islami dars

islami dars Islami knowledge

08/04/2025

*◆فاسق معلن کو سلام کرنا کیسا ہے؟؟؟◆*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ داڑھی نہ رکھنے والے کو سلام کرنا کیسا ہے کسی فاسق معلن کو سلام کرسکتے ہیں یا نہیں بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگ📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚📚
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعونہ تعالیٰ⇩*
*_🎗حنفی المذہب میں ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہےاور ایک مشت سے کم کرنا شرعاً سخت ناجائز و حرام ہے،داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے،مشکوٰۃ شریف میں ہے : انهكوا الشوارب واعفوا اللحي"ترجمہ: موچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ ۔(باب الترجل، صفحہ 380)۔۔_*
*_📖صورت مسئولہ میں فاسق معلن شخص کو ابتداءً سلام نہ کرے اور یہ مکروہ ہے۔در مختار مع رد المحتار میں ہے : و يكره السلام علي الفاسق لو معلنا، ولا علي الفاسق المعلن" ( ج9/ کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ صفحہ 595)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : في السلام علي الفساق في الأصح أنه لا يبدأ بالسلام" (ج5/کتاب الکراہیۃ، الباب السابع في السلام، صفحہ 326)۔ بہار شریعت جلد سوم میں ہے : جو شخص علانیہ فسق کرتا ہو اسے سلام نہ کرے کسی کے پروس میں فساق رہتے ہیں،مگر ان سے یہ اگر سختی برتتا ہے تو وہ اس کو زیادہ پریشان کریں گے اور نرمی کرتا ہے ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تو وہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے۔ ( حصہ 16/ صفحہ 463)۔۔_*

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
*🌹ثواب کی نیت سے اپنے تمام گروپس میں شیئر کیجئے 🌹*

عید الفطر مبارک سعودی والوں
29/03/2025

عید الفطر مبارک سعودی والوں

04/02/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

06/01/2025

رجب 204ھ/ دسمبر 819ء میں امام شافعی رحمہ اﷲ نے وفات پائی۔

05/01/2025

*`رجب المرجب میں دعائے نبوی: حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رجب المرجب کا مہینا آتا تو حضور نبی پاک صلى الله عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم یہ دُعا کرتے تھے : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَافِي رَجَبٍ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان`*
*حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: صوفیائے کرام رحمةُ اللهِ عَلَيْهِم فرماتے کہ رجب تخم (یعنی بیچ) بونے کا مہینا ہے ، شعبان پانی دینے اور رمضان کاٹنے کا کہ رجب میں نوافل میں خوب کوشش کرو، شعبان میں اپنے گناہوں پر روؤ اور رمضان میں رب تعالیٰ کو راضی کر کے اس کھیت کو خیریت سے کاٹو، ان کے اس قول کا ماخذ یہ ( بیان کردہ) حدیث ہے یعنی رجب میں ہماری عبادتوں میں برکت دے اور شعبان میں خشوع و خضوع دے، اور رمضان کا پانا اس میں روزے اور قیام نصیب کر*
*لفظِ ’’رجب‘‘ منصرف ہے یا غیر منصرف؟*
یہاں اہلِ علم کے لیے یہ علمی بحث مفید ثابت ہوگی کہ لفظِ ’’رجب‘‘ منصرف ہے یا غیر منصرف۔
اس حوالے سے حضراتِ اہلِ علم کی دو آرا ہیں:
1⃣ بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اگر ’’رجب‘‘ سے مراد مخصوص مہینہ ہے تو یہ غیر منصرف ہوگا، اس قول کے مطابق چونکہ ماہِ رجب کی دعا مانگتے وقت مخصوص مہینہ ہی مراد ہوتا ہے اس لیے دعا میں رجب پر فتحہ آئے گا، لیکن اگر اس سے عام مہینہ مراد ہو تو پھر یہ منصرف ہوگا۔
رجب کن اسبابِ منع صرف کی وجہ سے غیر منصرف ہے تو اس حوالے سے بھی اہلِ علم کی متعدد آرا ہیں:
1۔ بعض کے نزدیک
علمیت اور عدل
اس طرح کہ یہ ’’الرجب‘‘ سے معدول ہے۔
2۔ بعض کے نزدیک
علمیت اور تأنیث

