My own House میرا اپنا گھر

My own House میرا اپنا گھر AUTOCAD, REVIT, CIVIL 3D, SKETCHUP, 3D RENDERING, (Interior & Exterior), FLOOR PLAN, (2D & 3D), 3D M

09/07/2024
25x45 House
09/07/2024

25x45 House

05/07/2023
05/07/2023
30/11/2022

اپنے آپ کی حفاظت کیسے کریں؟
(قاسم علی شاہ)
ہاتھ میں مائیک تھامے وہ بڑے پُرجوش انداز میں بھاگ رہی تھی ۔وہ مسلسل اس کوشش میں تھی کہ وہ کوئی بڑی بریکنگ نیوز حاصل کرلے ۔دوڑ دوڑ کر اس کے پائوں تھک چکے تھے لیکن اس کے باوجودبھی اس کے اندر یہ تڑپ تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہ اس کنٹینر تک پہنچ جائے جہاں سیاسی قائدین موجود تھے اور پھر وہ موقع آبھی گیا کہ جب وہ کنٹینر کے بالکل پاس پہنچ گئی ،لیکن ابھی اس نے ایک پائوں پائیدان پر رکھاہی تھا کہ کسی طرح اس کا توازن بگڑا ،اس نے خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہی ، وہ نیچے گرگئی اور ابھی وہ سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ کنٹینر کا بھاری بھرکم ٹائر اس کے اوپر چڑھ گیا۔35سالہ زندگی کو ختم ہونے میں چند سیکنڈز بھی نہ لگے اور وہ چند لمحو ںمیں اپنے خالق حقیقی سے جاملی ۔

یہ ٹی وی رپورٹر صدف نعیم تھی جو ایک سیاسی مارچ کی کوریج کے لیے موجود تھی اور کافی وقت سے کسی’’تازہ ترین‘‘ خبرکی تلاش میں تھی۔وہ آدھے میل سے مسلسل بھاگ رہی تھی لیکن اس کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کی یہ جدوجہد اس کی موت میں بدل جائے گی۔
صدف نعیم کی اس دردناک شہادت کے بعد پورا ملک سوگ کی کیفیت میں چلاگیا ، ہر طرف سے تنقید بھی ہونے لگی اور ساتھ ہی ساتھ صحافیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر سوالات بھی اٹھائے جانے لگے ۔سوشل میڈیا پرلوگ اس واقعہ کا ذمہ دار کبھی کسی نیوزچینل کوقراردے رہے تھے تو کبھی اداروں کو ، لیکن قاسم علی شاہ فائونڈیشن نے اس موقع پر ضروری سمجھا کہ عوام الناس اورخاص طورپر صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک آگاہی مہم چلا ئی جائے ،تاکہ آئندہ ہر شخص اپنے آپ کی حفاظت کرسکے اور وہ کسی بھی بڑے جانی و مالی نقصان سے محفوظ رہ سکے۔

اس تناظر میں ’’سیفٹی اینڈ سیکیورٹی‘‘ کے عنوان سے قاسم علی شاہ فائونڈیشن میں ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف ٹرینر سید طاہر محمود نے گفتگو کی۔ان کی بات چیت کاخلاصہ آج کی اس نشست میں پیش کیا جارہاہے۔

(1)حفاظت ، کس کی ذمہ داری
سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ’’پرسنل سیکیورٹی‘‘انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ کام کسی اور پر ڈال کر ہم بریٔ الذمہ نہیں ہوسکتے۔یہ سچ ہے کہ قانون اور ادارے موجود ہیں جن کا کام عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے لیکن ہماری حفاظت کا سب سے پہلا حق ہمارے اوپر ہے۔ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی کام کے لیے صبح گھر سے نکلتا ہے اور تقریباً ہر شخص کو روڈ پر سفر کرنا پڑتاہے۔روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ خطرہ روڈ ایکسیڈنٹ کا ہوتاہے۔اب اگر کوئی بائیک چلارہا ہے تو اس کو ہیلمٹ پہننا چاہیے، حدرفتارکاخیال رکھنا ، دوسری گاڑیوں سے فاصلہ برقراررکھناچاہیے اور اپنی بائیک کی مینٹینس کاخیال بھی رکھنا چاہیے۔یہی کام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں میں بھی ضروری ہے اور یہ سب ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔
ذاتی حفاظت کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھیں کہ آپ نے اپنی ’’ریڈ لائن‘‘ خود ہی لگانی ہے کہ یہ میرے اصول ہیں میں ان اصولوں کے خلاف کام نہیں کروں گاچاہے مجھے کتنی ہی اچھی پیشکش کیوں نہ کی جائے۔جیسے رات میں گھر سے نکلنا، بھیڑ والی جگہ پر جانا ، دنگے فساد میں شامل ہونا وغیرہ

