Kalla Ba Razzy

Kalla Ba Razzy friends get together

Habib Ullah Khan Afridi Truth سچائی Musafaro Jundun Abid  Kaash Asad Khan Abu Abdullah  اسلامی گروپ ال ترکش اردو  Haseeb...
01/12/2023

Habib Ullah Khan Afridi
Truth سچائی
Musafaro Jundun
Abid Kaash
Asad Khan
Abu Abdullah
اسلامی گروپ
ال ترکش اردو
Haseeb Ullah Khan
اسلامی معلومات اور اذکار و وظائف
Habib Ullah Khan

شہباز جرنیلمصنفہ ۔۔۔سعدیہ جہادیکمپوزر۔۔۔عارف چیمہقسط نمبر 3اس وقت مجھے جہاد اور مجاہدین جیسے الفاظ کے بارے میں اتنا شعور...
22/11/2023

شہباز جرنیل
مصنفہ ۔۔۔سعدیہ جہادی
کمپوزر۔۔۔عارف چیمہ
قسط نمبر 3
اس وقت مجھے جہاد اور مجاہدین جیسے الفاظ کے بارے میں اتنا شعور نہ تھا۔لیکن انکی خوشی کے لیے میراجواب ہاں میں ہوتا تھا۔ماسٹر صاحب جانتے تھے کہ وہ دشمن کی نظر میں کھٹک رہے ہیں۔لیکن انہوں نے بےخوف و خطر اپنا مشن جاری رکھا۔ایک دن انڈین آرمی اور اخوانی دہشت گردوں نے مل کر صبح کے وقت انکے گھر پر چھاپہ مارا۔ماسٹر صاحب ناشتہ کر رہے تھے۔انہوں نے آ کر کہا کہ آپ باہر آ جائیں۔ہم نے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔وہ باہر جانے لگے تو انکی اہلیہ نے انہیں روک کر کہا۔مجھے انکے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔اس لیے آپ باہر نہ جائیں جو بات کرنی ہے ادھر ہی کیوں نہیں کرتے۔ماسٹرصاحب ایک بہادر اور جرات مند انسان تھے۔انہوں نے اپنے اہلیہ کو سمجھایا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اسکی مرضی کے بغیر یہ میرا بال بھی بانکا نہیں کر سکتے ۔انہوں نے فیرن پہن رکھا تھا۔اور فیرن کے اندر کانگڑی بھی پکڑی ہوئی تھی۔جب وہ باہر نکلے تو ایک درندہ بولا کانگڑی ادھر ہی رکھ دو دوسرا بولا رہنے جب یہ گرے گا تو خود بخود گر جاے گی۔انکی گفتگو سے ماسٹر صاحب انکے مکروہ عزائم بھانپ گئے لہذا انہوں نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھنا شروع کر دیا۔اور ادھر ظالموں نے بغیر سوال جواب کیے ایک برسٹ انکے سینے پر مارا۔اور ماسٹر صاحب موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔خونی درندے وہاں سے جا چکے تھے۔اور انکی اہلیہ اپنے شوہر کی خون میں لت پت کاش دیکھ کر آسمان والے سے انصاف مانگ رہی تھی۔
غلام نبی اپنے والدین کا بڑا بیٹا تھا۔ابھی اسکی داڑھی مونچھ بھی نہیں آئی تھی ۔کہ ماں کے دل میں بیٹے کے سر پر سہرہ سجانے کے خواہش مچل اٹھی۔اس نے محلے میں ہی اسکا رشتہ تلاش کیا اور منگنی کر دی۔پھر شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ماں باپ بیٹے کو دولہے کے روپ میں دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔غلام نبی سیدھا سادہ اور صوم صلات کا پابند تھا۔ایک روزوہ عشاء کی نماز پڑھ کر گھر جا رہا تھا۔رات کے اندھیرے میں اسے ہینڈز آپ کی آواز سنائی دی۔اس کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہ تھا اس لیے اس نے ہاتھ اوپر کر لیے۔خون آشام بھیڑئیے اسے بستی سے دور کھیتوں میں لے گئے۔خدا جانے اسکا مقصد کیا تھا۔نہ تو اسکا مجاہدین سے کوئی تعلق تھا۔اور نہ ہی وہ کسی جماعت سے منسلک تھا۔بھارت کے سفاک فوجیوں نے اسکے سر میں گولی ماری اور وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گیا۔ادھر ماں کی ساری رات کانٹوں پر گزری کہ ناجانے میرا لال کہاں ہو گا کس حال میں ہو گا ابھی تک گھر نہیں آیا۔فائر کی آواز اس نے بھی سن لی تھی۔مگر وہ یہ سوچنے پر تیار کب تھی ۔وہ یہ سوچنے کی ہمت کس طرح کرتی کہ جس بیٹے کے سر پر وہ سہرا سجانے کے خواب دیکھ رہی ہے وہ زندگی کی بازی ہا چکا ہے۔صبح گاؤں میں یہ بات کی گردش کرنے لگی کہ کھیتوں میں کسی کی لاش پڑی ہوئی ہے۔وہ غلام نبی ہی تھا جسکی اکڑی ہوئی بےگوروکفن لاش یہ سوال کر رہی تھی۔ کہ مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا ہے۔لوگوں نے اسکو چارپائی پر ڈال کر ہیڈ کوارٹر کی طرف ایک اجتماعی جلوس نکالا۔مظاہرہن میں نسیمہ بھی شامل تھی۔غلام نبی کی ہونے والی دلہن۔اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کا کوئی حساب نہ تھا۔مظاہرین سارا دن لاش کندھوں پر اٹھاے یہ نعرے لگاتے رہے
اے ظالمو اے قاتلو۔۔۔۔۔کشمیر ہمارا چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کیا چاہیے آزادی۔۔۔۔۔۔۔
انڈین آرمی کے خون آشام درندوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔اور پھر چند دنوں کے بعد انہوں نے ایک اور گھر کا چراغ گل کر دیا۔
غلام محی الدین پیشے سے کسان تھا۔اور وہ بھی غیر شادی شدہ تھا۔گاؤں بھر کے لوگ اسکی شرافت کا اعتراف کرتے تھے۔وہ کوئی کسی تنظیم کا رکن یا کمانڈر نہ تھا۔پھر اسے کس جرم میں قتل کیا گیا۔بھارتی درندوں سے یہ پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔قتل وغارت کا سلسلہ جاری رہا والدین بیٹوں کو باہر بھیجتے تو انکی واپسی کی امید کم ہی رکھتے۔وہ بیٹوں کیوجہ سے پریشان بھی رہتے تھے۔اور بیٹیاں بھی کسی مصیبت سے کم نہ تھیں۔کیونکہ کشمیر کی بیٹیاں آے روز انڈین آرمی کی بربریت کا شکار ہوتی رہتی تھیں۔کافر راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے کستے اور فحش گالیاں بکتے تھے۔ہمیں زندگی سے نفرت ہونے لگی تھی۔بیٹی ہونا جرم محسوس ہونے لگا تھا۔جب ہم نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔تو ہماری آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا۔اگر تھا تو فقط یہ سوال!کہ اس لہو رنگ وادی میں ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔ہماری چادر عظمت کا تحفظ کون کرے گا۔جس چمن میں ہمیں کبھی خوشیوں کے نغمے سنائی دیتےتھے۔وہاں اب ہر طرف پامال کر لاشوں سے لپٹی ہوئی ماؤں کی آہ زاری سنائی دیتی ہے۔یا دریدہ آنچل بہنوں کی دلدوز صدائیں۔
