ALEEF LAAM MEEM

ALEEF LAAM MEEM السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکتہ... ALEEF LAAM MEEM is the source of Teachings of Islam...Plz invite your All Friends to like this page...It is Sdqae Jaria...

غریب آدمی کا حج___🕋زندگی میں ایک بار حج کرنا ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے لیکن غریب پر نہیں کیونکہ حج کا شمار ان عبادا...
25/05/2026

غریب آدمی کا حج___🕋
زندگی میں ایک بار حج کرنا ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے لیکن غریب پر نہیں کیونکہ حج کا شمار ان عبادات میں ہے جنہیں اللہ تعالی نے مالی استطاعت سے مشروط کر رکھا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارے رواجی مذہبی ڈھانچے نے عام مسلمانوں کو ہر حال میں ادا کرنے والی عبادات کے مقابلے میں استطاعت کی شرط والی عبادات کی طرف اتنا متوجہ کر دیا ہے کہ ایک عام مسلمان جس کی پہلی ذمہ داری اپنی زیر کفالت افراد کے نان و نفقہ اور بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعے اپنے معاشرے کو بہترین افراد مہیا کرنا تھا وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق فراموش کر کے پیسے جوڑتا ہے اور حج پر جاتا ہے۔
ایسے غریب لوگ جب حج کر کے آتے ہیں تو ان کی بڑی تعریف کی جاتی ہے کہ یہ انتہاٸی غریب بندہ تھا،اس نے پیسہ پیسہ جوڑ کر بیس سالوں میں حج کے اخراجات جمع کئے۔
ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اس غریب آدمی نے استطاعت سے مشروط عبادت کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کے جاٸز حقوق ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا، کٸی سالوں سے جو پیسے حج کے لئے جمع کر رہا تھا جب وہ پیسے زکواتہ کے نصاب کو پہنچے تو اس نے زکواتہ ادا نہ کرنے کا گناہ اپنے سر لیا،بچوں کو بہتر خوراک اور بہتر تعلیم نہ دلوا کر معاشرے کو جسمانی أور شعوری لحاظ سے کمزور افراد دینے کا گناہ اپنے سر لیا۔
خدا کے لئے غریبوں کو اللہ کا حقیقی دین بتاٸیں جس سے ان کی دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی، غریبوں کو جھوٹی تعریفوں کی ٹکٹکی پر مت چڑھاٸیں، خدارا ان پر رحم کریں۔
حاصل کلام : جب ایک مسلمان اللہ تعالی کی دی ہوئی رعایتوں سے منہ موڑتا ہے تو پھر کریم رب بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ذلت اور کسمپرسی والی زندگی مقدر ٹھہرتی ہے اور آخرت کا خسارہ الگ...🙏

(نوٹ) ضروری نہیں ہوتا کہ لکھنے والہ جس کیفیت میں لکھے پڑھنے والہ بھی اسی کیفیت میں ہو لہذا قارئین کرام کا پوسٹ سے متفق ہونا ضروری نہیں)
اندھے بھگت پوسٹ سے دور رہیں اھل علم اگر چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر اختلاف رائے قائم کرسکتے ہیں 🌹
ALM

🕋 مناسکِ حج کی ترتیب 🕋1️⃣ مسجد الحرامحج کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوتا ہے جہاں حاجی طواف اور عبادات ادا کرتے ہیں۔2️⃣ منیٰحجاج...
24/05/2026

🕋 مناسکِ حج کی ترتیب 🕋

1️⃣ مسجد الحرام
حج کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوتا ہے جہاں حاجی طواف اور عبادات ادا کرتے ہیں۔

2️⃣ منیٰ
حجاج کرام 8 ذوالحجہ کو منیٰ جاتے ہیں اور وہاں قیام کرتے ہیں۔

3️⃣ عرفات
9 ذوالحجہ کو میدانِ عرفات میں وقوف کیا جاتا ہے، جو حج کا سب سے اہم رکن ہے۔

4️⃣ مزدلفہ
غروبِ آفتاب کے بعد حاجی مزدلفہ جاتے ہیں، رات قیام کرتے ہیں اور کنکریاں جمع کرتے ہیں۔

5️⃣ جمرات
منیٰ واپس آکر شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، جسے رمیِ جمرات کہتے ہیں۔

6️⃣ قربانی اور حلق
قربانی کے بعد مرد سر منڈواتے یا بال کٹواتے ہیں جبکہ خواتین تھوڑے بال کاٹتی ہیں۔