(2) خطرات کی قسمیں
خطرات کی دو قسمیں ہیں ۔ایک ہے ’’عمومی خطرات‘‘ اور ایک ہے ’’کسی خاص پیشے سے متعلق خطرات‘‘۔
عمومی خطرات کسی بھی علاقے اورمعاشرے کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔جیسے کہ چیزوں کی چوری، ڈکیتی کے واقعات، سیلاب یا طوفان میں نقصان کا خطرہ، کسی علاقے میں وبا آئی ہے تو اس سے صحت کے متاثر ہونے کاخطرہ ، قدرتی آفات جیسے زلزلہ وغیرہ یا پھر دہشت گردی کاکوئی واقعہ
’’شعبہ جاتی خطرات‘‘
یہ وہ خطرات ہوتے ہیں جو آپ کے کام سے منسلک ہوتے ہیں ۔مثال کے طورپر اگر آپ فوج میں ہیں تو دشمن کی جانب سے حملہ آور ہونے کاخطرہ ہوتاہے۔اگر آ پ پولیس میں ہیں تو آ پ کو منفی عناصر سے نمٹنے ، قانون کی عملداری کو برقرار رکھنے اور دیگر بہت سارے خطرات کا سامنا ہوتاہے۔اس کے علاوہ اگر آپ صحافی ہیں تو کسی جلسے یا مارچ کی کوریج میں آپ کو جسمانی نقصان ،مخالف گروپ کی طرف سے اغوا، استحصال ، سامان کانقصان جیسے بڑے خطرات کا سامنا ہوسکتاہے۔اگر آپ کسی فیکٹری میں ورکر ہیں تو وہاں بجلی کاخطرہ ، مشین میں ہاتھ آجانے یا زہریلے مواد سے جسمانی نقصان کا خطرہ ہوسکتاہے۔
ذاتی حفاطت کے لیے یہ بات اشد ضروری ہے کہ آپ جو کام کرتے ہیں ، اس کے خطرات سے خود کو باخبر رکھیں اور ان سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار بھی رکھیں۔

(4)چار قسم کے حالات
روزمرہ زندگی میں انسان کو چار قسم کے حالات سے واسطہ پڑتاہے۔
Condition White
یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں انسان بالکل بے فکر ہوتاہے اور اسے کسی خطرے کاخوف نہیں ہوتا۔
Condition Yellow
یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں انسان مطمئن ہوتاہے لیکن بے فکر نہیں ہوتااور اس بات سے چوکنا ہوتاہے کہ اس وقت میں کہاں ہوں ، میرے آگے پیچھے کون لوگ ہیں اور کیا کررہے ہیں۔
Condition Orange
یہ و ہ حالت ہوتی ہے جس میں انسان کو شبہ ہو کہ کوئی فرد میر اپیچھا کررہا ہے۔
یہ بات معلوم کرنے کا طریقہ ہے کہ آپ اگر گاڑی میں ہیں تو گول چکر لگائیں اور اسی مقام پرواپس آئیں جہاں سے چلے تھے تو معلوم ہوجائے گا کہ واقعی کوئی آپ کا پیچھا کررہاہے۔ اب کوشش کریں کہ اس شخص کو چکمہ دے کر اس سے جان چھڑائیں یا پھر کسی محفوظ مقام پر پہنچ کر اپنے دوست احباب سے مدد مانگیں۔اس معاملے میں یہ اصول یادرکھ لیں کہ جب آپ کاپیچھا کیا جارہا ہوتو آپ نے چلتے چلے جانا ہے، رُکنا نہیں ہے ۔کیوںکہ ہوسکتاہے کہ تعاقب کرنے والا شخص آج صرف جاسوسی کرنا چاہتا ہو لیکن اگر آپ رُک گئے تو وہ اس کو ایک اچھا موقع سمجھ کر آپ پر حملہ آور ہوسکتاہے۔
Condition Red
یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں خطرہ انسان کے سامنے آجاتاہے ،اس پر اٹیک ہوجاتاہے یا کوئی اس پر پستول تان لیتاہے۔
ا س حالت میں انسان کے پاس بچنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے ، اس لیے کوشش کیجیے کہ ہمیشہ چوکنا رہیں ۔