یا بھارتی مظالم کی نئی نئی داستانیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کشمیر کی بیٹیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہر اور عصر کا درمیانی وقت تھا۔قریبی گاؤں تکیہ بالا سے اس وقت کریک ڈاؤن ختم ہوا تھا۔فوج بمشکل گاؤں سے باہر نکلی ہو گی۔کہ فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ہم نے سمجھا کہ انڈین آرمی بے گناہ افراد کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔اس وجہ سے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔رفتہ رفتہ آوازیں قریب آنے لگیں۔عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار صاف سنائی دے رہی تھی۔کشمیری عوام میں یہ خوبی تھی کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں جی جان سے شریک ہوتے تھے۔تحریک آزادئ کشمیر کے بعد جذبہ اخوت میں مزید شدت آ گئی تھی۔انڈین آرمی جب کسی بستی کو ظلم وستم کا نشانہ بناتی۔تو ارد گرد کی تمام بستیوں کے لوگ مظاہروں میں ساتھ شریک ہو جاتے تھے۔تکیہ بالا کے ساتھ ہماری قریبی رشتہ داریاں تھیں۔انکی آہ بکا سن کر ہمارے گاؤں کے لوگ بھی میں روڈ پر جمع ہو گئے۔مظاہرین کندھوں پر ایک چارپائی اٹھاے چلے آ رہے تھے۔لوگ آپس میں چی میگوئیاں کرنے لگے۔کہ شاید بھارتی قاتلوں نے کسی کو شہید کر ڈالا ہے۔مگر کاش ایسا ہی ہوتا!اگر یہ کسی کشمیری نوجوان کی لاش ہوتی!تو کوئی غم نہ تھا۔بلکہ اگر یہ درجنوں مسلمانوں کی لاشیں ہوتیں تب بھی اتنے دکھ درد ملال کی بات نہ تھی۔مگر افسوس یہ ایک ایسا سانحہ تھا۔جس پر عرش عظیم بھی ہل گیاہو گا۔یہ اسلام کی ایک پاک باز بیٹی کی عصمت کا جنازہ تھا۔ایک غریب مفلس کشمیری باپ کی غیرت کا جنازہ اور ایک معصوم لڑکی کے ارمانوں کا جنازہ!اس بدنصیب لڑکی کے پاس نہ دولت تھی۔نہ زیور نہ کوئی تعلیم تھی۔بس اسکی عزت ہی اسکا گہنا تھی۔اسکا سرمایہ تھی۔اس نے ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا۔اور اب وہ اپنے ہاتھوں پر مہندی اترنے کے خواب بننے لگی تھی۔لیکن آج انڈین آرمی کے ایک سفاک افسر نے اس غریب کی متاع کل چھین لی تھی۔بھارتی فوج کریک ڈاؤن کر کے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر جمع کرتے تھے۔پیچھے گھروں میں صرف عورتیں ہی رہ جاتی تھیں۔پھر یہ عزت کے لٹیرے تلاشی کے بہانے عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔یہ صورتحال دیکھ کر کشمیری خواتین نے بھی گھروں سے باہر نکل کر کسی جگہ جمع ہو جانا بہتر سمجھا۔بلکہ اکثر ایسا ہوتا تھا۔کہ انڈین آرمی جس جگہ مردوں کو جمع کردیتی ادھر ہی کچھ فاصلے پر عورتیں بھی بیٹھ جاتی تھیں۔تکیہ بالا کی عورتیں بھی اج ایک جگہ جمع ہو کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ان میں محمد سلطان کی جواں سالہ بیٹی راشدہ بھی شامل تھی۔دوپہر کا وقت ہوا تو اسے یاد آیا کہ صبح سے جانوروں کو چارہ نہیں ڈالا۔چونکہ ماں کا سایہ بچپن سے ہی سر سے اٹھ گیا تھا۔اس لیے گھر کی ساری ذمہ داریاں اسکے نازک کندھوں پر تھیں۔محلے میں کوئی موجود نہ تھا وہ جلدی جلدی کام نمٹانے میں مصروف تھی۔تاکہ گھر سے نکل جاے۔لیکن اسی دوران انڈین آرمی کی تلاشی والی پارٹی ادھر پہنچ گئی۔میجر نے راشدہ کو اکیلا پا کر باتوں میں الجھایا۔کہ تمہارے گھر میں مل ٹینٹ آتے ہیں۔تم لوگ انکو گھروں میں جگہ دیتے ہو۔راشدہ کے پاس ان سوالوں کے جواب نہ تھے۔کیوں کہ وہ پڑھی لکھی نہ تھی۔سواے کشمیری زبان کے اسے کوئی زبان نہیں آتی تھی۔اسکی سادگی اور مجبوری کا فائدہ اٹھا کر خناس نے اس معصوم اور بھولی بھالی لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔اسکی متاع کل لٹ چکی تھی۔اور چادر عصمت تار تار ہو چکی تھی۔وحشی درندے اسے کسی زندہ لاش کی مانند ایک کمرے میں پھینک کر چلے گئے۔کریک ڈاؤن ختم ہوا تو لوگ گھروں میں آ گئے۔سلطان نے جب اپنی بیٹی کی حالت دیکھی۔تو گویا اس پر آسمان ٹوٹ پڑا۔اسکا دل کرتا تھا کہ زمین پھٹ جائے۔اور اسے اپنے اندر چھپا لے۔پھر کشمیر کی اس بیٹی کو نیم مردہ حالت میں چارپائی پر ڈالا گیا۔لوگوں جا جم غفیر آہوں سسکیوں اور آنسوؤں کے دھارے میں انصاف کی تلاش میں سرینگر کی طرف رواں دواں تھا۔انکے لبوں پر تڑپا دینے والا نعرہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں نیریئوبا۔۔۔۔۔۔۔۔از چھ ماتم جا بہ جا
اے مسلمانو نکلو۔۔۔۔۔۔۔آج چار سو ماتم ہے
یہ نعرہ اٹھارہ برس سے کشمیر کے گلی کوچوں میں گونج رہا ہے۔اور اس کے انددکھ درر اور مظلومیت کی طویل داستانیں چھپی ہوئی ہیں۔راستے میں لوگ اس ستم رسیدہ قافلے میں شامل ہوتے گئے۔یہاں تک کہ یہ قافلہ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن گیا۔صفاپورہ سے آگے جا کر انڈین آرمی نے انہیں روک لیا۔اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔یہ لوگ سرینگر تک تو نہیں پہنچ سکے۔لیکن ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ان کا پیغام ہر طرف پہنچ گیا۔رات کو یہ خبر ٹی وی پر آئی۔اور ملوث آفیسر کو شدید سزا دینے کا پرزور مطالبہ بھی ہوا۔مظاہرین رات گئے گھر کو لوٹ آئے۔راشدہ نے جس گھر میں زندگی کے اٹھارہ سال گزارے تھے۔جس کے درودیوار اس سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔آج اسی گھر میں اسے شدید گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔کیونکہ اب وہ گھر اس کے ارمانوں کا قبرستان بن چکا تھا۔اس گھر سے تو میں نے اپنی ڈولی اٹھنے کے خواب دیکھے تھے۔سہیلیوں نے مسرت کے گیت گانے تھے۔اور میرے کورے ہاتھوں پر مہندی سجانی تھی۔یہ سب کیاہو گیا۔ایک پل میں سارے خواب کیوں بکھر گئے۔ناجانے وہ کتنی دیر تک اپنی حسرتوں کے مزار پر آنسوؤں کے پھول نچھاور کرتی رہی۔ دفعتاً ایک زور دار دستک نے اسکے خیالوں کا تسلسل توڑ ڈالا۔محمد سلطان کی آنکھوں سے بھی نیند روٹھ گئی تھی۔وہ پہلی ہی دستک پر اٹھ بیٹھا اس وقت کون ہوسکتا ہے۔انہی سوچوں میں گم اس نے دروازہ کھولا۔سامنے اسی شیطان صفت میجر کو دیکھ کر اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔میجر اندر آتے ہی سلطان پر برس پڑا۔