2️⃣ بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ ’’رجب‘‘ منصرف ہے کیونکہ اس میں اسبابِ منع صرف میں سے دو اسباب یا ایک سبب جو دو کے قائم مقام ہو، نہیں پائے جاتے، ’’رجب‘‘ میں علمیت تو ہے لیکن دوسرا سبب کوئی نہیں پایا جاتا، اس لیے یہ منصرف ہے۔

خلاصہ:
*حاشية الصبان على شرح الأشمونى لألفية ابن مالك
*حاشية الخضري على ابن عقيل

میں سوچتی ہوں *خود کشی کرلوں*۔     😭😭                                                             عافیہ ناز (حقیقی نام ن...
31/12/2024

میں سوچتی ہوں *خود کشی کرلوں*۔ 😭😭 عافیہ ناز (حقیقی نام نہیں ہے)
مگر چند سوالات کے جواب چاہتی ہوں
علماء کرام، مسجد کے امام، تبلیغ کے امیر اور جلسوں کے مقرر سے۔

(1) *میری خود کشی کا ذمہ دار* کون ہوگا ؟ *میں خود؟* یا میرے گھر کے تمام بڑے لوگ؟

(2)۔ کیا لڑکی اتنی کمتر ہے کہ آپ جہاں چاہیں اسے *شادی پر مجبور کریں؟*

(3) کیا میں اپنے پسند کی *شادی نہیں کر سکتی* ؟ یا غریب سے *شادی کرنا منع ہے؟*

(4) عرب ممالک میں رہنے والوں(جو دودو سال بیوی سے دور رہیں )سے *شادی کا حاصل ہی کیا ہے* ؟

(5) کیا نکاح کے بعد باہر چلے جانے والے افراد کی *بیوی، اب محفوظ ہے*؟

میری باتیں اور دل کا درد مذکورہ سوالوں کو پڑھ کر آپ نے محسوس کرلیا ہوگا۔ شاید اب زیادہ کچھ لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں ۔ *ہاں یہ سچ ہے ہر ایک بات حقیقت اور درست ہے*۔

آج ہوتا یہی ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔
زمانے کے لحاظ سے میں ایک بڑے گھر کی لڑکی ہوں( جسے میں خود نہیں مانتی) کیونکہ پورے گھر والے کو اپنے بڑے ہونے کا غرور ہے ۔
جبکہ قرآن کا پیغام ہے، بڑا کوئی نہیں ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب سے اچھے وہ ہیں جو تقوی والے ہیں ۔ اور تقویٰ والا ہونے کا مطلب آج یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انسان حاجی ہو، نمازی ہو، یا نارمل حافظ و مولانا ہو تو وہ تقوی والے ہیں ۔
میرا ماننا ہے یہ سوچ غلط ہے ، خیر۔۔۔۔۔ علماء پر مجھے کچھ نہیں لکھنا ، یہ بڑے ہیں ، قابل احترام ہیں۔۔۔۔۔۔
بات حاجی صاحب اور نمازی صاحب کی ہے ۔ جو دینی تعلیم سے دوری کے سبب ایسے ایسے فیصلے اپنے گھروں میں نافذ کراتے ہیں جو نہ یہ کہ صرف بچوں پر گراں ہوتا ہے بلکہ شریعت بھی اتنی سختی سے کہیں پیش نہیں آتی ۔ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر وہی سب، جو، ان کی عقل سمجھ پاتی ہے۔ یہ بات ایمان اور یقین کی خوب کرتے ہیں ، کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ جب بیمار پڑ جائیں تو دوائی نہیں خریدتے کیونکہ ان کا ایمان ہے ، مرض اللہ نے دیا ہے تو شفا بھی اللہ ہی دینگے، اتنا مضبوط ایمان اچھی بات ہے لیکن شریعت کا حکم بیمار ہونے پر علاج کرانے کا ہے۔
*اب ان کا ایمان ، اللہ پر یقین اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل دیکھیں*

