25/05/2026
غریب آدمی کا حج___🕋
زندگی میں ایک بار حج کرنا ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے لیکن غریب پر نہیں کیونکہ حج کا شمار ان عبادات میں ہے جنہیں اللہ تعالی نے مالی استطاعت سے مشروط کر رکھا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے رواجی مذہبی ڈھانچے نے عام مسلمانوں کو ہر حال میں ادا کرنے والی عبادات کے مقابلے میں استطاعت کی شرط والی عبادات کی طرف اتنا متوجہ کر دیا ہے کہ ایک عام مسلمان جس کی پہلی ذمہ داری اپنی زیر کفالت افراد کے نان و نفقہ اور بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے معاشرے کو بہترین افراد مہیا کرنا تھا وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق فراموش کر کے پیسے جوڑتا ہے اور حج پر جاتا ہے۔
ایسے غریب لوگ جب حج کر کے آتے ہیں تو ان کی بڑی تعریف کی جاتی ہے کہ یہ انتہاٸی غریب بندہ تھا،اس نے پیسہ پیسہ جوڑ کر بیس سالوں میں حج کے اخراجات جمع کئے۔
ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اس غریب آدمی نے استطاعت سے مشروط عبادت کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا، کٸی سالوں سے جو پیسے حج کے لئے جمع کر رہا تھا جب وہ پیسے زکواتہ کے نصاب کو پہنچے تو اس نے زکواتہ ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا،بچوں کو بہتر خوراک اور بہتر تعلیم نہ دلوا کر معاشرے کو جسمانی أور شعوری لحاظ سے کمزور افراد دینے کا گناہ اپنے سر لیا۔
خدا کے لئے غریبوں کو اللہ کا حقیقی دین بتاٸیں جس سے ان کی دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی، غریبوں کو جھوٹی تعریفوں کی ٹکٹکی پر مت چڑھاٸیں، خدارا ان پر رحم کریں۔
حاصل کلام : جب ایک مسلمان اللہ تعالی کی دی ہوئی رعایتوں سے منہ موڑتا ہے تو پھر کریم رب بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ذلت اور کسمپرسی والی زندگی مقدر ٹھہرتی ہے اور آخرت کا خسارہ الگ...🙏
(نوٹ) ضروری نہیں ہوتا کہ لکھنے والہ جس کیفیت میں لکھے پڑھنے والہ بھی اسی کیفیت میں ہو لہذا قارئین کرام کا پوسٹ سے متفق ہونا ضروری نہیں)
اندھے بھگت پوسٹ سے دور رہیں اھل علم اگر چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر اختلاف رائے قائم کرسکتے ہیں 🌹
ALM