او بڈھے تم نے میرے خلاف جو کیس کیا ہے۔وہ واپس لے لے ۔ورنہ تیرا انجام بہت برا ہو گا۔میں تجھے جان سے مار دوں گا۔اور تیری جھونپڑی بھی جلا کر راکھ کر دوں گا۔اور سن کل ادھر میڈیا والے آئیں گے۔اپنی بیٹی سے کہنا کہ کیمروں کے سامنے وہی کہے جو میں چاہتا ہوں۔دوسری صورت میں وہ مجھ سے بچ نہیں سکے گی۔اس لیے تم لوگوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ یہ کیس ختم کر دو۔میجر دھمکی دے کر چلا گیا۔اور سلطان کو گویا سولی ہو لٹکا دیا گیا۔بیٹی کی عصمت لٹ جانے کے بعد وہ بدنصیب باپ اند ہی اندر سے ٹوٹ کر رہ گیا تھا۔علاقے کے لوگوں نے اس پر معاملے میں تعاون کی یقین دہائی کرائی تھی۔لیکن اس ہتھیار بند ڈاکو کے آگے یہ نہتے لوگ میرے ساتھ کیاتعاون کریں گے۔اسکے آگے تو وہ سب بھی بے بس تھے۔وہ تمام رات سوچتا رہا۔لیکن خود کو چاروں طرف سے بے بس ہی پایا۔
بالآخر بھارتی کتے نے میڈیا کے سامنے راشدہ سے جبراً یہ بیان دلوایا صاحب مجھ سے مجاہدین کے بارے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے۔میں خوف سے بےہوش ہو گئی تھی۔انہوں نے میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔یہ بیان دیتے وقت اسکی موٹی موٹی آنکھیں میں ٹھہرے ہوئے آنسو پلکوں سے چھلکنے کو بےتاب نظر آ رہے تھے۔اور اسکے مرجھائے ہوئے چہرے سے ساری حقیقت عیاں ہو رہی تھی۔ظلم کی اس اندھیر نگری میں آواز بلند کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔میڈیا بھی بھارت کے قبضے میں ہے۔اس لیے بھارتی فوج کو ظلم و بربریت کی ہر حد سے گزرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔اور ان عزتوں کے لٹیروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
نسیمہ ایک باحیا کم گو لڑکی تھی۔وہ میری کلاس فیلو ہونے کے علاوہ میری دوست بھی تھی۔منفرد مالک کی سلجھی ہوئی اور بردباد سی وہ لڑکی مجھے اکثر یاد آتی ہے۔اسکے والد پولیس کے محکمے میں ملازمت کرتے تھے۔گھر میں بہن بھائیوں میں وہی بڑی تھی۔اس کا چھوٹا اور اکلوتا بھائی
مجاہدین کے ساتھ کام کر رہا تھا۔کشمیر میں انڈین آرمی کے ظلم وستم کی وجہ سے والدین کو دن رات یہ فکر دامن گیر رہتی تھی۔کہ بیٹی عزت و آبرو کے ساتھ اپنے گھر والی ہو جائے۔نسیمہ کے والدین نے پڑھائی کے دوران بیٹی کے ہاتھ پیلے کر کے سکھ کا سانس لیا۔اس نے جس گھر میں قدم رکھا۔اس گھر کے مکیں بھی اللہ کے راستے کے ستاے ہوے تھے۔اسکا دیور عرصہ حیات سے جہاد میں مصروف تھا۔اس لیے گھر پر روزانہ بھارتی فوجی چھاپے مارتے رہتے تھے۔اور گھر والوں سے کہتے تھے کہ جہانگیر کو ہمارے حوالے کر دو۔نسیمہ کی گھر میں آمد کے بعد بھی سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔ایک سال بعد اللہ نے اسے ایک پیاری سی بیٹی دے کر ماں کے رتبے پر فائز کر دیا۔ابھی ننھی سحر چند ماہ کی تھی۔کہ کسی دوسرے مہمان کی آمد آمد ہوئی۔نسیمہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی۔ایک رات میجر یادھو نے انکے گھر پر چھاپہ مارا۔آرمی نے گھر کا تمام سامان تیار نہس کر دیا۔ نسیمہ کے شوہر کو بہت مارا پیٹا کہ تم اپنے بھائی سے کہو کہ سرنڈر کر دے۔اسے ہمارے حوالے کیوں نہیں کرتے ہو۔وہ ایک سکول ٹیچر تھا۔اس نے غیرتمندانہ انداز میں جواب دیا۔وہ ایک مجاہد ہے۔اسکے ٹھکانوں کا مجھے کیا پتہ؟اسکو تلاش کرنے کی ڈیوٹی آپ کی ہے۔ہماری نہیں۔یہ جواب سن کر میجر یادھو آگ بگولا ہو کر اسے گھسیٹنے لگا وہ اسے گرفتار کر کے بدترین اذیت دینا چاہتا تھا۔نسیمہ نے اپنے شوہر کو ظالم کے چنگل سے چھڑانے کے لیے بھرپور مزاحمت کے ساتھ ساتھ اس ظالم ہندو کی منتیں بھی کیں۔کہ میرے سرتاج کو چھوڑ دو۔اسکو کس جرم میں لے جا رہے ہو۔بس اتنی سی بات پر ظالم نے اس پر گولیوں کا برسٹ چلایا۔اور تمام گولیاں اسکے پیٹ میں پیوست ہو گئیں۔اور میری وہ پیاری بہنا موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئی۔اسکی کوکھ میں پلنے والا معصوم پھول بھی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا۔اگلے دن اخبار میں اس بےگناہ شہید کی تصویر چھپی تھی۔ننھی سحر جو ابھی خوشی اور غم کے احساس سے بےنیاز تھی۔ماں کی لاش کے پاس بیٹھی کھیل رہی تھی۔اسے کیا پتہ تھا کہ بھارتی درندوں نے اسے ماں جیسی ہستی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا ہے۔جب وہ بڑی ہو گی تو اپنی ماں کی ایک جھلک دیکھنے کو ترسے گی۔
صبا رشید چار بھائیوں کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی۔نہایت خوش اخلاق اور ذہین لڑکی تھی۔اسکی ذہانت پر اسکے استاد بھی رشک کرتے تھے۔وہ بانڈی پورہ کی رہنے والی تھی۔اور ہماری انکے ساتھ قریبی رشتہ داری تھی۔بانڈی پورہ میں ان کا خاندان نہایت شریف اور معتبر مانا جاتا تھا۔اسکے بڑے بھائی ظہور کی بانڈی پورہ چوک میں الیکٹرونک کی بہت بڑی دوکان تھی۔بانڈی پوری میں ویسے تو بہت سے بنکر اور چھوٹے موٹے کیمپ ہیں۔لیکن اسکے علاوہ وہاں ایک بڑا فوجی ہیڈ کوارٹر بھی ہے جو ماڈر کیمپ کہلاتا ہے۔
ایک دفعہ آرمی کو اس کیمپ میں بجلی کا کچھ کام کروانا تھا۔آرمی والے ظہور احمد کی دوکان پر گئے۔وہ دوکان پر موجود نہ تھا۔آرمی والے اسکے گھر کا پتہ کر کے اسکے گھر پہنچ گئے ۔وہاں میجر دیپک کمار کی گندی نظر صبا پر پڑی۔اس کے بعد وہ کم بخت کسی نہ کسی بہانے انکے گھر آتارہتا۔اور ایک دن اس نے صبا کو اغوا کر لیا۔لوگوں نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔اخبارات میں خبر دی۔لیکن سیکیولر بھارتی افسر پر کوئی اثر نہ یوا۔وہ معصوم کلی پندرہ دن اس وحشی کی قید میں رہی۔اور اسکی درندگی کا نشانہ بنتی رہی۔جب اسکا دل بھر گیا تو اٹھا کر چوک میں پھینک دیا۔صبا گھر کے ایک کمرے میں محصور ہو کر رہ گئی۔نہ کسی سے ملتی نہ کسی سے بات کرتی تھی۔پھولوں کی شوخ چنچل ہنستی مسکراتی لڑکی پر جھڑ کے زرد پتوں کی طرح بکھر کر رہ گئی۔اس کے لیے دنیا میں اب کیا رہ گیا تھا۔