7️⃣ طوافِ زیارت
آخر میں مسجد الحرام واپس آکر طوافِ زیارت ادا کیا جاتا ہے۔

✨ حج صبر، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم سفر ہے۔
ALM

24/05/2026

میں سمجھتا تھا کہ بندہ پہلے اللہ سے محبت کرتا ہے، پھر اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔
یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھا:
"يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ"
(اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں)
تو مجھے معلوم ہوا کہ پہلے اللہ محبت کرتا ہے۔
اور میں سمجھتا تھا کہ بندہ پہلے توبہ کرتا ہے، پھر اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھا:
"ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا"
(پھر اللہ. نے ان پر توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں)
تو مجھے معلوم ہوا کہ اللہ ہی بندے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کرے۔
اور میں سمجھتا تھا کہ بندہ پہلے اللہ کو راضی کرتا ہے، پھر اللہ اس سے راضی ہوتا ہے۔
یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھا:
"رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ"
(اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے)
تو مجھے معلوم ہوا کہ پہلے اللہ بندے سے راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن سے تو محبت کرے، جن کی توبہ قبول کرے، اور جن سے راضی ہو جائے۔
ALM

کل آخری دن ہے اتوار کی رات سے حج  شروع ہوجائے گا مسئلہ ان کے لیئے نہیں ہے جن کے پاس ٹچ موبائل ہیں مسئلہ ان کے لیئے ہے جو...
23/05/2026

کل آخری دن ہے اتوار کی رات سے حج شروع ہوجائے گا مسئلہ ان کے لیئے نہیں ہے جن کے پاس ٹچ موبائل ہیں مسئلہ ان کے لیئے ہے جو ٹیکنالوجی سے نا واقف ہیں ۔

1:- بزرگ حجاج ایک بات یاد رکھیں کہ نسک کارڈ آپ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کو ہوٹل سے آتے ہوئے جاتے ہوئے لازمی پہنیں ۔

2:- آپ کے ہاتھ میں نیلے کلر کی یا کسی اور رنگ کی ریبن کہہ لیں یا پرنٹڈ ڈوری جسے گھڑی کی طرح پہنا دیا گیا ہے وہ آپ کے مکتب نمبر کی آئی ڈی ہے
جب آپ منیٰ مزدولفہ یا عرفات جائیں گے تو آپ کی پہچان اس پہ لکھے مکتب نمبر سے ہوگی اس کو دیکھ کر آپ کو صحیح راستہ بتادیا جائے گا
3:- اگر آپ گم ہوجائیں تو پریشان نہ ہوں آپ کو سبز رنگ کی جیکٹ پہنے خادم حجاج کے پاس جائیں آپ کے گلے میں ایک سبز رنگ کا کارڈ ہوگا جس پہ آئی ڈی کارڈ لکھا ہوگا
وہ بھی آپ کو آپ کے کیمپ تک پہنچانے کا کام دے گا ۔
4:- جن لوگوں کے پاس موبائل ہیں وہ مدار ایپ ڈاؤن لوڈ کرلیں اس میں منیٰ مزدلفہ عرفات اور طواف زیارہ کے لیئے تمام نقشہ اور راستے موجود ہیں
جو آپ کو منزل تک پہنچانے میں مدد دیں گے ۔

5:- پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا ہے کھائے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن پیئے بغیر انسان ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوجائے گا ۔
6:- اپنا بیگ ہلکے سے ہلکا تیار کریں ایک آضافی احرام ، چھتری ، پلگ شو ، بغیر خوشبو والا صابن ، ایک ٹیشو رول ، سن گلاسز ، پاور بینک ، چٹائی ، آضافی جرانیں اور ہوا والا تکیہ لازمی رکھیں ۔
7:- اگر ہوسکے تو کالے چنے اور کچھ ڈرائی فروٹ اپنے پاس رکھیں ۔
8:- ایک بات یاد رکھیں کہ حج کا معنی ہی قربانی ہے اگر آپ یہاں اپنی انا ، اسٹیٹس اور تکبر کی قربانی نہیں دیں گے تو حج کا مطلب سمجھ نہیں سکیں گے ۔

9:- کوشش کریں کہ جب آپ 8 سے 12 ذی الحج تک مناسک حج ادا کریں تو ان کی پروپر گائیڈ لائیں آپ کے پاس ہو اپنے پاس آپ کتابچہ یا پمفلٹ رکھ لیں جس پہ حج کا طریقہ درج ہوتا ہے

