𝔸𝕞𝕞𝕣 𝕊𝕥𝕦𝕕𝕚𝕠 𝕍𝕚𝕕𝕖𝕠𝕡𝕙𝕠𝕥𝕠𝕘𝕣𝕒𝕡𝕙𝕪

𝔸𝕞𝕞𝕣 𝕊𝕥𝕦𝕕𝕚𝕠 𝕍𝕚𝕕𝕖𝕠𝕡𝕙𝕠𝕥𝕠𝕘𝕣𝕒𝕡𝕙𝕪 𝔸𝕞𝕞𝕒𝕣 𝕊𝕥𝕦𝕕𝕚𝕠 & 𝕍𝕚𝕕𝕖𝕠𝕡𝕙𝕠𝕥𝕠𝕘𝕣𝕒𝕡𝕙𝕪

عجیب شخص ہے ڈھیر پیتا ہے سگريٹ میں پیوں تو کہتا ہے آہاں غلط بات 🚬 😅
23/05/2024

عجیب شخص ہے ڈھیر پیتا ہے سگريٹ
میں پیوں تو کہتا ہے آہاں غلط بات 🚬 😅

ابھی یہ زخم تازہ ہیں ،یہ بھر جائیں تو سوچیں گے!دوبار کب اجڑنا ہے____💟
13/10/2023

ابھی یہ زخم تازہ ہیں ،یہ بھر جائیں تو سوچیں گے!
دوبار کب اجڑنا ہے____💟

05/10/2023

Mahndi Event At Shkarghar ..Groom Malik Salman ..Paroduction By .. . #
Contact .0304 4139112.

*میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں،* *دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے۔۔🥀💔*Ammar Photographr..
02/10/2023

*میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں،*
*دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے۔۔🥀💔*
Ammar Photographr..

29/08/2023

*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی ,مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ💛💓💛💚*

💙💛💙 *اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ*💓💛

صورت چن ورگی تے نہیں 🌚پر دنیا بڑی دیوانی اے 🖤🥀
14/07/2023

صورت چن ورگی تے نہیں 🌚
پر دنیا بڑی دیوانی اے 🖤🥀

نارووال پنجاب کے شمال مشرق میں واقعہ ایک شہر ہے۔ دریائے راوی کے کنارے واقع اور پاک بھارت سرحد سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فاصل...
02/07/2023

نارووال
پنجاب کے شمال مشرق میں واقعہ ایک شہر ہے۔ دریائے راوی کے کنارے واقع اور پاک بھارت سرحد سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ضلع نارووال پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ اس کا مرکزی شہر نارووال ہے۔ 1998ء کی مردم شماری میں اس کی آبادی 13 لاکھ تھی ضلع نارووال میں عمومی طور پر پنجابی، اردو وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 2337 مربع کلومیٹر ہے۔
چڑھتے سورج کی سرزمین ضلع نارووال وطن عزیز کے پانچ دریاؤں کی دھرتی پنجاب کے 36 اضلاع میں سے انتہائی شمال مشرق میں ریاست جموں کے سرسبز پہاڑوں کے ساتھ واقع ہے
نارووال کے جنوب مشرق میں دریائے راوی کے ساتھ بھارت کے اضلاع امرتسر اور گورداس پور جبکہ شمال مغرب میں پاکستان کا ضلع سیالکوٹ اور جنوب کی جانب ضلع شیخوپورہ اور گوجرانوالہ واقع ہے۔
یہاں سب سے مشہور روحانی ہستی پیر جماعت علی شاہؒ اور بھی بہت سی قابل عزت ہستیوں کے مزار ہیں ان کے علاوہ یہاں سکھ مزہب کی مقدس جگہ کرتار پور واقع ہے جو نارووال سے 12 کلومیٹر شکرگڑھ روڈ پر واقع ہے
تاریخی پس منظر دیکھا جاۓ تو ہندوستان میں افغان بادشاہوں کے عہد سلطنت کے وقت ریاست راہ وری بشمول ریاست جموں کشمیر کولو نامی راجا کے زیر تسلط تھی جو راجپوت نسل کے سورج ہنسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
یہ علاقہ جہاں اب نارووال شہر آباد ہے کولو کی سلطنت میں تھا۔ کولو کے تین بیٹے تھے جس کے نام پارو تارو اور نارو تھے اور نارو سب سے چھوٹا تھا۔ ریاست راجوری راجہ کے تین بیٹوں میں تقسیم ہوئی تو چونڈا(جو کہ تحصیل پسرور کا قصبہ)، جوڑا سید ورانگلہ (نزد گورداسپور یہ علاقہ جہاں اب نارووال شہر آباد ہے) نارو کے حصے میں آئے۔
ناروسنگھ نے اپنی ریاست کے صدر مقام کے لیے اپنے ساتھیوں کے مشورے سے یہی جگہ منتخب کی۔ مشہور ہے کہ ابتدائی نارو سنگھ نے متعدد مقامات پر شہر آباد کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا۔
محققین کہ مطابق اس دور میں نارو سنگھ کو اس وقت کے بزرگ پیشواؤں نے ایک زائچہ بناکر بتایا کہ اس وقت تک یہاں شہر آباد نہیں ہو سکے گا جب تک سادات خاندان کا کوئی بزرگ اس کی بنیاد نہ رکھے گا۔
اسی دوران نارو سنگھ کی ملاقات لوہار کلاں علاقے کے رئیس سے ہو گئی جس نے اُسے لوہار کلاں کے سادات خاندان کے بارے میں بتایا اور وہاں حاضر ہونے کا مشورہ دیا چنانچہ نارو سنگھ اُس کے کہنے پر کلاں گیا اور پیر سید عنایت اللہ شاہ اور پیر سید شمس الدین سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا مسلہ بیان کیا
کہتے ہیں کہ پیر سید عنایت اللہ شاہ نے اپنے فرزند ارجمند پیر سید حبیب اللہ شاہ کے نام ایک چھٹی لکھ کر نارو سنگھ کو دے دی اور کہا کہ میرا بیٹا تمہارے ساتھ جائے گا اور وہاں شہر ضرور آباد ہو گا۔
نارو سنگھ طویل مسافت کے بعد جب ملتان پہنچا تو معلوم ہوا پیر سید حبیب اللہ شاہ واپس جاچکے ہیں۔