جن ماں باپ کی آنکھوں میں اس کے لیے محبت ہی محبت بسی ہوتی تھی۔اب انکی آنکھوں میں آنسوؤں کے سوا کچھ نہ تھا۔جو بھائی ہر وقت اس کے ناز اٹھانے کے لیے تیار رہتے تھے۔اب وہ ان سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔اور اس سب کے علاوہ اسکی روح پر لگنے والے زخم بہت گہرے تھے۔اسکی عصمت تار تار ہو چکی تھی۔ہاں یہی توعورت کازیور ہے سرمایہ ہے۔میں دامن پر یہ داغ لے کر کب تک جی سکوں گی۔اسکے ضمیر نے اسے کہا۔عزت کے بغیر کوئی زندگی نہیں ۔پھر اس نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا۔چنانچہ ایک دن اس اندوہناک خبر نے ہم سب پر سکتہ طاری کر دیا۔کہ صبا نے خود کو آگ کے شعلوں کی نذر کر دیا ہے۔اور وہ سرینگر ایس ایم ایچ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش ہے۔وہ کئی دن ہسپتال کے کمرے میں تڑپتی اور سلگتی رہی اور بالآخر ایک دن زندگی کی بازی ہار گئی۔اس ادھ کھلی کلی کی موت پر سارا ہسپتال سوگوار ہوا۔ہر آنکھ اشکبار ہوئی۔سب ہنسانے والی آج سب کو رلا کر چلی گئی۔بےشک اس نے حرام موت کا ارتکاب کیا مگر اسے ایسا،کر۔ے پر مجبور کرنے والا کون تھا ۔اسکی ہنستی مسکراتی زندگی کو جہنم بنانے والا کون تھا۔صبا کا جھلساہوا آبلوں سے بھرا ہوا جسم چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے جو بھارتیوں سے میرے خون کا حساب لے۔اور میری عزت کے لٹیروں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
آسیہ اور عشرت دونوں بہنیں تھیں۔انکی عمریں بالترتیب چودہ اور سولہ سال تھی۔ایک دفعہ انڈین آرمی کو چیوا میں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع مل گئی۔تو انہوں نے گاؤں پر چڑھائی کر دی۔لیکن رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا۔مذکورہ بالا لڑکیوں کا بڑا بھائی مجاہدین کا ساتھ دیتا تھا۔اور انکی بھرپور مدد کرتا تھا۔بھارتی فوج نے سراج الدولہ کو گرفتار کرنے کے لیے انکے گھر پر چھاپہ مارا۔وہ اس رات گھر میں موجود نہ تھا۔اور انکا باپ بھی کہیں گیا ہوا تھا۔بھارتی فوج نے یہ بہانہ گھڑا کہ تمہارے گھر۔ میں مجاہد موجود تھے۔اور گھر والوں پر تشدد شروع کر دیا۔اللہ نے آسیہ کو بےمثال حسن دیا تھا۔وہ نیلی سبزانکھوں والی حسین لڑکی تھی۔
بھارتی درندوں کی جب اس پر نظر پڑی۔تو انکے اندر کا شیطان جاگ گیا۔انہوں نے آسیہ کی ماں کو بالوں سے پکڑ کر زورسے لات ماری۔وہ لڑکھڑا کر کہیں نیچے جا گری۔ادھر ایک پڑوسی نے انہیں اپنے پاس ہی روک لیا۔ادھر وہ دنوں بہنیں درندوں کے جھنڈ میں اکیلی رہ گئیں۔درندوں نے مکان کے تمام بلب توڑ ڈالے اور تمام رات ان معصوم کلیوں کو مسلتے رہے۔ستم کی راتیں ویسے بھی طویل ہوتی ہیں۔پڑوسیوں نے ان کی دلدوز چیخیں سن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لییں لوگ رضائیوں میں منہ چھپا کر رو رہے تھے۔وہ ہر کسی کو مدد کے لیے پکار رہی تھیں۔لیکن اس وقت انہیں کوئی بھی لٹنے سے نہیں بچا سکا۔کشمیری لوگ اپنی بیٹیوں کی عزت تک بچانے سے قاصر ہیں۔کیونکہ اگر وہ کسی کو بچانے کی کوشش کرتے تو انکی اپنی بیٹیاں بھی ان کی درندگی کا شکار ہو جاتی تھیں۔اس لیے ہر کوئی اپنی بےبسی پر آنسو بہا رہا تھا
دوسرے گھر میں انکی بےبس ماں بیٹھی اپنا سینہ پیٹ رہی تھی۔اس کی کمسن لاڈلی بچیاں جنہیں کبھی اس نے پھولوں کی چھڑی بھی نہیں لگائی تھی۔ان سفاک فوجیوں کے وحشیانہ تشدد کی لپیٹ میں تھیں۔وہ دیوانہ وار اپنی بیٹیوں کی مدد کے لیے بھاگ رہی تھی۔لیکن پڑوسیوں نے اسے سمجھایا کہ وہ ابھی ایک جوان عورت ہے۔ان کافروں کے سامنے اپنی عزت گنوانے کے اور کیاکر سکے گی۔جو ماں بہن بیٹی کے تقدس سے ناآشناشنا ہیں۔ہر طرف سے مایوس ہو کر ان بہنوں نے مسلمانوں کو پکارنا شروع کر دیا۔انکی فریادیں غفلت میں سوے ہوے پورے عالم کے مسلمانوں کے لیے تھیں۔
چچا کا گھر ان کے گھر کے ساتھ ملا ہوا تھا۔چچا زاد بھائی کو بہنوں کی دلدوز صداؤں نے بےقرار کر دیا۔پھر وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر چھت سے اس گھر میں گود گیا۔بہنوں نے بھاگ کر اسکی آغوش میں۔ پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔کمانڈنگ آفیسر جو اس گھناونے فعل میں بذات خود ملوث تھا۔نے گلریز کو خونخوار نظروں سے دیکھا۔اس نے بہنوں کو اپنے بازوؤں کے حصار میں چھپا لیا۔انکی دگرگوں حالت زخمی چہرےدیکھ کر جیسے وہ اپنے حوش وحواس کھو بیٹھا تھا۔اس نے ہاتھ جوڑ کر سی او سے کہا۔سر میری بہنوں کو چھوڑ دیں۔خدا کے لیے ان پر رحم کریں مگر وہ مشرک تو رحم کے لفظ سے ناواقف تھا۔وہ ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لا کر بولا۔بولو پاکستان مردہ باد۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔پھر میں انہیں چھوڑ دوں گا۔اپنی بہنوں کو بچانے کے لیے گلریز یہ نعرہ لگانے کے لیے تیار تھا۔لیکن کشمیر مسلمانوں کے دل میں پاکستان کی محبت اس قدر زیادہ ہے۔کہ اس وقت بھی گلریز کے منہ سے پاکستان مردہ باد کے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔وہ مسلسل پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان مردہ باد کے نعرے لگاے جا رہا تھا۔سی او اسے ڈنڈے مارے جا رہا تھا۔اؤے سالے یہ کیا کہہ رہا ہے۔گلریز کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اور وہ عقل و خرد سے بیگانہ ہو کر کافی دیر یہی نعرہ لگاتا رہا۔