کوشش کریں کہ اپنا گروپ علماء حضرات کے ساتھ بنائیں تاکہ آپ کو شرعی مسائل سمجھنے میں آسانی ہو ۔
10:- حج ان شاء اللہ آپ کا ہوگا لازمی ہوگا آپ سے پہلے بھی تمام لوگوں کا حج ہوا ہے وہ بھی زندہ اپنے وطن لوٹے ہیں اس لیئے پریشان نہیں ہونا ۔

جب ہم حج کی نیت کرتے ہیں تو کہتے ہیں اے اللہ اس حج کس میرے لیئے آسان فرما اور میری طرف سے قبول فرما تو اس لائن کو یقین کامل رکھ کر کہیئے گا پھر دیکھنا کہ ﷲ پاک کیسے آپ کے لیئے رستے بناتا ہے ۔

حجاج کرام کے لیئے یہ اہم تحریر ہے ہوسکے تو ان تک پہنچا دیں باقی دعا کا طالب آپ کا بھائی
❤❤❤❤

ALM

23/05/2026

🕋 *حج کا مکمل طریقہ*
📚ماخوذ از: *حج کورس*
📝 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*

🗓️ حج کے پانچ دن ہیں۔ 8 ذوالحجہ سے 12 ذوالحجہ تک۔
❉ 7 ذوالحجہ کے دن احرامِ حج کی تیاری مکمل کر لیں۔ ناخن تراشیں، مونچھیں کاٹیں، بغلوں کے اور زیرِ ناف بال صاف کریں اور غسل کریں۔
❉ 8 ذو الحجہ کو منیٰ کے لیے روانہ ہونا ہے اور وہاں پانچ دن کا قیام ہو گا۔
❉ *اس کے لیے درج ذیل ضروری سامان ساتھ لینا چاہیے:*
مسواک قربانی کا کوپن
ایک عدد چٹائی یا دری ایک ہوا والا تکیہ
کپڑوں کا ایک جوڑا ایک گرم چادر (حسبِ ضرورت)
جائے نماز کھانے کی مختصر اشیاء
پانی کی بوتل (گلے میں لٹکانے والی) ضروری ادویات
احرام کی زائد چادریں ضروری برتن
چھتری ایک عدد موبائل کا چارجر یا پاور بینک
یہ سب چیزیں ایک بیگ میں رکھ لیں اور بقیہ تمام سامان اپنی مکہ مکرمہ والی رہائش گاہ پر چھوڑ دیں۔

