29/01/2025
20 ستمبر 2021 کو نادرہ انچارج کرک نے مجھ پر ایک جھوٹا ایف آئی آر کا اندراج کر رکھا تھا جس کی وجوہات میں #قوم، اور #شہداء کے نام پر لوٹنے والوں کو چیخ چیخ کر تین سالوں سے بیان کر رھا ھو۔۔۔ لیکن بجایے اس قانون شکن انچارج کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجایے نادرہ خیبر پختونخوا افسران نے جھوٹی اور فرضی تفتیش کے نام پر انچارج کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس واقعہ کا پس منظر بتاتا جاو۔۔۔۔۔
نادرہ آفس کرک میں اقرباءپروری انتہائی عروج پر تھی، صبح سویرے دور دراز علاقوں سے ایے ھوئے لوگوں کے بجایے نو دس بجے نادرہ آفس میں آنے والے شہریوں کو تعلقات کے بنا پر پہلا نمبر دیا جاتا تھا۔۔۔
ایک شہید کی فیملی جس نے نادرہ آفس کرک والوں نے تین سے چار دن مسلسل چکر لگوائیں گیے جبکہ کام ایک معمولی نوعیت کا تھا۔ جب اس بات کا مجھے علم ھوا تو میں نے سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروائی اور #شہداء فیملی کو عزت اور تکریم دینے کی استدعا کی۔
نادرہ کے ذمہ داران نے #شہداء فیملی کو عزت اور تکریم دینے سے معزرت ظاہر کی یہ تمام سکرین شارٹ تصاویر میں واضح طور پر درج ھے۔
20 ستمبر 2021 کو جب میں نے اس وقت کے نادرہ انچارج کرک کے پاس جا کر اس معاملے پر بات کرنا چاھیے تو ان کے سامنے اقرباءپروری کے پان سے چھ بندے ترجیحی بنیادوں پر کام کے لیے بیٹھے ھوئے تھے۔ جب میں اس بات پر اعتراض کیا کہ ایک طرف #شہداء فیملیز کو عزت اور تکریم سے انکار کیا جاتا ھے تو دوسری طرف ان افراد کو کس بنیاد پر بٹھا کر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جا رھا ھے۔۔۔
اس وقت کے نادرہ انچارج کرک نے رعونت سے بھرے لہجے میں جواب دیا کہ میں اس دفتر کا انچارج ھو میں کچھ بھی اپنی مرضی سے کر سکتا ھو کوئی مجھ سے پوچھنے کی ہمت رکھتا ھے اور نہ اوقات۔۔۔۔
ان کے رعونت بھرے لہجے کو دیکھتے ھوئے میں دوبارہ شکایت کرنے کا بتایا تو اس فرعون نے مقامی ایس ایچ اور کو فون کرکے بلایا اور مل کر مجھے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی جس پر میں نے انکار کیا۔
میرے دوبارہ شکایت کرنے سے باز نہ آنے کے #جرم مین تھانہ کے جا کر شام تک حبس و بے جا میں بٹھایا گیا اور بالآخر شام پانچ بجے ایک جھوٹا ایف آئی آر کروا کر جیل بیج دیا۔
جیل سے ضمانت ملنے پر میں نے ان #شہداء فیملیز کے لیے آواز اٹھانے کی جرم میں ہر فورم پر جا کر آواز اٹھائی جس پر فرضی تفتیش کی گئی جس کے سربراہ ھو نادرہ کے افسران یا پولیس افسران کو رکھا گیا جنہوں نے مل کر #شہداء فیملیز کے آواز اٹھانے کو جرم بنا رکھا تھا۔
عرصہ تین سال سے میں اس کیس کے سلسلے میں مقامی عدالت کا چکر لگا رھا ھو لیکن وہ فرعون نادرہ افسر کسی قسم کی کارروائی کا حصہ بننے سے اجتناب کرتا ھے جبکہ دوسری طرف اس کیس کے سلسلے میں چھٹی کرنے اور ٹی اے ڈی اے کے مد ہزاروں روپے لیتا رہتا ھے جس کی تائید موصوف نے اپنی زبان سے کر رکھی ھے۔۔۔
اب سوال یہ ھے۔۔۔۔۔۔
وہ #شہداء جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر رکھا ھے ان کے بچوں کے لیے عزت اور تکریم ہر محکمہ یا ادارے میں نہیں رکھا جا سکتا۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا #شہداء کے قبروں پر پھولوں کے بجایے ان کے بچوں کو عزت دینا ریاست کی ذمہ داری نہیں بنتی۔۔۔۔؟؟؟
کیا ریاست کی یہ زمہ داری نہیں ھے کہ ہر محمکہ کے افسران کو اس بات کے پابند بنایا جائیں کہ #شہداء کے بچوں کو ہر ممکن تعاون اور مدد کو یقینی بنائیں۔۔۔۔؟؟؟
کیا ہم اتنے بے حسی قوم ھے کہ #شہداء کے مسائل پر آواز اٹھانے والوں کو مجرم بنا کر پیش کیا جائیں جبکہ ان #شہداء کے بچوں کو مسائل میں ڈالنے والوں کو پروموشن بھی دیا جائیں اور ادارے کے افسران بالا کے سرپرستی میں ان کو بچایا جائیں۔۔۔۔
کیا اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد بھی اپکو اتنی ہمت نہیں ھے کہ ہمارے مستقبل کے لیے شہید ھونے والوں کے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شییر کیا جائیں
ایوب خٹک کی آپ بیتی