(5)تیاری
بطور صحافی آپ جب بھی کسی جلسے یا مارچ کی کوریج کے لیے جانے کاارادہ کریں تو اس سے پہلے ایک پراسس کو ضرور مکمل کریں۔(یہ تدابیر عام افراد کے لیے بھی ہیں)یہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس پر عمل کرنے سے نہ صرف آپ کے کیمرے اور مائک محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ آپ کی جان بھی بچ سکتی ہے ۔
اس کو Risk Assessment Processکہاجاتاہے اور اس میں چار اہم کام ہوتے ہیں۔

(1)آپ کا اثاثہ کیا ہے؟
سب سے پہلے اس چیز کی تعیین کریں کہ آپ کے نزدیک سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟ اس کا جواب یقینا یہی ہوگا کہ آپ کی ذات سب سے قیمتی ہے۔اس کے بعد پھر آپ مزید وہ چیزیں بھی لکھیں جن کی کوئی اہمیت اور قیمت ہے۔مثال کے طورپر صحافی کے لیے کیمرہ ، بیٹری، مائیک ، موبائل فون ، چینل سے رابطہ ، یہ تمام چیزیں اہمیت کی حامل ہیں۔اگر آپ کسی گروپ کی قیادت کررہے ہیں تو اس صورت میں آپ کے ٹیم ممبرز آپ کااثاثہ ہیں۔اس پراسس کا مقصد یہ ہے کہ جو چیز بھی آپ کے نزدیک سب سے اہم ہے اس کی حفاظت ترجیحی بنیادوں پرکریں اور اس کے بعد دوسری چیزوں کی حفاظت بھی کریں۔

(2)نقصان پہنچانے والے عوامل
اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ کو وہاں پر کن افراد سے نقصان پہنچنے کا امکان ہے یعنی کون سے لوگ آپ کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔مثال کے طورپر ، مخالف گروپ، جرائم پیشہ افراد، جیب کترے وغیرہ ۔ان سب چیزوں کی بھی ایک فہرست بنالیں۔
یہ بات یادرکھیں کہ اگر آپ نے پہلے سے تیاری کی ہوئی ہو توخطرے کی صورت میں وہ آپ کے90فی صد نقصان کو کم کردیتی ہے ۔خطرے کاسامنا کرنے سے پہلے ہی آپ نے دفاعی تدابیر اختیار کرنی ہوتی ہے کیوں کہ اگرآپ گھیرے میں آگئے تو پھر بچ نکلنے کا امکان صرف پانچ فی صد رہ جاتاہے۔جیسے کہ آپ جنگل میں جارہے ہوں اور سامنے سے شیر آجائے۔ایمرجنسی صورت حال میں ہم کبھی بھی وہ نہیں کرپائیں گے جو ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ اگر اس بس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تو میں اس کھڑکی سے نکل جائوں گا،بلکہ اس ایمرجنسی سے نکلنے کے لیے وہی چیز کام آتی ہے جس کی آپ نے پریکٹس کی ہو۔
انسان کی زندگی جب خطرے میں ہوتی ہے تو اس وقت اس کے تین فطری ری ایکشنز ہوتے ہیں۔لڑنا، بھاگنا یا پھر منجمد ہوجانا۔
آپ نے شاید دیکھا ہوگا کہ ایک نہتاشخص گن پوائنٹ پرہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ہمت دکھاتاہے او رحملہ آور کے ساتھ گتھم گتھا ہوکراس کے ارادے کو ناکام بنادیتاہے۔اسی طرح کا ایک واقعہ گزشتہ دنوںبھی منظر عام پر آیاجب گاڑی میں موجودایک خاتون پر ڈاکو نے پستول تان لی تو خاتون نے غیر شعوری طورپر ایکسلریٹر پر پائوں رکھا اور پانچ سومیٹر تک ڈاکو کوگاڑی کے نیچے گھسیٹتی رہی۔
دوسری صورت بھاگنے کی ہے جس میں انسان کسی بھی خوف ناک صورت حال سے بھاگ کر خود کو محفوظ بناتاہے ۔
تیسری صورت وہ ہے جس میں انسان شدید خوف زدہ ہوکرمنجمد ہوجاتاہے اوراس کے حواس بالکل کام کرنا چھوڑجاتے ہیں ۔