جب وہ شب ظلمت دو معصوم اور پاکباز بہنوں کا حال اور مستقبل تاریک کر کے گزر گئی۔تو سب لوگ انکے گھر تعزیت کے لیے جا رہے تھے۔انکے زخمی چہرے جو کل تک ادھ کھلے گلاب کی طرح ترتازہ تھے۔زبان حال سے اپنی داستان سنا رہے تھے۔آسیہ بار بار چہرے پر لگی خراشوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔لیکن بھارتی حرامی فوج کے تشدد اور درندگی کے ثبوت چھپاے نہیں چھپتے تھے۔میں دل میں ان کے لیے اظہار ہمدردی کے بےشمار الفاظ کے کر گئی تھی۔لیکن ان بہنوں کی حالت دیکھ کر سارے الفاظ آنسو بن کر آنکھوں سے چھلک پڑے اور میں روتے ہوئے گھر واپس اگئی۔راستے میں ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کیوں رو رہی ہو۔میں شدت غم سے پاگل ہو رہی تھی۔اسکی عمر کا لحاظ کیے بغیر میں اس پر برس پڑی۔اور کہا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو کیا تمہیں کچھ پتہ نہیں۔۔۔کیا تم لوگ اپنی آزادی اور اپنی بہنوں کی عزت کی حفاظت کے لیے اب بھی نہ نکلو گے۔اگر تم لوگ اتنے ہی بےحس اور بےغیرت بن چکے ہو۔تو ہم اپنی عزت کی حفاظت کے لیے خود میدان میں نکلیں گی۔جاؤ ان بہنوں کو ایک نظر دیکھ کر آؤ۔شاید تمہارا مردہ ضمیر جاگ اٹھے۔یہ ایسا سانحہ تھا جس نے ہر اپنے پراے کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔جوان بیٹیوں کے والدین کی نیندیں حرام ہو گئیں۔اور بیٹیاں ہونا جرم محسوس کر رہی تھیں۔چیوا کی گلیوں میں کئی روزتک آسیہ اور عشرت کی دلخراش صدائیں گونجتی رہی تھیں۔اور کئی دنوں تک بہاروں اور چمن پر اداسی چھائی رہی تھی۔ہر ایک زبان پر یہی سوال تھا کہ یاپرورگار ہماری بیٹیاں کب تلک یونہی لٹتی رہیں گی۔اس سیلاب کا رخ کون موڑے گا۔جو ماں بہن بیٹیوں کی عزت و آبرو کو بہاے لے جا رہا ہے۔اگر ہمارے مقدر میں غلامی لکھی دی گئی ہے تو اے اللہ کشمیر میں آج کے بعد کوئی بیٹی پیدا نہ ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اخوانی کی درگت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظلم وجور کی تیز آندھیوں نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔انڈین آرمی کا ظلم تو ایک طرف دوسری جانب اخوانیوں نے عوام کا جینا حرام کر رکھا تھا۔بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی گئی تھی انہی دنوں عااشق اخوانی نامی دہشت گرد نے مجھے بہت پریشان کر رکھا تھا۔جسکیوجہ یہ تھی۔میں صفاپورہ ہائر سیکنڈری سکول میں ایف اے میں پڑھ رہی تھی۔عاشق خان کی طرف سے مجھے غلط خطوط اور اسی طرح کے پیغام ملے۔میرا ایک کزن افضل بھائی بھی اسی سکول میں پڑھ رہا تھا۔میں نے اسکو عاشق کی گھٹیا حرکت کے بارے میں بتا دیا۔اس نے کہا کہ جب وہ کالج آے۔تو آپ مجھے بتانا۔میں اسکو سبق سکھاؤں گا۔ ماسنبل جھیل کے کنارے پر بنے لڑکے اور لڑکیوں کے کالج الگ الگ تھے۔لیکن تھے بلکل ساتھ ساتھ۔
عاشق وہاں پڑھتا نہیں تھا آوارہ گردی کے لیے آ جاتا تھا۔چھٹی کے وقت جونہی ہم گیٹ سے باہر آئے۔وہ نامراد ادھر ہی کھڑا تھا۔میں نے وہ خط اسکے منہ پر مارے اور۔ سخت غصے سے کہا۔ائندہ تم نے ایسی حرکت کی تو تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔وہ کمبخت امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد تھا۔میری بات کا اسے کوئی اثر نہ ہوا۔اور آگے بڑھ کر مزید بکواس کرنے لگا ۔مجھے پہلے ہی اس پر شدید غصہ تھآ۔میں نے اسکا گریبان پکڑا اور زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔اسی دوران افضل بھائی بھی وہاں آ گئے۔اور اسکی خوب درگت بنائی۔اسکے دوست احباب نے اسے طعنے دینے شروع کر دییے۔کہ تونے ایک لڑکی سے مار کھائی ہے۔کچھ دنوں بعد اس نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں تم سے بدلہ ضرور لوں گا۔اس وقت تو اسکی دھمکی کا مجھ پر کوئی اثر نہ پڑا۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد جب وہ اخوان میں شامل ہو گیا۔تو مجھے شدید پریشانی لاحق ہوئی۔کیونکہ اخوانی اور بھارتی مل کر خواہ مخواہ لڑکیوں کو پریشان کرتے رہتے تھے۔عاشق اخوانی جو میرا دشمن تھا۔ایک خونخوار اور ظالم انسان کے روپ میں سامنے آیا تھا۔پھر ایک دن اسکی طرف سے پیغام ملا کہ اب تم سے بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔اس دھمکی نے میری نیندیں حرام کر کے۔ رکھ دیں۔ کیوں کہ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔اب وہ خود بھی مسلح ہو گیا تھا۔اور انڈین کتوں کی سپورٹ بھی اسے حاصل تھی۔وہ ہمارے گاؤں میں آ کر اپنے مکروہ عزائم کا اظہار کرتا تھا۔ان ہی دنوں میرا ایف اے کا رزلٹ آ گیا۔میں سیکنڈ گریڈ میں پاس ہو گئی تھی۔اور میں نے بی اے کے لیے نواکدل وومین کالج سرینگر میں داخلہ لے لیا۔بڑے بھائی اپنی فیملی کے ساتھ سرینگر میں ہی رہائش پذیر تھے۔میں بھی انہی کے پاس رہنے لگی۔ہفتے دو ہفتے جب سرینگر سے گھر آتی تھی۔تو عاشق اخوانی کے خطرناک پیغام میری نیند حرام کر دیا کرتے تھے۔وہ لوگ علاقے میں دندناتے پھرتے تھے۔انہی دنوں ہواؤں کے دوش پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں۔کہ اجس بازی پورہ میں افغانی مجاہدین آ گئے ہیں۔وہ عنقریب صفاپورہ پہنچنے والے ہیں۔میں دن رات اللہ سے دعا مانگتی۔اے اللہ اپنی طرف سے کوئی نجات دہندہ بھیج دے۔جو مجھے اس ظالم کے شر سے بچاے۔رفتہ رفتہ دعائیں اثر دکھانے لگیں۔شہیدوں اور مظلوموں کا خون رنگ لانے لگا۔اور ستم رسیدہ لوگوں کو ظلم و جبر کے گھٹا توپ اندھیروں میں امیدواس کی جگمگ کرتی کوئی کرن نظر آنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرش ٹاپ شیروں کا نسکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشمیریوں کی اکثریت پاکستانی مجاہدین کو افغانی کہتے ہیں۔اور جن افغانیوں کے قصے علاقے میں مشہور ہو رہے تھے۔وہ دراصل مجاہدین جیش محمد تھے۔جو اس وقت حرکت الانصار کے نام سے جانے جاتے تھے۔یہ بازی پورہ کے پہاڑوں میں بیٹھ کر دشمنوں پر جھپٹنے کے لیے پرتول رہے تھے۔ساجد جہادی نے ادھر ہی ایک بڑا تربیتی کیمپ قائم کیا ہوا تھا۔مقامی نوجوانوں کو چھوٹے بڑے ہر قسم کے اسلحہ چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔اسی کیمپ میں عںبدالرحمن قندھاری جیسے شیر تیار ہوے۔