بات میرے رشتے کی چل رہی ہے،۔ مگر مجھے کوئی خبر نہیں ( مجھ سے پوچھا ہی نہیں گیا) اور کئی کئی لوگ آئے اور دیکھ کر گئے، ہر ایک نے میری تصویر بھی لی ، میرا تماشا بنا ، رشتوں کا انکار ہؤا ، مگر میری تصاویریں ان کے پاس محفوظ ہیں۔ رشت داروں میں اچھا رشتہ موجود ہے، *مگر انہیں اپنے تعلقات وسیع کرنے ہیں، اسی لئے رشتہ داروں یا پھر اپنی برادری کو چھوڑ کر دوسروں میں رشتے کی تلاش ہے* ( یہ جملہ حقیقت ہے میں نے غصے میں نہیں لکھا ہے) ایک خوبصورت لڑکا جو بہتر ہے ، مزاج بھی اچھا ہے، مگر مالی حالت بہت مضبوط نہیں ، اسی لئے اسے ایکسیپٹ نہیں کیا گیا ۔ ایک لڑکا جو انجینئر ہے ، بہت اچھا بھی نہیں ہے، ( مجھے پسند بھی نہیں) مگر اس کی جیب میں اچھی رقم ہے اور وہ سالوں سال باہر رہتا ہے، آپ نے اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کیا ؟ ایسا کیوں ؟
اب کہا ں گیا ایمان اور اللہ پر یقین ؟
*اب یہ سوچیں نا، کہ نکاح سے برکت ہوتی ہے اسی لئے ایک دیندار لڑکے سے اپنی بچی کا رشتہ کرائیں،* جو آپ کی بچی کو حجاب میں رکھے، اس کی ضرورت پوری کرے، اسے وقت دے اور نکاح کے تقاضوں کے ساتھ زندگی گزارے۔

مگر نہیں کرینگے آپ ایسا ۔ بتاؤں کیوں ؟ کیونکہ آپ کو ترجیح اپنے Ego کو دینا ہے،۔
آپ کو Priority روپے پیسے کو دینا ہے۔
آپ کو یہ شور کرنا ہے کہ میرا داماد Engineer ہے، میرا داماد Businessman ہے، Although وہ دیندار نہیں، گرچہ وہ نماز کا پابند نہیں اس سے کوئی مطلب نہیں آپ کو۔ آپ کو بچہ تو مولانا طارق جمیل صاحب جیسا چاہے، خواجہ نظام الدین اولیاء جیسا چاہیے ، اور ان بچوں کا باپ کیسا ہونا چاہیے یہ آپ سوچیں گے بھی کیوں، کیونکہ آپ کو سارا قصور ہم لڑکیوں کے سر ڈالنا ہے ۔

*جبکہ بچوں کے اچھا ہونے میں ماں اور باپ دونوں کے کردار کو دخل ہے۔*
میں بہت کچھ نہیں لکھ پا رہی ہوں، تحریر کے قلم کرتے وقت بھی مجھے ابو کا ڈر ہے، پلیز میری باتوں کو پڑھ لیں اور آپ لوگ اپنی بچی پر ایسا ظلم نہ کریں۔
*اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بچی سے نکاح کی اجازت لی تھی* اور خواہش معلوم ہونے کے بعد رشتہ کو مکمل کیا ۔ مگر آپ ہیں کہ سب کچھ خود کرینگے اور مجھے زبردستی قبول کرنے پر مجبور کرینگے، کیوں کر رہے ہیں آپ مجھ پر ظلم؟

