03/09/2022
اسلام و علیکم ، میرا یہ پیج بنانے کا مقصد نا تو آپکو کچھ بیچنا ہے اور نا ھی اس کے پیچھے میری نیت آپ سے پیسے بٹورنے کی ہے، یہ مسئلہ پیسے دولت اور شہرت جیسی چیزوں سے بہت بڑا ہے، یہ مسئلہ پاکستان کے مستقبل کا ہے، اور یہ مسئلہ آپکی اور میری آنے والی نسل کے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، اس لئے غور سے ساری تحریر پڑھیں اور سوچیں پھر کریں اپنے بچوں کے لیے، اپنے ملک پاکستان کے لیے، اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے 😢
میرا نام ارسلان احمد ہے، میں ایک سوشل ورکر ہوں اور باغبانی میرا جنون ہے، میں نے تقریباً 5 سال پہلے پودوں کے بارے پڑھنا اور ان پر ریسرچ کرنا شروع کیا تھا، پہلے تو میں نے نرسری سے کچھ پودے خریدے اور گھر لا کر انکی دیکھ بھال اور انکو ملٹی پلائی کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے، جس سے مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا تھا، کچھ کٹنگز لگائی، کچھ بیج اُگائے، اور ان پر مختلف تجربات کیے، جن میں کامیابی کے بعد میرا یہ شوق جنون میں بدل گیا، میں نے اپنے گھر کی چھت پر 6 مہینے میں مختلف قسم کے لگ بھگ 2000 پودے تیار کیے، (چھوٹی چھوٹی مٹی کی تھیلیوں میں) کچھ کو پولیتھین شیٹ سے ڈھانپ کر تو کچھ کو سورج کی بلواسطہ روشنی میں رکھ کر،،،، ، ہر طرف پودے ہی پودے تھے، کچھ بڑے اور بہت سے چھوٹے سائز کے، ایسا لگتا تھا کسی نرسری میں آ گیا ہوں، پھر مجھے فیصل آباد سے لاہور شفٹ ہونا پڑا جس وجہ سے سارے پودے دوستوں میں اور ارد گرد کے لوگوں میں بانٹ دیے، میں اپنے پودوں کے ساتھ کافی باتیں اور تجربات کر چکا ہوں، مزید یہ کہ میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک بنا تھکے باغبانی کر سکتا ہوں، جیسا کہ پہلے ارض کر چکا ہوں کہ یہ میرا جنون ہے، جو شوق سے کافی آگے کی بات ہے میں ہر دن جب تک کچھ نیا نہیں کرتا تھا تب تک لگتا تھا کے آج میں نے گارڈننگ نہیں کی، کبھی سر نکالتی نئی پتیوں کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا تو کبھی نئی اگتی جڑوں کا مشاہدہ کر کے، اس بار میں یہ سب کچھ لاہور والے گھر کی چھت پر کروں گا، اور آپ لوگوں کو بھی اس کے بارے آگاہ کروں گا (اس بار میرا ہدف کچھ اور ہے) جیسا کہ میں نے بتایا کہ میں ایک سوشل ورکر ہوں اور مجھے سوشل ورکنگ کرنا پسند ہے، جبکہ سائنس نے آج باغبانی اور جنگلات کے بہت سے فائدوں پر بات کرنا شروع کر دی ہے، گھر میں پودے رکھنے سے آپ بہت سی جسمانی اور روحانی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، اصل میں پودے قدرت کی طرف سے انسان کے لیے کمال کا تحفہ ہیں، مگر افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں، تبھی تو ہمارے ملک کے زیادہ تر لوگ خشک طبیعت کے ہو چکے ہیں، مختلف قسم کی بیماریوں کی زد میں آ چکے ہیں، جیسا کے بلڈ پریشر, ذہنی تناؤ، دل کے مرض، وغیرہ غیرہ،