ایک دفعہ میں سرینگر سے گھر آئی۔تو میری بڑی بہن نے مجھے یہ حیرت انگیز خبر سنائی۔کہ کچھ دن پہلے ہمارے گھر چار افغانی آئے تھے۔اس وقت تک ہم لوگوں نے پاکستانی مجاہد نہیں دیکھے تھے۔اس لیے میں نے باجی سے پوچھا کہ وہ کیسے لگتے ہیں؟اس نے بتایا کہ وہ بہت خطرناک نظر آتے ہیں۔انکے بہت بڑے بڑے بال ہیں۔اور انہوں نے بہت سارا اسلحہ اٹھا رکھا تھا۔اب وہ بھارتی کتوں اور اخوانی شیطانوں کو خوب سبق سکھائیں گے۔ہم دیر تک یہی باتیں کرتی رہیں۔آہستہ آہستہ انہوں نے چیوا کے ساتھ والی پہاڑی کرش ٹاپ پر ڈیرے ڈال دئیے۔اور گاؤں میں بھی آنا شروع ہو گئے۔ایک بار ساجد جہادی پندرہ بیس مجاہدین کے ساتھ گاؤں میں آئے۔تو لوگ جوش ومسرت سے انکے پیچھے ناچنے لگے۔اور ہماری فوج۔۔۔۔زندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔کئی سالوں سے ظلم وستم کی چکی میں پسنے والے لوگوں کے لیے یہ مجاہدین کسی نجات دہندہ سے کم نہیں تھے۔لمبے لمبے بالوں والے مجاہدین کا نام بھارتی فوج بالخصوص اخوانی دہشت گردوں کے لیے دہشت و خوف کی علامت بن گیا۔لوگوں نے انہیں کچھ زیادہ ہی دہشت زدہ کرکے رکھ دیا تھا۔جب وہ کسی سے پوچھتے کہ رات کو افغانی آئے تھے تو جواب دیتے ہاں سر رات کو تیس چالیس آدمی اے تھے۔خدا کی قسم وہ اتنے خطرناک دکھائی دیتے تھے۔کہ انکی طرف دیکھ کر ہی خوف آتا تھا۔یہ سن کر ہندو بنیے پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔
ادھر ساجد جہادی نے تھوڑے ہی عرصہ میں پورے علاقے میں جہادی کارروائیاں شروع کر دیں۔اب گاندربل صورہ بژہ پورہ سرینگر تک ساجد جہادی کی کاروائیوں کا میدان تھا۔سری نگر بائی پاس پر چڑھنے والا کوئی فوجی اس یقین کے ساتھ سفر نہیں کر سکتا تھا۔کہ وہ زندہ واپس جا سکے گا یا نہیں۔اب بھارتی فوجیوں کی گاڑیوں کے برخچے بھی اڑ رہے تھے۔وہ بھی سربازار جس کی تردید کی کوئی صورت انڈیا کے پاس نہیں تھی۔ساجد جہادی شروع میں شہباز خان کے نام سے علاقے میں جانے جاتے تھے۔بعد میں وہ استاد جہادی اور غازی بابا کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے۔وہ سرشام ہی بستی میں آتےاور لوگوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں اپنا ہمنوا بنا لیتے۔وہ ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے۔جو ان سے ایک بار ملتا وہ انکا ہی ہم خیال ہو جاتا تھا۔لہجہ اس قدر شیریں تھا۔کہ ان کی باتیں سننے والے کے دل میں اتر جاتی تھیں۔رفتہ رفتہ وہ نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن گئے۔لوگ انہیں دشمن کے بارے میں ہر طرح کی معلومات دیا کرتے تھے۔وہ گھوم پھر کر فیلڈ بنانے میں مصروف رہتےاور آخر شب جنگل میں چلے جاتے تھے۔اس جنگل میں قدرتی طور پر کافی غاریں بنی ہوئی تھیں۔جو مجاہدین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کام دیتی تھیں۔اسکے علاوہ اس بلند بالا پہاڑ سے سارا علاقہ نظر آتا تھا۔غازی بابا نے پورے علاقے میں بھارتی فوج کے خلاف بارودی جال بچھا رکھا تھا۔پہاڑ کے دامن سے گزرنے والی سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پر آنے روز بارودی دھماکے ہوتے تھے۔کبھی پریشرککر میں بھی دھماکہ ہوتا تھا۔تو کبھی گیس سلنڈر کے اندر سے مائن بلاسٹ ہو جاتی تھی۔پےدرپے دھماکوں نے ہندو کمینے حرامی لعنتی بنئیے کو پریشان کرکے رکھ دیا تھا۔خوف وہراس کی وجہ سے ہندو بنیے کا پتلونوں میں پیشاب نکل جاتا تھا۔مجاہدین کاروائی کے بعد فلک بوس پہاڑ میں گم ہو جاتے تھے۔اور انڈین آرمی زخم چاٹتی رہ جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھگوان کے لیے مائن بلاسٹ مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مین روڈ سے صبح دس بجے اور شام چار بجے فوجی کنواے گزرتے تھے۔جنہیں اکثر مجاہدین نشانہ بناتے رہتے تھے۔بارودی دھماکے اور کراس فائرنگ روز کا معمول بن گیا تھا۔انڈین آرمی مجاہدین کے ہاتھ مار کھانے کے بعد بے گناہ عوام پر اپنی بھڑاس نکالتے تھے۔لوگ مجاہدین سے پھر بھی تعاون کرنے لگے۔اور کہتے کہ ہماری فکر مت کرو ان کافروں کو چن چن کر قتل کرو۔ایک دن چیوا کے لوگ اپنے کاموں پر نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔کہ اچانک فضا زوردار دھماکے سے گونج اٹھی۔دھماکے کی شدت سے درودیوار تک ہل گئے۔لوگوں کو صورتحال سمجھنے میں دیر نہ لگی۔اس لیے جس کاجدھر منہ تھا ادھر ہی بھاگ کھڑاہوا۔لوگوں نے انڈین آرمی کے تشدد سے بچنے کی یہی ترکیب نکالی تھی۔جب فائرنگ یا مائن بلاسٹ ہو جاتی تھی لوگ قریبی گاؤں میں جا کر چھپ جاتے تھے اور پھر انڈین فوج کے رفع ہوجانے کے بعد گھروں کو لوٹ آتے تھے۔غازی بابا نے اس کاروائی کی زبردست پلاننگ بنائی تھی۔کہ اس طرح کے پہلے دھماکے میں جب کافروں کے پرخچے اڑ جائیں گے۔تو اس وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے بڑے آفیسر آئیں گے۔چونکہ گرمیوں کے دن تھے چند گز،دور ایک درختوں کا جھنڈ تھا۔عقل کا تقاضہ یہی تھا کہ گرمی اور دھوپ سے بچنے کے لیے افسر وغیرہ چھاؤں میں آئیں گے۔مجاہدین نے وہاں بھی طاقتور مائن نصب کر دی۔اللہ کی مدد شامل حال رہی۔اور پہلے ہی دھماکے ایک فوجی گاڑی تباہ ہو گئی اور اس میں موجود فوجیوں کے پرخچے اڑ گئے۔ہیڈ کوارٹر وہاں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔تھوڑی ہی دیر بعد کرنل سنگھ تازہ دم لشکر کے ساتھ جاے وقوعہ پر پہنچا۔اپنے سپاہیوں کا حال دیکھ کر اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔مجاہدین تو اس کے ہاتھ آنے سے رہے اس لیے وہ نہتے کشمیریوں سے بدترین انتقام لینے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔اسی دوران اجل اسے درختوں کے جھنڈ کی طرف لے گئی۔وہ بڑے غصے سے سامنے کھڑے پہاڑ کی طرف دیکھ رہا تھا۔اسے معلوم تھا کہ میرے جوانوں کو خاک وخون میں ملانے والے اسی جنگل میں ہیں۔اسلام کے شیر یہ دلفریب نظارہ دوربین سے براہ راست دیکھ رہے تھے۔انہوں نے دیکھا کہ کرنل کے ارد گرد کافی لوگ جمع ہو چکے ہیں۔پھرادھر ایک بار پھر ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا دیا گیا۔اور اللہ کے دشمنوں کے جسم کے ریزے ریشے ہوا میں بکھر گئے۔یہ دھماکہ پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔کرنل سنگھ ایک میجر اور گیارہ سپاہیوں کے ہمراہ جہنم واصل ہو گیا۔باقی ماندہ فوج اپنے ساتھیوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھ کر حواس باختہ ہو گئی۔اس دن چشم فلک نے ان خونخوار درندوں کو شاید پہلی مرتبہ اس قدر بےبس اور خوفزدہ دیکھا تھا۔انہیں ہر قدم پر بارودی سرنگ کا گمان ہو رہا تھا۔وہ ڈرے سہمے بستی میں آۓ۔تاکہ لوگوں کو یرغمال بنا کر اور انہیں ڈھال بنا کر اپنے مردار فوجیوں کا ملبہ سمیٹ لیں۔مگر گاؤں کی گلیاں سنسان پڑی ہوئی تھیں۔دوسرے دھماکے کے بعد سارا گاؤں خالی ہو چکا تھا۔اس وقت بنئیے پر آفت نازل ہوئی تھی اس نے اسے انتقام لینے کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔اس کامیاب کاروائی کے بعد لوگوں کے کلیجے ٹھنڈے ہو گئے۔انہوں نے مجاہدین کو مبارکباد دی۔