(3)خطرات
تیسراقدم یہ ہے کہ آپ ان نقصانات کی فہرست بنالیں جو اس مقام پرآپ کو پہنچ سکتے ہیں۔جیسے جلسہ گاہ میںانتہائی بھیڑ، خود کش حملہ ، دہشت گردی کا واقعہ ، چوری ہونے کاواقعہ ، مخالف گروپ کی طرف سے پتھراؤ یاآپ کو قبضے میں لے لیاجانا، پولیس کی طرف گیس شیلنگ اور موسم کی گرمی، سردی یا بارش ،سیلاب وغیرہ
(4)دفاعی اقدمات
چوتھے مرحلے پر آپ نے یہ فہرست بنانی ہے کہ ان نقصانات کی صورت میں آپ نے اپنے دفاع میں کیا اقدامات اٹھانے ہیں۔مثال کے طورپر:
مجمع میں بہت زیادہ کسی کے قریب نہیں جانا،اپنے لیے محفوظ لوکیشن دیکھنا ، فرسٹ ایڈ کی کٹ پاس رکھنا ، پانی کی بوتل رکھنا، اس مقام سے نکلنے کے لیے واپسی کاراستہ ذہن میں رکھنا ، اپنے دوستوں اور ادارے کے ساتھ مسلسل رابطہ ،دم گھٹنے والے مقام سے دور ہٹنا، جیب کترو ں سے ہوشیار رہنا،چلتی گاڑی کے پیچھے نہ بھاگنا،اس بات کو دیکھنا کہ وہاں پر کون ساسیاسی لیڈر ٹارگٹ بن سکتاہے تو اس سے 35میٹر دوررہنا، کیوں کہ خودکش دھماکے کی صورت میں 35میٹر کا دائرہ Killing Zoneہوتاہے اور اس میں انسان کا زندہ بچ نکلناناممکن ہوتاہے۔سفرکی صورت میں اگر آپ پر حملہ ہوجائے تو مسلسل چلتے رہنا ہے ، رُکنا نہیں ہے اگر گاڑی کے ٹائر پھٹ بھی جائیں توپھر بھی گاڑی آپ کو60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک محفوظ مقام تک پہنچاسکتی ہے۔

(6)اپنی حفاظت ، قانون کے آئینے
اپنی حفاظت کا حق ہر انسان کو حاصل ہے اور اگرکسی انسان کو یقین ہو کہ حملہ آور مجھے لازمی طورپر قتل کرناچاہ رہا ہے تو اس صورت میں اپنے دفاع کے لیے وہ اس کو قتل بھی کرسکتاہے۔اس سلسلے میں آئین پاکستان میں مندرجہ ذیل شقیں موجود ہیں۔
اپنی حفاظت میں کیا ہوا کوئی بھی کام جرم نہیں ہے۔(پاکستان پینل کورٹ سیکشن :96 )
خطرے کی صورت میں طاقت کا استعمال مت کریں ، پولیس کو بلائیں اگر آپ کے پاس پولیس بلانے کا موقع ہے۔(سیکشن: 99)
اگر آپ کے مرنے ، شدید زخمی ہونے ، عزت(ریپ) ، اغوا اور یرغمال بن جانے کا خطرہ ہے توآپ حملہ آورکوقتل کرسکتے ہیں۔(سیکشن :100)
رات کے اندھیرے میں گھر کی چار دیواری کوئی پھلانگ جائے ، یا گن پوائنٹ پر کوئی آپ سے کچھ چھینناچاہے تو اپنا دفاع میں اس کو قتل کیا جاسکتاہے۔(سیکشن :103)
واضح رہے کہ ان قوانین کے ذکر کرنے کا مقصد کسی کو قتل کرنے کی ترغیب دینا نہیں بلکہ بحیثیت شہری ہمیں جو قانونی حقوق حاصل ہیں ،وہ بتلانا مقصود ہے۔

Address

Lohsar Kalan
Gujrat
50892

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when My own House میرا اپنا گھر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share