میں مانتا ہوں کے بیماری اور شفا مولا کی طرف سے ہے، سیلابوں جیسی فنا کن آفتیں بھی اُسکے حکم کی محتاج ہیں، مگر کیا پودے اور درخت مولا کی طرف سے نہیں ہیں، کیا قدرت نے پودہ لگانے کو صدقہ جاریہ نہیں کہا ؟؟؟ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کے قدرت نے اپنے تخلیق کردہ نظام میں پودوں اور درختوں کو کس قدر اہمیت دی ہے، آج کل جو صورت حال ہمارے ملک کے جنگلوں اور آبادیوں کی ہو چکی ہے، لوگ گاڑیاں خرید رہے ہیں، فیکٹریز لگا رہے ہیں، پلیوشن اور پاپولیشن دونوں بڑھا رہے ہیں، مگر پودے کوئی نہیں لگا رہا، ہم ایسے کب تک زندہ رہ سکتے ہیں، آج کی اس صورت حال میں ایک ایک پودہ ہم پاکستانیوں کے لیے کس قدر اہم ہے اگر ہم جان لیں تو کوئی انسان تب تک اپنی نئی گاڑی روڈ پر نہیں چلائے گا جب تک کے وہ روڈ کے کنارے کچھ پودے نا لگا دے، کوئی بھی انسان تب تک اپنی نئی فیکٹری کا افتتاح نہیں کرے گا جب تک کے اس فیکٹری کی مناسب جگہوں کو سر سبز پودوں سے نا بھر دے، کوئی بھی ماں باپ اپنے آنے والے بچے کے لیے تب تک شوپنگ (خریداری) نہیں کریں گے جب تک کہ اُس کے مستقبل کے لیے چند پودے نا لگا دیں، یہ واقعی بہت ضروری ہے، نہیں تو 5 نہیں تو 10 سال (میرے منہ میں خاک مگر) اگر ایسے ہی چلتا رہا تو حالات بہت کشیدہ ہو سکتے ہیں، جیسا ہمیں گمان بھی نا ہو،
آج ہمارے ملک میں سیلاب سے جو تباہ کاری ہو رہی ہے اسکی بنیادی وجہ ڈیمز کا نا ہونا تو ہے ہی، مگر ساتھ ہی ساتھ جنگلوں کا وہ مافیا ہے جو ہماری پاک سر زمین کی ہریالیوں اور درختوں کو نیلام کر رہا ہیں، بہت دکھ ہوتا ہے دیکھ کر، سن کر، (یہ تو بھلا ہو ہمارے محترم لیڈر عمران خان کا جنہوں نے پاکستان کے بڑے بڑے گلیشیرز کو وقت پر ہی درختوں کے ساتھ ڈھانپ دیا تھا، ورنہ خدا نا کرے اس صورت حال میں اگر وہ گلیشیئرز بھی پگھل جاتے تو ہمارا پورہ ملک ڈوب جاتا 🥺 ایک سروے کہ مطابق پاکستان میں اس وقت رقبے کے لحاظ سے درختوں کی موجودہ شرح صرف ٪2.2 رہ گئی ہے، مطلب پاکستان کے قومی جھنڈے میں تو سبز رنگ ٪75 ہے، مگر حقیقت میں رقبے کے لحاظ سے صرف ٪2.2 پر ہی سبز درخت نظر آتے ہیں، اور یہ شرح مزید نیچے جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ہر سال گرمی اور بیماریوں میں زیادتی ہو رتی چلی جا رہی ہے، موسم بلکل الٹ پھُلٹ ہو چکا ہے، ایک خوشحال اور صحت مند ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہاں رقبے کے لحاظ سے ٪25 رقبے پر درخت ہونے چاہئیں، مگر افسوس کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، اگر یہی سستی اور لا پرواہی والا عالم رہا تو ہماری آنے والی جنریشن کم از کم ہمیں دعائیں تو نہیں دے گی، سارے جنگل خالی ہو رہے ہیں، اور اب تو جنگل بھی نام کے ہی رہ گئے ہیں، لاھور شہر میں بند روڈ والی سائیڈ پر کرول گاؤں کے پاس ایک جنگل ہے، جس کا رقبہ 1000 ایکڑ پر مشتمل ہے، کسی دن آپکے لئے Vlog بناؤں گا اندر تک چلیں گے، اور میں آپ کو دکھاؤں گا کہ یہ گندہ مافیا اور ارد گرد کے رہائشی لوگ اپنے ہی گھر کو کس طرح سے لوٹتے ہیں، کس تعداد میں درخت چوری ہو رہے ہیں، ان حالات میں جنگلوں پر منحصر رہنا فقت بچپنا ہو گا، ہمیں اپنے گھروں میں اور انکے آس پاس، راستوں پر، سکول کالج اور جہاں جہاں مستقل خالی جگہ ملے وہاں پودے لگانا پڑیں گے، ہمیں خود اپنے شہروں کو ان سبز پودوں سے