میرے ماموں جی گاؤں کے نمبردار تھے انہیں ہر خاص و عام عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔کرنل سنگھ انہیں اکثر دھمکیاں دیتا تھا کہ آپ کے گاؤں کے لوگ مجاہدین کا ساتھ دیتے ہیں۔انہیں سمجھا دیں ورنہ میں اس گاؤں کو آگ لگا دوں گا۔مگر اللہ پاک نے کرنل سنگھ کو پہلے ہی جہنم کا ایندھن بنا دیا۔ماموں جی اس دن گھر میں موجود تھے۔بھارتی فوجیوں نے ان سے کہا مکھیا جی آکر دیکھ لیں۔کہ ملی ٹینٹو نے ہمارے کیا کیا؟مامو جی نے جو کافروں کا حشر دیکھا تھا۔اسکیوجہ سے کئی روز ان پر خوف طاری رہا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی دہشت ناک منظر تھا۔ہر طرف گوشت اور خون کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے۔کسی کا پیٹ پھٹا ہوا تھا تو کسی کی انتڑیاں درختوں پر لٹکی ہوئی تھیں۔محمد شفیع کو بھی فوجی یرغمال بنا کر لے گئے تھے۔اس نے بتایا کہ کرنل سنگھ انتہائی بھاری بھر کم ہونے کے باوجود بھی کئی فٹ اوپر درخت کے ساتھ لٹک گیا تھا۔ایک فوجی نے مجھے اسے نیچے اتارنے کا کہا۔میں درخت پر چڑھ کر سوچنے لگا کہ اس مردود کو کیسے نیچے اتاروں۔ڈرتے ڈرتے فوجی سے پوچھ ہی لیا ۔سر کیسے اتاروں۔تو اس نے گندی سی گالیاں بکتے ہوئے کہا۔ارے گرا دو نیچے سالے کو۔؟کون سا زندہ ہے؟جب میں نے کرنل سنگھ کو دھکا دے کر نیچے گرایا تو مجھے بڑا مزا آیا۔اسکا یوں دھماکہ ہوا۔گویا کوئی کدو زمین پر گر کر پھٹ گیا ہو۔بھارتی ہمیشہ اپنی ہلاکتوں کو راز میں رکھتے ہیں۔اور جہاں چھے آدمی کی جہنم رسید ہوں وہاں دو ہی بتاتے ہیں۔لیکن اس دن مجاہدین نے جو انکی درگت بنائی تھی۔اس سے وہ انتہائی خوفزدہ ہو چکے تھے۔انہیں ہر قدم پر موت نظر آ رہی تھی۔اس لیے انہوں نے مقامی لوگوں کی مدد سے جہنم واصل ہونے والوں کے جسموں کے ٹکڑے سمیٹے اور دم دبا کر بھاگ گئے۔ااس دن پچیس کے قریب بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے تھے۔اس کے بعد وہ بارودی سرنگ کے نام سے ہی ڈر جاتے تھے ۔ایک دن انہوں نے ماموں جی کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا۔مکھیا جی مجاہدوں سے کہو کہ چاہے کچھ بھی کریں۔بھگوان کے لیے مائن بلاسٹ نہ کریں۔فوجی افسروں کی منت سماجت کے باوجود مجاہدین نے بارودی حملے جاری رکھے۔چنددنوں کے بعد غازی بابا نے اسی جگہ کے آس پاس ایک اور مائن بچھا دی۔انڈین آرمی کے جوان اس قدر خوفزدہ تھے۔کہ انہوں نے کئی دنوں تک کیمپ سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا۔اور اس علاقے میں گاڑی پر سفر کرنا تو بلکل بند کر دیا۔اس سڑک پر تمام دن لوکل گاڑیاں بھی چلتی رہتی تھیں۔کئی دن انتظار کے بعد جب کوئی فوجی گاڑی اس طرف نہ آئی تو۔مجاہدین نے مائن نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔چاروں طرف مجاہد پوزیشنیں لیے کھڑے تھے۔تاکہ ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔بھائی شاہد نذیر عرف شرجیل مائن نکال رہے تھے۔اس دوران بدقسمتی سے مائن بلاسٹ ہو گئی۔اور بھائی شاہد جام شہادت نوش کر گئے۔اسکے بعد تو فوجی اور زیادہ خوفزدہ ہو گئے۔آخر انہوں نے یہ طریقہ اپنایا۔کہ صبح سویرے ایک گشتی پارٹی مائن ڈیٹیکٹر کے ذریعے روڈ چیک کیا کرتی تھی۔روڈ کلئیر ہونے کی صورت میں سفر کیا جاتا تھا۔یہ چیکنگ صفاپورہ سے لے کر چیوا تکی بالا اور صدر کوٹ بالاتک ہوتی تھی۔ایک مرتبہ تلاشی پارٹی کو چیواکے گردونواح میں سڑک کے کنارے الیکٹرک تار کاسرا نظر آ گیا۔تار کا دوسرا حصہ زمین کے اندر دبا ہوا تھا۔پھر کیا تھا کہ ہندو لالے کو بارودی سرنگ کا بھوت نظر آیا۔تو انکی دوڑیں لگ گئیں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ہندو بنئیے کی فوج کا پورا لشکر جمع ہو گیا۔مائن کو ناکارہ بنانے کے لیے اسپیشل فورس بلائی گئی۔کئی لوگوں کو گالیوں اور ڈنڈوں کی مار سے ڈرا کر ہانک کر وہاں لے جایا گیا۔کئی جوانوں کو زمین کھود کر مائن نکالنے پر لگا دیا گیا۔ان غریبوں کو دونوں طرف سے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔کیونکہ کچھ عرصہ قبل انڈین آرمی نے ایک مائن کا پتہ لگا لیا۔عین اس وقت صدرکوٹ بالا کا ایک ٹرک وہاں سے گزر رہا تھا۔آرمی والوں نے ٹرک روک کر ڈرائیور کو کھدائی پر لگا دیا۔اتفاق سے مائن بلاسٹ ہو گئی۔اور ٹرک ڈرائیور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔دوسری طرف شاہد بھائی والا واقعہ بھی زیادہ پرانا نہیں تھا ۔یہ کشمیری نوجوان ان واقعات کو یاد کر کے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خود کو جام شہادت نوش کے لیے تیار کر کے کھدائی میں مصروف تھے۔وہ لرزتے ہاتھوں سے زمین کا سینہ چیر رہے تھے۔دور دور کھڑے بھارتی سورمے ان پر گنیں تانے کھڑے تھے۔مائن اسکواڈ کے اہلکار الرٹ کھڑے تھے۔اچانک کھدائی کرنے والے جوانوں کے ہاتھ رک گئے۔اور وہ حیرت زدہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔پھر چاروں طرف کفر کے نرغے میں ہونے کے باوجود وہ اپنی ہنسی نہ روک سکے۔سالو کیا کر رہے ہو اپنا کام کرو بھارتی کتا بھونکا۔سر مائن نظر آ گئی ہے ایک جوان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔یہ سنتے ہی بھارتی کتوں نے نہایت محتاط انداز میں پیشقدمی شروع کر دی۔