*میرے ابو plzzz خدا کا واسطہ مجھے زبردستی کسی لڑکے کے ساتھ نہ لگائیں۔ میری زندگی کو جہنم نہ بنائیں ، میں آپ کی عزت کے لئے اس رشتے کو exept کر سکتی ہوں، مگر میں یہ کہوں گی کہ شریعت نے مجھے جو حق دیا ہے آپ نے اسے چھین کر مجھ پر زبردستی کی ہے۔* آپ مجھے جیسے ماحول میں بھیج رہے ہیں میں وہاں جی نہیں سکتی۔ میں نے یونیورسٹی میں ضرور تعلیم حاصل کی ہے مگر خالص یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ کو میں ترجیح نہیں دے سکتی ۔
*مجھے دیندار لڑکا چاہیے، جو نماز کا پابند ہو۔ حافظ و عالم ہو گرچہ روپے پیسے کم ہوں اس کے پاس ، میں برداشت کرلونگی۔ مگر اب ، میں خود کو زمانے کے ماحول سے الگ کرنا چاہتی ہوں، میں رشتوں سے راضی نہیں ہوں۔ اللہ کا واسطہ مجھے کوئی دیندار لڑکے کا سہارا دیں، جو میری باقی کی زندگی کو بہتر کرنے میں میرا ساتھ دے، مجھے سیدھا راستہ بتائے۔*

اور اگر ایسا نہ ہؤا، میرے مزاج کو نہ سمجھا گیا تو یہ بات یقینی ہے کہ *میں اپنی زندگی کو موت پر ترجیح دونگی* موت کا جو بھی طریقہ ہو، اسے اختیار کرونگی۔
ہاں مجھے معلوم ہے کہ خود کشی حرام ہے، اس کے نتائج بہت خطرناک ہیں، سب میرے علم میں ہے۔ اب فیصلہ آپ پر ہے۔

والسلام .....
میں آپ کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *خدا حافظ ابو، بڑے بھائی، بہن، باقی گھر کے لوگ*😢

میں اب زیادہ کچھ نہیں لکھ سکتی ۔ اللہ کا واسطہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شریعت کا خیال کریں اور میری آخرت کا ۔

علماء کرام! *میری باتوں کا اپنی تقریر کا حصہ بنائیں اور خاص طور پر بہار کے امام صاحب لوگ۔ بہت مہربانی ہوگی۔ میں آپ کی بہتر زندگی اور مغفرت کی دعاء کرونگی اور کر رہی ہوں*

28/12/2024

:::::::جتنا دل صاف اتنا موبائل صاف::::::::::

#حوادثِ_آخری_زماں قسط 34

سیدنا کعب الاحبار نے بڑی عجیب بات فرمائی
ان قریشا اتبعت اذناب الابل فی الشعاب و ان الشیطان مع الواحد و ھو من الاثنین ابعد
قریش اونٹوں کے پیچھے گھاٹیوں میں جائیں گے اور شیطان ایک کے ساتھ ہوگا اور دو انسانوں سے زیادہ دور ہوگا
❗کتاب الفتن لابی نعیم❗
یعنی لوگ گھاٹیوں تنہائیوں میں جا کر زیادہ گناہ کریں گے اور جب دو ہوں گے تو گناہوں کی شرح کم ہوگی
موبائل کو دیکھ لیں
دو بندے ہوں تو باہم گفتگو ہوتی ہے گناہ کم ہوتے ہیں جبکہ ایک بندہ شیطان کا آسان ہدف ہوتا ہے
انسان وہ کچھ دیکھتا ہے کہ دوسرے کی موجودگی میں حیاء کے سبب نہ دیکھ سکے
یہ معنی ہے کہ شیطان دو انسانوں سے دور اور ایک کے ساتھ ہوگا
پچھلے زمانے سے یہ زمانہ یکسر بدل گیا ہے
پہلے زمانے میں تنہائی عبادت و ریاضت کی طرف لے جاتی تھی اور اب کی تنہائی کبیرہ گناہوں حتی کہ کفر تک لے جاتی ہے
آنے والا دور کیسا ہوگا کس کو معلوم!
آپ کے دل کی صفائی کے برابر آپ کا دل صاف ہوتا ہے
یا یوں کہ لیں
آپ کا موبائل اور نیٹ کی ہسٹری جتنی صاف ہوگی آپ کا دل اتنا صاف ہوگا
موبائل کی گیلری میں مواد آپ کے ثواب و عذاب کا تعین کرنے کو کافی ہے
گناہوں کا چسکا ایسا پڑ گیا کہ دوست و رشتہ دار حتیٰ کہ ماں باپ کی صحبت سے بدور بھاگ بھاگ کر موبائل اٹھا کر تنہائی میں جاتے ہیں
پرفتن دور کے اثرات سے وہی بچ پائے گا جو سوشل میڈیا سے دور رہے گا
آپ سوشل میڈیا کے اثرات سے بچیں آپ کو اچھے ثمرات ملیں گے
زمانہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے
آپ اپنا ایمان کمزور نہ ہونے دیں
نہ مذہبی ابحاث میں شرکت کریں نہ سیاسی باتوں کو وبالِ جان بنائیں صرف اپنا ایمان بچائیں

