقریباً 60 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے
برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ 19 سے 64 سال کے آدمی کے لیے ایک دن میں 40 ملی گرام وٹامن سی کافی ہے جبکہ امریکہ کے ڈائٹری الاؤنس میں 60 ملی گرام وٹامن سی تجویز کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بھی صحت کے لیے یہ کئی اعتبار سے مفید ہے۔
آم میں 20 سے زیادہ وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے، پوٹاشیم، فولیٹ (وٹامن بی کی ایک قسم) بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ریشہ بھی پایا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر بغیر کسی افسوس کے اس کی دعوت کی جا سکتی ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سب سے وزنی آم تقریبا ساڑھے تین کلو ( 3.435) کا ہوا ہے جو لمبائی میں 30.48 سینٹی میٹر تھا اور اس کا گھیر یا دائرہ 49.53 سینٹی میٹر اور عرض 17.78 تھا۔
یہ پھل سرجیو اور ماریا سوکورو بوڈیونگان کے گھر کے سامنے والے باغ میں سنہ 2009 میں پیدا ہوا تھا۔

ہمارے پاس آم کی مختلف ورائٹی کے پودے دستیاب ہیں ہول سیل ریٹ پر
مون نرسری فارم گھلن پھاٹک پتوکی
چوہدری عرفان
03008003335

 #زیتون کی کاشت زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ ز...
23/03/2024

#زیتون کی کاشت
زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.
زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.
زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.
زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے.
دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.
زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں.
زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10×10 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 400 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں.
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے.
پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں تاکہ گاچی وغیرہ ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نہ لگ جائے. گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے.

زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟
کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے:
گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں
نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں
فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں

زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟
عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے.
زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے
زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟
زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے.
اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے.
لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے 25 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں موجود 400 (اوسط) پودوں سے 10000 ہزار کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے.
ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے.
20 فی صد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل ( 10000 کلوگرام ) سے تقریبا 2000 کلو گرام تیل نکل آتا ہے.
فی ایکڑ آمدن کتنی ہو سکتی ہے؟
یوں تو مارکیٹ میں بڑے بڑے سپر سٹوروں پر آپ کو زیتون کا تیل کوالٹی کے حساب سے 800 روپے سے لیکر 1100 روپے فی کلو تک مل سکتا ہے. لیکن واضح رہے کہ یہ سارے کا سارا تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی کوالٹی پر ماہرین کے شدید تحفظات ہیں. ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف برانڈوں کا درآمد شدہ تیل جو پاکستانی مارکیٹ میں بک رہا ہے یہ خالص زیتون کا تیل نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے تیلوں کی ملاوٹ ہوتی ہے .
گرین ایگرو کی معلومات کے مطابق چکوال میں تحقیقاتی ادارے کے پلانٹ سے نکالا جانے والا تیل کم از کم 2 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے. واضح رہے کہ چکوال کا زرعی تحقیقاتی ادارہ کسانوں کو تیل نکالنے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے.
اگر ریٹ واقعی دو ہزار روپے فی کلو گرام ہو تو آمدن کا حساب آپ خود لگا سکتے ہیں. گرین ایگرو نے آمدن معلوم کرنے کے لئے 800 روپے فی کلو گرام کے ریٹ کو سامنے رکھا ہے.
اس طرح سے 2000 کلو گرام تیل سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباََ 16 لاکھ روپے بنتی ہے. اگر باغ کی اچھی دیکھ بھال کی جاے تو امدن دوگنا ھو سکتی ھے
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیتون کے پھل سے تیل کے علاوہ اچار اور مربع جات بھی بنائے جاتے ہیں. اور ویسے بھی جس درخت کی اللہ نے قرآن میں قسم کھائی ہے اس میں نقصان کیسے ہوسکتا ہے✓

مون نرسری فارم گھلن پھاٹک پتوکی
چوہدری عرفان پھولا
03008003335

 #ساگوان     3008003335
15/03/2024

#ساگوان

3008003335

Address

Moon Nursery Farm
Pattoki
55300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moon Nursery Farm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Moon Nursery Farm:

Share