جب وہ قریب پہنچے تو گڑھے کے اندر پڑا ایک عدد آلو میاں انکا منہ چڑا رہا تھا۔آلو کے گرد بجلی کی تار لپٹی ہوئی تھی۔جس کا ایک حصہ محض بھارتی کتوں کو الو بنانے کے لیے ظاہر کیا گیا تھا۔بھارتی کتے اپنی اس بےعزتی پر سیخ پا ہوئے اور یرغمال لوگوں کی ہڈی پسلی ایک کر دی۔یہ مزے دار کاروائی بچوں کی تھی۔کشمیری بچے ایسی کاروائیاں کرتے رہتے تھے۔ ایک بار صدر بالا کوٹ میں اسی طرح کی کاروائی کر کے بھارتی فوج کو سارا دن ذلیل کیا تھا۔انہوں نے ایک شاپر کے اندر غلاظت رکھ کر بھارت کے ساتھ اپنی نفرت کا اظہار کیا۔اسکے علاوہ چھوٹے بچے کانچ کی بوتل میں مٹی کا تیل بھر کر اور اسے آگ دکھا کر فوجی گاڑیوں کے اندر پھینک دیتے تھے۔یہ بوتل بم کچھ اس انداز کا بنا ہوتا تھا۔کہ گاڑی کے اندر گرتے ہی زوردار انداز میں پھٹ جاتا۔گاے ماتا کے پجاری مجاہدین کا حملہ سمجھ کر کنواے روک دیتے۔اور بدحواسی میں ہزاروں گولیاں اندھا دھند فائر کر دیتے تھے۔کافی اسلحہ ضائع کرنے کے بعد جب انہیں حقیقت حال کا علم ہوتا تھا تو بہت شرمندہ ہوتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمانڈر انچیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1997ءکے آغاز میں بھارتی ایجنسیاں مجاہدین کی منظم اور مضبوط جماعت میں کوئی نقب لگانے میں کامیاب ہو گئیں۔اور صرف دو ماہ کے مختصر عرصہ میں یکے بعد دیگرے تین مایہ ناز چیف کمانڈر شہید ہو گئے۔حاجی عبداللہ شہید.۔۔ابو عباس غازی شہید۔اور خالد لاہوری جیسے معروف کمانڈروں کا یوں شہید ہو جانا جماعت کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ اس نقب کے ذریعے پوری تنظیم کا شیرازہ بکھر جاے گا۔لیکن ان نازک حالات میں اور عین وقت پر غازی بابا نے اس نقب کاسراغ لگا کر پاکستان میں ذمہ داروں کو مطلع کر دیا کہ اس نقب کو فوری بندوست کرو ورنہ ہم میں سے آخری مجاہد کی شہادت کی خبر سننے کے لیے کانوں کو تیار کر کو۔اللہ نے مدد فرمائی۔اور قائدین نے بروقت اس کاسازش کا سدباب کر کے نظام کو محفوظ کر لیا۔اب معاملہ کمانڈر انچیف کی تشکیل کا تھا۔یہ فیصلہ بہت زیادہ غوروخوض کرنے والا تھا۔کیونکہ حال میں بہت ہی تجربہ کار اور منجھے ہوئے کمانڈر شہید ہو چکے تھے۔مشاورت کے بعد ذمہ دارین کے ذہن میں جو نام آیا وہ ساجد جہادی کا تھا۔حالانکہ اس وقت وادی کے اندر ان سے سئنیر اور تجربہ کار ساتھی موجود تھے۔لیکن چند خصوصیات کیوجہ سے بزرگوں نے غازی بابا کا انتخاب کیا۔اور تمام ساتھیوں کو بھی انہی کے نام پر متفق کر لیا وہ خصوصیات یہ تھیں۔
1۔۔۔۔بہت اعلی عسکری تربیت اور تربیت کی طویل عملی مشق۔۔
2۔۔۔۔۔۔شدید ترین جذبہ عملی یعنی ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا عملی جذبہ جہادی کبھی بھی بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کے بلکل قائل نہیں تھے۔
3۔۔۔۔۔۔مقامی کشمیری آبادی کے ساتھ گھل جانے کی صلاحیت یہ صلاحیت ان میں۔ اتنی بھرپور تھی۔کہ عین اس وقت جب مجاہدین اس بات کے قائل ہو چکے تھے۔کہ مقامی مجاہدین کا نظام الگ اور مہمان مجاہدین کا نظام الگ ہونا چاہیے۔غازی بابا نہ صرف یہ کہ خود مقامی مجاہدین کے ساتھ رہنا پسند کیا۔بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر جنگل کی بجاے مقامی آبادی میں پوائنٹ بنا کر مل جل کر رہنا شروع کر دیا۔پاکستانی مجاہدین کا کشمیری مسلمانوں سے بدظن ہونے کی بڑی وجہ اس وقت کے نازک حالات تھے۔کیونکہ ایک طرف اخوان المسلمین کے خود ساختہ کمانڈر کوکہ پرے نے انڈین آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ دوسرا ان سرنڈر مینوں نے مجاہدین کے اہل خانہ اور معاونین پر جو بےتحاشا ظلم ڈھاے۔اسکیوجہ سے کئی مقامی مجاہدین نے انڈین آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔اس حوالے سے ایک ساتھی کے تشویش زدہ سوال کے جواب میں غازی بابا نے کہا۔کہ اخوان کیوجہ سے جو حالات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ صرف وقتی ہیں۔اور اخوانیوں کا خاتمہ ہونے تک ہی ہیں۔جو ساتھی کشمیری مسلمانوں کے بارے میں مختلف وسوسوں کا شکار ہیں انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ دراصل انہیں سمجھتے ہی نہیں۔میں نے یہاں آ کر یہ تجربہ کیا ہے کہ آپ ایک مرتبہ کشمیریوں کو یہ یقین دلا دیں۔کہ آپ انکے ہیں۔اور انکے لیے ہی یہاں آئے ہیں۔تو پھر مخبری تو دور کی بات یہ آپ کو اس حد تک اپنا لیں گے۔کہ آپ اپنے آپ کو بھول جائیں گے۔
4۔۔۔چوتھی اور بڑی خصوصیت جس کے فقدان نے آج امت مسلمہ میں قحط الرجال کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔وہ ہے بہادری اور احتیاط کو ساتھ لے کر چلنا۔آج معاملہ اتنا خلط ملط ہے کہ جو بہادر ہے وہ عقلمندی کی حدود کو پامال کر دیتا ہے۔اور احتیاط کو بزدلی کہہ کر اپنے لیے اسکو عار کی چیز بنا لیتا ہے۔ تو ضرورت اس بات کی تھی۔کہ ایسے شخص کو کمانڈر بنایا جائے۔جو بہادر بھی ہو ۔اور احتیاط کا دامن بھی نہ چھوڑے۔تاکہ کچھ وقت نکال کر عسکری سیٹ اپ کا جما سکے۔اور حقیقت یہ ہے۔کہ عسکری سیٹ اپ جمتا ہی تب ہے۔جب کمانڈر بھی کچھ وقت تک جم سکے۔ورنہ آنیاں جانیاں ہی لگی رہتی ہیں۔ساجد جہادی میں یہ صفت حددرجہ پائی جاتی تھی۔وہ بہادری کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں اپنی حفاظت کا بھی خیال رکھتے تھے۔اس احتیاط کی وجہ سے شروع شروع میں کپواڑہ کے ساتھی انہیں ابو ٹینشن کہنے لگے تھے۔مگر وہ ان طعنوں سے نہ کبھی گھبراے اور نہ ہی بزدل ہوے۔بلکہ اس کے جواب میں بڑے پیار سے اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے۔ دیکھو بھائیوں بہادری اور بےوقوفی احتیاط اور بزدلی میں باریک سا فرق ہے۔ جاری ہے

Address

Karachi Lines

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalla Ba Razzy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share