16/02/2026
جدید عسکری تاریخ کا ماہر ترین اسنائپر
چھریرے بدن کا یہ دبلا پتلا نوجوان دجالی قوت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ حالیہ جنگ میں سب سے زیادہ کھوپڑیاں اڑانے اور ٹانگیں اٹھانے والا نشانہ باز۔ جی ہاں، دجالی فوجی کی دونوں ٹانگیں اٹھنے کی ویڈیو جو وائرل ہوئی تھی، وہ اسی نوجوان کا کارنامہ تھا۔ "قناص بيت حانون" (بیت حانون کا اسنائپر) نے اپنی دہشت بٹھا رکھی تھی۔ خود دجالی فوج کا اعتراف ہے کہ اس نے ایک دن ہی پانچ خرکھسوں کو جہنم پہنچا دیا تھا۔ قابض قوت نے اپنے ان سات کارندوں کے نام بھی شائع کئے ہیں، جنہیں خالد بن ولید کے اس سچے جانشین نے تابوت میں فٹ کیا تھا اور آٹھ دجالیوں کو معذور۔ دجال عرصے سے اس کی تاک میں تھا۔ آخر کار غداروں کی مخبری نے اس کا کام آسان کر دیا اور پرسوں فضائی بمباری میں اسے شہید کر دیا گیا۔ بیوی بچے پہلے ہی جنت پہنچ چکے تھے۔ ان کے فراق میں تڑپتی یہ بے چین روح بھی ان کے پاس خلد بریں پہنچ گئی۔
یہ احمد حسن سویلم ہے۔ “بیت حانون کا اسنائپر”… وہ عظیم جانباز جس نے اسرائیل کو 10 تابوت اور 8 معذوروں کا گران قدر تحفہ دیا۔ اسرائیلی فوج نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ احمد سویلم نے 2025 میں شمالی غزہ کے زمینی محاذ پر ہونے والی لڑائیوں میں براہِ راست متعدد حملوں میں حصہ لیا اور بلکہ کمانڈ کی۔ سویلم “بیت حانون بریگیڈ میں اسنائپر یونٹ کا سربراہ” تھا، جو اسلامی مزاحمتی تحریک (ح، م، ا، س) سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے 9 فروری کو شہید کر دیا گیا اور اس نے میدان جنگ میں ایسے اآثار چھوڑے، جو تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔
بیت حانون کا جغرافیہ:
بیت حانون شمالی غزہ میں سرحدی شہر ہے، جس کا محل وقوع اہم ہے کیونکہ یہ اسرائیلی سدیروت بستی اور سیکورٹی باڑ کے قریب ہے اور ایرز چیک پوسٹ اسی علاقے میں ہے۔ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے یہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور “پیلی زون” کے تحت فوجی کنٹرول میں ہے۔ بیت حانون بریگیڈ کے گھات حملوں کو اسرائیلی رپورٹس میں سب سے خطرناک قرار دیا گیا، کیونکہ یہاں زخمیوں کو نکالنا مشکل تھا۔
احمد سویلم کی کارروائیاں:
سویلم نے بیت حانون میں اسرائیلی فوج کے خلاف پیچیدہ محاذی لڑائیوں کی قیادت کی۔ اس نے دو سالہ جنگ کے دوران تمام مقابلوں میں حصہ لیا۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق، احمد سویلم نے “غول بندوق” استعمال کرتے ہوئے 10 فوجیوں اور افسران کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا اور بیت حانون کے اسنائپر یونٹ کی قیادت کی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے احمد سویلم کے تین تباہ کن حملوں کا بطور خاص ذکر کیا۔ الجزیرہ نیٹ نے اسرائیلی بیانات کا موازنہ ق،،ام بریگیڈ کی دستاویزی ویڈیوز کے ساتھ کیا، جو ان لڑائیوں کے دوران نشر ہوئی تھیں، تاکہ میدانِ جنگ کی تصویر مکمل ہو۔
پہلا حملہ (19 اپریل 2025):
اسرائیلی فوج کے مطابق اس حملے میں سویلم کی نشانہ بازی کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے، جن میں ایک افسر، ایک خاتون اہلکار اور ایک ڈاکٹر شامل ہیں۔ اس دن ق،،ام بریگیڈ نے “کمین کسر السیو” کے نام سے کارروائی کے مناظر جاری کیے، جس میں بیت حانون کے مشرق میں اسرائیلی فوج کی گاڑی پر حملہ، امدادی فورس کو نشانہ بنانا اور نئے قائم کیے گئے ٹھکانوں پر آر پی جی اور مارٹر سے حملے دکھائے گئے۔
دوسرا حملہ (24 اپریل 2025):
پانچ دن بعد دوسرا حملہ ہوا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔ اس وقت ق،،ام بریگیڈ نے چار فوجیوں اور افسران کو ہلاک اور زخمی کرنے کی اطلاع دی اور کارروائی کے مناظر جاری کیے۔
تیسرا حملہ (7 جولائی 2025):
اس دن سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ اسرائیلی بیان کے مطابق سویلم نے حملہ کی قیادت کی، جس میں 5 فوجی ہلاک اور 2 شدید زخمی ہوئے۔ ق،،ام نے اس حملے کے مناظر جاری کیے، جن میں مشرقی بیت حانون میں دجالی فوج پر بموں کے ساتھ ڈبل حملے دکھائے گئے اور کمین کی تیاری 12 گھنٹے جاری رہی۔ دراصل اس دن جانبازوں نے دجال کی کفیر بریگیڈ5 کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کے نتیجے میں مائير شمعون عمار، موشیہ نسيم فريش، بنيامين اسولين، نوعم اہارون مسغاديان اور موشیہ شموئيل نول مردار ہوگئے۔ ہم نے اس تباہ کن کارروائی کی پوری تفصیل شیئر کی تھی۔
شہادت اور ذاتی نقصان:
گزشتہ پیر کو شمال مغربی غزہ میں النصر علاقے میں اسرائیلی حملے میں سویلم (33 سال) شہید ہو گیا، اس کے ساتھ نوجوان جانباز ابراہیم الزعانین اور عطیہ شباط سمیت ایک بچی شہید ہوئی اور دیگر زخمی ہوئے۔
سویلم کی شہادت کی اطلاع اس کے والد کو دی گئی تو اس نے انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے رب کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت جیسے عظیم مرتبے کے منتخب فرمایا۔ یہ ویڈیو الجزیرہ نے بھی چلائی۔ جو وائرل ہوگئی۔ سویلم اور الزعانین کی تدفین اور جنازے میں اہل غزہ امڈ آئے۔ فلسطینی خاندانوں اور مقامی سوشل میڈیا میں اب تک ان فرشتہ صفت نوجوانوں کے لیے تعزیتی پوسٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر سویلم کی پرانی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں، جن میں وہ اپنی شہید بیوی اور بچوں کو الوداع کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہی الفاظ دہراتا ہے، جو آپؐ نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کی وفات پر ارشاد فرمائے تھے: “ان کا مقام اللہ کے ہاں بلند ہے۔ آنکھیں تو روتی ہیں اور دل غمگین ہے، ہم آپ کے فراق میں محزون ہیں۔” لخت ہائے جگر کی تدفین کے بعد وہ مغموم اور دل گرفتہ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ اگلے ہی روز دوبارہ محاذ جنگ میں شامل ہوا۔
الجزیرہ نیٹ کو تصاویر حاصل ہوئیں جن میں سویلم کی تین بیٹیاں (شام، شہد اور ایمان) دکھائی گئی ہیں، جو 14 مئی 2025 کو اسرائیلی حملے میں اپنی والدہ کے ساتھ شہید ہوئیں۔ سویلم نے ان کی شہادت پر کہا: “اللہ اکبر، الحمدللہ، رب کریم نے مجھے ایسی اولاد سے نوازا کہ وہ اس کی راہ شہید ہوگئی۔”
دن کا یہ شہسوار رات کا عابد و راہب تھا۔ رب سے بہت گہرا تعلق۔ مسجد عجمی میں دل اٹکا ہوا۔ کلام الٰہی کا عاشق۔ چہرے پر ہر دم مسکراہٹ۔ کوئی بھی یقین نہ کرے کہ یہی ہنس مکھ کمزور نوجوان ہے، جس نے دجالی قوت پر لرزا طاری کر رکھا ہے۔ اس کی "غول" گن سے نکلتی گولیوں نے شیطانی کھوپڑیاں اڑا کر جس طرح کروڑوں انسانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کیا، اللہ اس کی قبر کو بھی ٹھنڈا کرے اور شہدائے قدس کو اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے۔ آمین۔