بھرنا اور انہیں پانی دینا پڑے گا، تا کہ وہ بڑے درخت بن سکیں، اب میرا ہدف صرف گھر کی چھت پر پودے لگانے تک نہیں رہا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اکیلا پورے ملک میں تو پودے نہیں لگا سکتا مگر کم از کم پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اپنے حصے کا کام تو کر ہی سکتا ہوں، اپنے گھر سے اپنے علاقے سے اپنے شہر سے شروع کر کے جہاں تک ممکن ہوا جاؤں گا، سکول، کالجز، پولیس سٹیشنز، ہر اس جگہ پر فری پودے لگا کر دوں گا، جہاں ان سے منہ موڑا جاتا ہے، اور چند پیسے بچانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ زیادہ اہم نہیں ہیں، پودے رکھ لئے تو کیئر کون کرے گا، بھئی جو شخص ان حالات میں پودے کو پانی تک نہیں پلا سکتا اس کا ہونا نا ہونا پاکستان کے لئے ایک برابر ہے، ہم اُنہیں سمجھائیں گے کہ پودے اور درخت کس قدر ضروری ہیں، جہاں تک ممکن ہوا ہم اس سبز رنگ کو پھیلا دیں گے، ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی، جیسا کہ ہم سب اپنے محترم لیڈر عمران خان کے نظریے پر ایک ہوئے ہیں بلکل اسی طرح ہم پودوں اور درختوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے بھی ایک ہو جائیں تو اگلے 5 سال میں سیلاب کا تصور بھی نہیں رہے گا، پاکستان میں ہر انسان تازہ سانس لے سکے گا، گرمی کی آگ میں کمی ہو گی، ہوا بیماریوں اور وباؤں سے پاک ہو گی، ہم عوام ڈیم تو نہیں بنا سکتے وہ کام خان صاحب بخوبی کر لیں گے، مگر ایک کام ہے جو ہم کر سکتے ہیں، ہم پودے لگا سکتے ہیں، اور انہیں پانی دے سکتے ہیں، تا کہ وہ بڑے درخت بن سکیں ...
میرا یہ پیج بنانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ میں لوگوں کو گارڈننگ اور پودوں کے بارے سکھا سکوں، گھر سے باہر پودے ہم بھائی لگا لیں گے، بہنیں گھروں میں لگائیں، اپنے بچوں میں بھی اس بارے آگاہ کریں دن میں صبح یا شام کے وقت ایک گھنٹہ باغبانی کو دیں، یہ پودے آپکے گھر میں آئی بری نظروں کو بھی کھا جائیں گے، میں جلد ہی You-Tube پر بھی ایک چینل بنانے جا رہا ہوں جہاں میں پریکٹیکلی گارڈننگ سے مطلق آپکو آگاہ کروں گا، اور جہاں جہاں ہم پودے لگائیں گے وہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کروں گا، تا کہ آپ لوگ بھی دیکھیی، سنیں اور جذبہ حاصل کریں، اور اپنے اپنے حصے کے پودے خود اپنے ہاتھوں سے لگائیں، جیسے ہر گھر میں ہر کسی کا اپنا اپنا موبائل فون ہے، تو پھر ہر کسی کا اپنا اپنا پودہ کیوں نہیں ہو سکتا، تو کوشش کریں جتنے گھر کے فرد ہوں کم از کم اتنے پودے تو ہونے چاہئیں یہ ایک حقیقی صدقہ جاریہ ہے بہت سے فائدوں کے ساتھ، یہ رنگ بھرنگے انسانیت کے دوست مسلسل مالک و مولا کے ذکر و فکر میں رہتے ہیں، لگانے والے اور پانی دینے والے کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں، انسان اور پودے کہیں نا کہیں آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ان سے محبت کریں، اگلے بلاگ میں میں آپکے ساتھ پودوں کے بیشمار حیران کن فائدے شیئر کروں گا، جن کے بارے بہت سے لوگ نہیں جانتے ...
GARDENER THE SOCIAL WORKER
(IMRAN TIGER)