محققین کے مطابق ملتان میں چند روز قیام کے دوران اسے خواب میں شمس الدین ملے اور فرمایا کہ جا ہم نے اپنا فرزند حبیب اللہ شاہ تمہیں عطا کر دیا ہے ان کی عزت اور خدمت کرو اور درگاہ کے سجادہ نشین پیر سید حسن کبیر الدین سے بھی سید حبیب اللہ شاہ کو کہلوا لو، انشاء اللہ کامیابی ملے گی۔

کہتے ہیں کہ اگلے روز نارو سنگھ سید حسن کبیر الدین کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا جس پر انہوں نے بھی الگ چٹھی بنام سید حبیب اللہ شاہ تحریر کی۔ نارو سنگھ دریائے بیاس کے کنارے کنارے سفر کے مراحل طے کرتے ہوئے براستہ دیپالپور کسوگھاٹی پرگنہ منصود پہنچا تو وہاں ان کی ملاقات پیر حبیب اللہ شاہ سے ہوئی اور دونوں چٹھیاں ان کی خدمت میں پیش کیں جس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ سب مجھے پہلے معلوم ہو چکا تھا اور میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔

آپ نے شہر آباد کرنے کی غرض سے وہاں سے اپنے عقیدت مندوں میں ب12 قبائل کو اپنے ہمراہ چلنے کو کہا۔ 12 قبیلوں کے لوگوں کو ساتھ لیکر لوہارکلاں اپنے والد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر موسم گرما کی ایک صبح پیر سید عنایت اللہ شاہ نے اپنے فرزند جلیل پیر سید حبیب اللہ شاہ کے ساتھ آئے لوگوں کو ریئس نارو سنگھ کے ساتھ رخصت کیا۔
یاد رہے کچہری روڈ پر پیر سید حبیب اللہ شاہ سبزواری کا مزار ہے اسی جگہ پر آپ نے اپنے قافلے کے ہمراہ قیام کیا۔ نارو سنگھ کی مڑی بھی نارووال میں موجود ہے
کہا جاتا ہے کہ اگلی صبح پیر سید صاحب نے ایک بھورے رنگ کے بھنیسے کو ذبح کیا اور اس کا سر بنیاد پر رکھ کر نارو سنگھ کے مکان کی تعمیر شروع کر دی اور اس طرح نارووال معرض وجود میں آگیا۔
1928ء انگریز کے دور حکومت میں نارووال کو تحصیل کا درجہ دیا گیا اور آزادی کے بعد جولائی 1990ء میں نارووال کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔
اس علاقے کا چاول بہت مشہور ہے جو بیرون ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ضلع ایک تجارتی مرکز بن چکا ہے
یہاں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے روای اور نالہ ڈیک اپنی مثال آپ ہیں
بارش زیادہ ہونے کی وجہ سے نالہ ڈیک خطرناک صورت اختیار کر جاتا ہے
یہاں کی آب ہوا بڑی خوشگوار ہے
صحت و تعلیم کی بہتر سہولیات میسر ہیں یہاں کٸ اچھے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں
اس کی تین تحصیلیں ہیں نارووال شکرگڑھ اور ظفروال اس کے بڑے قصبوں میں بارہ منگا کنجرور عیسیٰ کرتارپور اور لنگاہ بھٹیاں .نینا کوٹ، لیسر، نورکوٹ، دھمتل، سنکھترا،
تلونڈی بھنڈراں، بدوملہی،دھبلی والا۔فیض احمد فیض پارک ۔ڈسٹرکٹ جیل نارووال۔ماڈل ریلوے اسٹیشن نارووال۔ یونیورسٹی اف نارووال بھی شامل ہے
راجا عمار فوٹوگرافر

بشکریہ پاک ورثہ

06/05/2023

Adresse

Democratic Republic Of The

Téléphone

+923044139112

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque 𝔸𝕞𝕞𝕣 𝕊𝕥𝕦𝕕𝕚𝕠 𝕍𝕚𝕕𝕖𝕠𝕡𝕙𝕠𝕥𝕠𝕘𝕣𝕒𝕡𝕙𝕪 publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager