Andaz e Bian

Andaz e Bian purpose of this page is to promote good poetry, quotes, useful information and authentic informative material

27/11/2022

ہنسنے کا مشورہ بھی ترا خوب ہے مگر
مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا

چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ
ایسا بھی کوئی شخص مرا ہم نشیں رہا

کچھ اس لیے بھی میں یہاں اکتا گیا ہوں دوست
بستی میں ہم مزاج کوئی مل نہیں رہا...

جمیل احمد قیس

یوم اقبال پر امت مسلمہ کے لیے پیغامقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے ہو نہ یہ پھول تو بلبل...
09/11/2022

یوم اقبال پر امت مسلمہ کے لیے پیغام

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

08/07/2022
23/01/2022

دل میں خواہش بھی لیے پھرتے ہو درویشی کی
اور دنیا سے محبت بھی بڑھا رکھی ہے

ڈرو اس دن سے جب سحری کرنے کے بعد اعلان کیا جائے گا آج عید ہے😂😂انداز بیان کے تمام ممبران کو عید مبارک 🌙💖
13/05/2021

ڈرو اس دن سے جب سحری کرنے کے بعد اعلان کیا جائے گا آج عید ہے😂😂
انداز بیان کے تمام ممبران کو عید مبارک 🌙💖

ﺍِﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ۔۔۔۔۔۔۔۔ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﮦ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ؟ ﺩِﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺟﻮ ﮨﻤ...
05/02/2021

ﺍِﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﮦ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ؟ ﺩِﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺍُﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺁﮌﮮ ﺁ ﮔﺌﯽ۔۔۔۔
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺘﯽ ﻧﺪّﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻢ ﺑﮩﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍِﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻧﺪّﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺳﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍﮐﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺑﮩﺎﺅ ﺳﮯ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺍُﮐﮭﺎﮌﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﭘﺴﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻏﻮﻃﮯ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺍِﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺋﻞ ﺍُﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺩَﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﺩﺳﺖِ ﺳﻮﺍﻝ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻣﯿﺪ ﺑﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ؟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍُﻣﯿﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍُﺳﮯ ﻣﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﻮﭨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍِﺳﯽ ﻣﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺋﻞ ﺍﭘﻨﺎ ﺍِﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﻠﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻞ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻧﮕﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﭘﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺍ، ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﭩﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺍ۔
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ۔۔۔۔۔ ﺑﺲ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻟﭩﮑﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﺍﺕ ﺍُﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﭗ ﺩﮮ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﺨﺘﺎﺭِ ﮐُﻞ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﺎﮞ ﺩُﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﮮ۔ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ۔

ہم پت جھڑ مزاج لوگوں کو ‏پیلے پتے بہار ہوتے ہیں.
09/10/2020

ہم پت جھڑ مزاج لوگوں کو
‏پیلے پتے بہار ہوتے ہیں.

05/10/2020

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: '' سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو''، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جا نا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا''۔
سنن نسائی ۳۷۰۱-

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ...
31/05/2020

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ( اللہ کی زمین میں ) چکر لگاتے رہتے ہیں ، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں ، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں ( اللہ کا ) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان ( کی وسعت کو ) بھر دیتے ہیں ۔ جب ( مجلس میں شریک ہونے والے ) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ ( فرشتے ) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں ، کہا : تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں : ہم زمین میں ( رہنے والے ) تیرے بندوں کی طرف سے ( ہو کر ) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے ، تیزی بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھی سے مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : پروردگار! ( انہوں نے ) نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! ( کس الحاح و زاری سے مانگتے! ) وہ کہتے ہیں : اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : تیری آگ ( جہنم ) سے ، اے رب! فرمایا : کیا انہوں نے میری آگ ( جہنم ) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : اے رب! نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ( ان کا کیا حال ہوتا! ) وہ کہتے ہیں : وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ، تو وہ فرماتا ہے : میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : وہ ( فرشتے ) کہتے ہیں : پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، سخت گناہ گار بندہ ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : تو اللہ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ۔
"صیحح بخاری"

Address

Rawalpindi
43350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Andaz e Bian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share