1️⃣ *حج کا پہلا دن 8 ذوالحجہ*
٭ جس طریقے سے عمرہ کا احرام باندھا تھا اسی طریقے سے حج کا احرام باندھ لیں۔
٭ ممکن ہو تو حرم شریف میں آئیں۔ یہاں آ کر مستحب یہ ہے کہ پہلے طواف کریں۔
٭ اس کے بعد احرام کے لیے دورکعت نفل پڑھیں۔
٭ اگر طواف نہ کرسکیں تو احرام کی نیت سے دو رکعت نفل اداکریں۔
٭ مکروہ وقت کی صورت میں نفل پڑھے بغیر احرام کی نیت کر کے تلبیہ کہیں۔
٭ اگر حرم شریف میں آنا ممکن نہ ہو تو اپنی رہائش گاہ پر ہی احرام باندھ لیں۔
٭ حج کی نیت دل ہی دل میں کر لیں:
"اے اللہ! میں تیری رضا کے لیے حج کی نیت کرتاہوں، اس کو قبول فرما اور میرے لیے آسان فرما۔"
٭ حج کے احرام کی نیت سے تین مرتبہ تلبیہ پڑھیں:
"لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ."
اب آپ پھر سے مُحرِم بن گئے اور احرام کی پابندیاں آپ پر عائد ہو گئیں۔
📚 *مسائل:*
(1) اگر آپ نے حج اِفْراد یا حج قِران کرنا ہے تو جو احرام کی چادر باندھی تھی وہی کافی ہے، نئی چادر باندھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی احرام سے حج کی ادائیگی کریں۔
اگر احرام کی چادر میلی ہو جائے تو نئی چادر خرید کر یا پرانی چادر دھو کر استعمال کرنا جائز ہے۔
(2) مرد حضرات تلبیہ قدرے بلند آواز سے پڑھیں اس طرح کہ دوسرا آدمی سن سکے۔
٭ عورتیں آہستہ آواز سے پڑھیں اس طرح کہ دوسرا نہ سن سکے۔
٭ طلوعِ آفتاب کےبعد منیٰ کی طرف روانہ ہوں۔
٭ سواری پر سوار ہوتے، اترتے، صبح شام نمازوں کے بعد اور حاجیوں سے ملتے ہوئے کثرت سے تلبیہ پڑھیں۔
٭ تلبیہ جب پڑھیں تو کم از کم تین بار پڑھیں۔
٭ اس دعاکو بھی مانگتے رہیں:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِضَاكَ وَالْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَضَبِكَ وَالنَّارِ.
ترجمہ: اے اللہ! میں آپ سے آپ کی رضا اور جنت کا سوال کرتا ہوں، اور آپ کی ناراضگی اور (جہنم کی) آگ سے آپ کی پناہ مانگتاہوں۔
٭ منٰی میں پانچ نمازیں پڑھنا سنت ہیں:
(3) 8 ذوالحجہ کی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذوا لحجہ کی فجر
*فائدہ:*
✪ آج کل منیٰ دو بن چکے ہیں:
1: منیٰ قدیم
2: منیٰ جدید
✪ منیٰ قدیم تو وہی ہے جو پرانا منیٰ ہے۔
✪ منیٰ قدیم کی جگہ کم ہونے کی وجہ سے مزدلفہ کے کچھ حصہ کو بھی منیٰ میں شامل کر کے اس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
✪ اگر کوئی شخص منیٰ جدید کے اندر قیام کرے گا تو حج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
✪ پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھنا سنت ہیں۔
✪ وقت ہو تو منیٰ قدیم میں جا کر ان نمازوں کو پڑھ لیا جائے۔
✪ اگر وہاں رَش زیادہ ہو، یا جانے سے خود یا کسی دوسرے کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو پھر وہاں نہ جائیں بلکہ منیٰ جدید میں پڑھ لیں۔

