Electrician family home

Electrician family home Electrician plumbers
(1)

12/08/2026

Electrical

11/08/2026

الیکٹریشن ماسٹر جب لائٹ چلی جاتی ہے تو یو پی ایس کی جو لائٹیں ہیں وہ مدم مدم چلتی ہیں اس کا کوئی حل ہے کسی کے پاس کسی الیکٹریشن کو سمجھ نہیں ارہی وہ کہتے ہیں اپ کا یو پی ایس خراب ہے میں یو پی ایس لا کے لگایا ہے تو وہ بھی ایسے کر رہا ہے

10/08/2026

Electrician Master, the service wire coming from my electricity meter is aluminum, but I have extended it with a copper wire using a joint. The joint keeps developing a white powdery/corrosion-like substance, and the connection becomes loose and damaged. I have to repair or replace the joint almost every month. What is the proper and permanent solution for connecting aluminum and copper wires safely?

10/08/2026

الیکٹریشن ماسٹر میرے میٹر سے سلور کی تار ارہی ہے اور راستے میں میں نے جوڑ لگا کے کاپر کی تار لگائی ہوئی ہے جہاں پر جوڑ ہے وہاں پہ پاؤڈر سا بن جاتا ہے جوڑ خراب ہو جاتا ہو اس کا کوئی حل بتا دیں ہر مہینے مجھے وہ ریپیئر کروانا پڑتا ہے

10/08/2026

کرنٹ اور مجبوری: ایک الیکٹریشن کی ان کہی داستان
رات کے دو بج رہے تھے۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور سردی کی لہر ہڈیوں میں اتر رہی تھی۔ اس اندھیری اور سنسان رات میں صرف بارش کی بوندوں کی آواز تھی یا پھر قاسم کے فون کی مسلسل رینگتی گھنٹی، جو اس کی ٹوٹی ہوئی روح پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔
قاسم ایک الیکٹریشن تھا۔ پچھلے آٹھ سال سے وہ اس شہر کے امراء کی کوٹھیوں سے لے کر غریبوں کے نادار گھروں تک، ہر جگہ تاریں جوڑتا پھر رہا تھا۔ اس کی اپنی زندگی تاروں کی طرح الجھی ہوئی تھی، مگر وہ دوسروں کے گھروں میں روشنی بانٹتا تھا۔ دن بھر کی تھکن سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں، اور گھٹنے شدید درد کر رہے تھے—کیونکہ پچھلے بارہ گھنٹوں سے وہ ایک فیکٹری میں مین فالٹ نکالنے کے لیے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
فون کی سکرین پر ایک بار پھر "سید صاحب" کا نام چمک اٹھا۔ قاسم نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔
"ہیلو! قاسم بدمعاش! اتنی دیر میں فون اٹھایا ہے؟" دوسری طرف سے سید صاحب کی غرّاتی ہوئی آواز آئی، جو بارش کے شور پر بھی بھاری تھی۔ "جلدی سے ڈیفنس والے گھر پہنچو۔ پورا فیز ٹرپ کر رہا ہے، مہمان آئے ہوئے ہیں اور جنریٹر بھی جواب دے گیا ہے۔ آدھے گھنٹے میں وہاں نہ پہنچے تو سمجھ لینا، اس شہر میں تمہارا کام کرنا بند کرا دوں گا!"
"س... سید صاحب، بارش بہت تیز ہے اور میرا موٹر سائیکل بھی پنکچر..." قاسم نے کچھ کہنا چاہا۔
"مجھے بہانے نہیں چاہیے! تم الیکٹریشن ہو، خدا نہیں کہ موسم کا رونا روؤ۔ تمہارا کام بس اتنا ہے کہ حکم ملے تو زمین چیر کر بھی حاضر ہو جاؤ۔ جلدی آؤ!" پیپ—فون کٹ گیا۔
قاسم نے ایک گہری آہ بھری۔ اس کے گھر میں آٹا ختم تھا، بیٹی کی فیس دو مہینے سے جمع نہیں ہوئی تھی، اور بوڑھی ماں کی دوائیاں آنی تھیں۔ وہ انکار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ معاشرے کے اس ظالم نظام میں قاسم جیسے محنت کش کی کوئی ذات یا اوقات نہیں تھی—وہ لوگوں کی نظر میں صرف ایک "پرزہ" تھا جو خراب ہو تو بدل دو، ٹھیک ہو تو نچوڑ لو۔
وہ پھٹے ہوئے رین کوٹ میں ملبوس، اپنے زنگ آلود ٹولز کا تھیلا اٹھا کر گھر سے نکل گیا۔ سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ آدھے گھنٹے کے کٹھن سفر کے بعد جب وہ سید صاحب کی پرتعیش کوٹھی کے دروازے پر پہنچا، تو اس کا جسم سردی سے سن ہو چکا تھا۔
دروازہ کھلا تو اندر ہماہمی تھی۔ گرمائش کا احساس تھا، قہقہے گونج رہے تھے، اور مہمان مہنگی شراب اور کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ سید صاحب نے غصے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ اسے اندر گھسیٹا۔
"اتنی دیر لگا دی؟ تم جیسے غریبوں کی یہی عادت ہے، ذرا سی محنت پر جان نکلنے لگتی ہے۔ جاؤ، مین بورڈ باہر گراج میں ہے، جلدی سے فالٹ نکالو ورنہ ایک دھیلا مزدوری کا نہیں ملے گا!"
قاسم نے بغیر کچھ کہے سر جھکا دیا۔ وہ گراج کے اندھیرے اور بھیگے ہوئے کونے میں چلا گیا۔ مین بورڈ کھلا تو پانی کی وجہ سے شارٹ سرکٹ ہو چکا تھا۔ کام انتہائی خطرناک تھا—بغیر کسی حفاظتی دستانے کے، بھیگے ہاتھوں سے مین لائن پر کام کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ مگر قاسم کے پاس موت سے زیادہ بھوک کا خوف طاقتور تھا۔
اس نے جیسے ہی ایک ننگا تار جوڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، بجلی کا ایک شدید دھماکا ہوا اور نیلی چمکتی ہوئی روشنی نے پورے گراج کو روشن کر دیا۔
ایک خوفناک چیخ گراج کی دیواروں سے ٹکرائی۔
کچھ ہی لمحوں میں باہر ہلا مچ گئی۔ مہمان اور سید صاحب بھاگتے ہوئے گراج میں آئے۔ سامنے کا منظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ قاسم زمین پر بے سدھ پڑا تھا، اس کا ایک ہاتھ بری طرح جھلس چکا تھا، اور اس کے سینے پر رکھی وہ پرانی ڈائری پانی اور خون میں بھیگ رہی تھی، جس میں اس نے اپنی بیٹی کی فیس اور ادویات کا حساب لکھا تھا۔
سید صاحب نے گھبرا کر آگے بڑھ کر اس کی نبض ٹٹولی۔ نبض بند ہو چکی تھی۔ اس کی بے جان آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، جیسے اس معاشرے سے اب بھی کوئی سوال پوچھ رہی ہوں کہ:
“کیا ایک مزدور کی جان کی قیمت صرف دو سو روپے مزدوری ہے؟”
کوٹھی میں سناٹا چھا گیا، مہمان دبے پاؤں کھسک گئے، لیکن بارش اب بھی پوری شدت سے برس رہی تھی—گویا آسمان بھی اس دنیا کے ظالم نظام اور ایک بے بس الیکٹریشن کی مظلومیت پر ماتم کر رہا ہو۔

09/08/2026

الیکٹریشن ماسٹر ایک لائٹ گھر کی سیڑھیاں والی دو جگہ سے تو چل سکتی ہے لیکن وہی لائٹ تین جگہ سے چلانی ہو تو وہ کیسے چلے گی

09/08/2026

09/08/2026

Electrician ko karne pad Gaye Ghar ke gatar saf

08/08/2026

الیکٹریشن ماسٹر میرے گھر کے اندر وولٹیج بہت کم آتے ہیں تار بہت دور سے آتی ہیں اس کا کوئی حل ہے

07/08/2026

Electrician pe hi julam kyon

Address

Auchi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Electrician family home posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share