📖📚
اسلامی درس
✍️سید مہتاب عالم

ایک بادشاہ کا غلام گھوڑے پر سوار غرور کے عالم میں چلا آرہا تھا ۔ سامنے ایک بزرگ آگئے ۔ انہو ں نے اس مغرور غلام سے کہا : ...
24/12/2024

ایک بادشاہ کا غلام گھوڑے پر سوار غرور کے عالم میں چلا آرہا تھا ۔ سامنے ایک بزرگ آگئے ۔ انہو ں نے اس مغرور غلام سے کہا : یہ اکڑ خانی تو اچھی نہیں ۔
غلام نے اور زیادہ اکڑ سے کہا ۔
” میں فلاں بادشاہ کا غلام ہوں “ اور وہ بادشاہ مجھ پر بہت بھروسہ کرتا ہے جب وہ سوتا ہے تو میں اس کی حفاظت کرتا ہوں۔ جب اسے بھوک لگتی ہے تو میں اسے کھانا دیتا ہوں ۔ کوئی حکم دیتا ہے تو فوراً بجا لاتا ہوں ۔“
اس پر بزرگ نے پوچھااور جب تم سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو ؟
غلا م نے جواب دیا۔
” اس صورت میں مجھے کوڑے لگتے ہیں۔ “
اس پر بزر گ بولے ۔
” تب تم سے زیادہ مجھے اکڑنا چاہیے ۔“
غلام نے حیران ہو کر پو چھا۔
وہ کیسے ؟
بزرگ بو لے۔ میں ایسے با دشا ہ کا غلام ہو ں کہ جب میں بھو کا ہوتا ہو ں تو وہ مجھے کھلاتا ہے ۔
جب میں بیمار ہوتا ہوں وہ مجھے شفا دیتا ہے ۔
جب میں سوتا ہوں تو وہ ہر طرح میری حفاظت کرتا ہے ۔ “ جب مجھ سے غلطی ہوجائے اور میں اس سے معافی مانگ لوں تو بغیر کوئی سزا دئیے اپنی رحمت و مہربانی سے مجھے بخش دیتا ہے ۔
یہ سن کر ا س مغرور غلام نے کہا تب تو مجھے بھی اس کا غلام بنا دیں ۔
بزرگ فوراً بولے ۔
بس تو پھر اللہ تعالیٰ کا ہو جا ۔
ایسا مالک تمہیں کہیں نہیں ملے گا..

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
21/12/2024

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

05/11/2024
29/10/2024

best ☑️ edit for muslims 🕋❤️ ☑️ Muslim 🕋 Edit In The world 🌍 ...

Address

Patna

Telephone

+916201481693

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when islami dars posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to islami dars:

Share