2️⃣ *حج کا دوسرا دن 9 ذوالحجہ*
[1]: 9 ذوالحجہ کی نمازِ فجر منیٰ میں پڑھیں۔
✿ اس کے بعد تکبیر تشریق (اَللهُ اَکْبَرُ اَللهُ أَکْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَ اللهُ اَکْبَرُ اَللهُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰهُ الْحَمْدُ) کہیں اور تلبیہ پڑھیں۔
✿ ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد عرفات جانے کی تیاری کریں۔
✿ ضرورت کا سامان ساتھ لے کر پُر سکون اور اطمینان سے روانہ ہوں۔
✿ راستے میں اذکار ، درود شریف، دعا، تلبیہ وغیرہ زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہیں۔
[2]: کوشش کریں کہ زوال سے پہلے پہلے عرفات پہنچ جائیں۔
✿ وہاں پہنچ کر کھانا کھائیں، آرام کریں۔
✿ وضو یاغسل کریں البتہ غسل کرناافضل ہے۔
[3]: وقوفِ عرفہ کا وقت زوال کے بعد شروع ہوجاتاہے۔
✿ خداتعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں۔
✿ شام تک تلبیہ، استغفار، چوتھا کلمہ پڑھتے رہیں۔
✿ دعائیں گڑگڑا کر مانگتے رہیں۔
✿ وقوف کھڑے ہو کر کرنا مستحب ہے اور بیٹھ کر کرنا جائز ہے۔
[4]: میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز پڑھنی ہوتی ہے۔
✿ ظہر کے وقت میں ظہر کی نماز اور عصر کے وقت میں عصر کی نماز (اذان واقامت وج**عت کے ساتھ) اپنے اپنے خیموں میں ہی ادا کریں۔
📚 *مسئلہ:*
عرفات میں مسجدہ نمرہ کے امام کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی کرنا جائز ہے۔
اس کے لیے چند شرائط ہیں:
1: اس مسجد کا امام؛ امام المسلمین یا اس کا نائب ہو۔ عرفات میں جو امام ہوتا ہے وہ امام المسلمین کا نائب ہی ہوتاہے۔
2: یہ دونوں نمازیں ظہر کے وقت میں اکٹھی کی جائیں۔
3: اگر امام مقیم ہو تو نماز پوری پڑھائے اور اگر مسافر ہو تو قصر کرے۔
اگر یہ تحقیق ہو جائے کہ امام مسافر ہے اور نمازیں قصر کی ہیں تو امام ابو حنیفہ کے ہاں اس امام کی نمازوں میں شریک ہونا صحیح ہے۔
اگر تحقیق نہ ہو یا یہ تحقیق ہو کہ اس نے مقیم ہونے کے باوجود نماز قصر کی ہے تو امام ابو حنیفہ کے ہاں ضروری ہے کہ دونوں نمازوں کو اپنے اپنے وقت میں اپنے خیموں میں اداکریں۔
ظہر وعصر کی نماز اگر اپنے خیموں میں پڑھنی ہو تو انہیں اکٹھا نہ کریں بلکہ یہ نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھیں۔
[5]: جب میدانِ عرفات میں سورج غروب ہوجائے تو مغرب پڑھے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں۔
✿ راستے میں ذکر اللہ، درود شریف اور تلبیہ کی کثرت کریں۔
✿ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء اکٹھی اداکریں۔
✿ اس کا طریقہ یہ ہے کہ عشاء کے وقت میں ایک ہی اذان اور ایک ہی اقامت کے ساتھ پہلے مغرب کے فرض پڑھیں، پھر فوراً بعد عشاء کے فرض پڑھیں۔
✿ بعد میں پہلےمغرب کی سنتیں پڑھیں، پھر عشاء کی دوسنتیں پڑھیں اور آخر میں تین رکعات وتر پڑھیں۔
📚*مسائل:*
۱: مغرب سے پہلے میدانِ عرفات سے نکلنا جائز نہیں۔
● اگر کوئی شخص غروب سے پہلے عرفات سے نکل گیا اور غروب سے پہلے واپس نہ آیا تو دم لازم آئے گا۔
● اگر غروب سے پہلے ہی واپس آگیا تو دم ساقط ہوجائے گا۔
۲: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے فرض ملاکر پڑھنا واجب ہے۔
● اگر چند رفقاء ہوں تو دونوں نمازوں کی ج**عت کرا لیں۔
● اگر کسی کو ج**عت نہ مل سکے تو اکیلا پڑھ لے۔
۳: اگر مغر ب کے فرائض پڑھ کر سنتیں بھی ساتھ پڑھ لیں تو عشاء کے لیے دوبارہ اقامت کہی جائے البتہ اذان پہلی ہی کافی ہے۔
۴: وقوفِ عرفہ فرض ہے اور حج کا رکن ہے۔
۵: اگر کسی نے وقوفِ عرفہ نہ کیا تو اس کا حج ہی نہ ہو گا۔
۶: وقوفِ عرفہ کی فرض مقدار؛ یہ ہے کہ 9 ذو الحجہ کے زوالِ آفتاب کے بعد سے لے کر 10 ذو الحجہ کی صبحِ صادق تک کسی بھی وقت، چاہے ایک لمحہ ہی کیوں نہ ہو، میدانِ عرفات میں ٹھہرا جائے۔ اگر اس پورے وقت میں ایک لمحہ بھی وقوف نہ کیا تو حج ادا نہیں ہو گا۔
۷: وقوفِ عرفہ کی واجب مقدار یہ ہے کہ 9 ذو الحجہ کو زوالِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں ٹھہرا جائے۔ لہٰذا اس وقت میں وقوف کرنا ضروری ہے، اور اگر کوئی شخص بلا عذر اس وقت کو چھوڑ کر مغرب کے بعد وقوف کرے تو اگرچہ فرض ادا ہو جائے گا لیکن یہ عمل مکروہ ہوگا اور واجب کے ترک کی وجہ سے دم لازم آئے گا۔
[6]: رات مزدلفہ میں قیام کریں۔
✿ ذکر واذکار، تلاوت، درود شریف، توبہ واستغفار، دعائیں اور تلبیہ کا ورد جاری رکھیں۔
✿ وقت ہو تو کچھ دیر آرام بھی کر لیں۔
[7]: مزدلفہ میں 70 کنکریاں چن کر کسی تھیلی یا پلاسٹک کی بوتل میں محفوظ کرلیں۔
✿ کنکریوں کا سائز چھوٹے یا بڑے چنے کے برابر ہونا چاہیے۔

3️⃣ *حج کا تیسرا دن 10 ذوالحجہ*
[1]: 10 ذوالحجہ کو صبح صاد ق کے بعد اندھیرے ہی میں اذان دیں۔
✦ فجر کی سنتیں پڑھیں۔
✦ مستحب یہ ہے فجر کے فرض؛ ج**عت کے ساتھ اندھیرے ہی میں اد اکریں۔
✦ نماز کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہوکر تسبیحاتِ فاطمی، لَاإِلٰہَ إِلَّا اللهُ اور چوتھا کلمہ پڑھیں۔
✦ دعاکےلیے دونوں ہاتھ پھیلائیں۔
✦ اپنی ذات ، اہل وعیال ، والدین، دوست واحباب، امت مسلمہ کے لیے بطورِ خاص اور عام انسانوں کے لیے بطورِ عام دعائیں کریں۔
✦ روشنی خوب پھیلنے تک یہی عمل جاری رکھیں۔
📚*مسائل:*
۱: وقوفِ مزدلفہ واجب ہے۔
● اس کا وقت صبح صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب تک ہے۔
● صبح کی روشنی خوب پھیلنے تک وقوف کرنا سنت مؤکدہ ہے۔
۲: بغیر عذر وقوفِ مزدلفہ ترک کرنے سے دم واجب ہوگا۔
۳: اگر کوئی شخص مرض یا ضعف وکمزوری کی وجہ سے مزدلفہ میں وقوف نہ کرے تو جائز ہے۔ اس سے اس پر دم واجب نہ ہو گا۔
● کوئی عورت رش زیادہ ہونے کے خوف سے وقوف مزدلفہ کیے بغیر منیٰ چلی جائے تو اس پر بھی دم واجب نہ ہو گا۔
۴: جب سورج نکلنے والا ہو تو منیٰ میں موجود اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے جائیں۔
● راستہ میں اذکار، دعائیں اور تلبیہ جاری رکھیں۔
۵: منیٰ میں تین دن یعنی 10 ذوالحجہ، 11 ذوالحجہ اور 12 ذوالحجہ رہنا ہے۔
● طوافِ زیارت کے لیے انہی تین دنوں میں سے کسی ایک دن مکہ جانا ہے۔
[2]: منٰی پہنچ کر یہ تین کام ترتیب سے کریں:
*پہلاکام:* جمرہ عقبہ کی رمی
● جمرات پر جائیں اور صرف جمرہ عقبہ کی رمی کریں۔
● جمرہ سے کم از کم پانچ ہاتھ کے فاصلے سے سات کنکریاں ماریں۔
● ہر کنکری "بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ" کہہ کر جمرہ کےستون کی جڑ میں ماریں۔
● کنکری کا جمرہ کی جڑ میں یا اس کے نزدیک کے احاطہ میں گرنا ضروری ہے۔
● کنکری مارنے کے ساتھ یہ دعاپڑھنا بہتر ہے:
رَغْمًا لِلشَّيْطٰنِ وَحِزْبِهٖ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَسَعْيًا مَشْكُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا.
ترجمہ: شیطان اور اس کے گروہ کو ذلیل ورسوا کرنے کے لیے (میں یہ کنکریاں مار رہا ہوں) اے اللہ! میرے اس حج کو قبول فرما! میری محنت وکوشش کو باعثِ اجر فرما اور گناہوں کو معاف فرما!
📚 *مسائل:*
۱: آج یعنی 10 ذوالحجہ کی رمی طلوعِ آفتاب سے زوالِ آفتاب تک کرنا مستحب ہے۔
● غروبِ آفتاب تک بلاکراہت جائز ہے۔
● غروبِ آفتاب کے بعد سے صبح صادق تک مکروہ ہے۔
● غروبِ آفتاب کے بعد سے صبح صادق تک خواتین اور ضعیفوں کےلیے مکروہ نہیں ہے۔
۲: جمرہ عقبہ کو کنکری مارتے ہی تلبیہ پڑھنا ختم کر دیں۔
۳: آج یعنی 10 ذوالحجہ کی رمی کے بعد دعا مانگے بغیر واپس چلے جائیں۔
*دوسرا کام :* قربانی کرنا
● رمی کے بعد دوسراکام”قربانی“ ہے۔
● حجِ قران اور حجِ تمتع کی صورت میں قربانی واجب ہے۔
● حجِ افراد والوں کے لیے قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
📚*مسائل:*
۱: قربانی کے تین دن یعنی 10، 11، 12 ذوالحجہ ہیں۔
● پہلے دن کرنا افضل اور دوسرے یا تیسرے دن کرنا جائز ہے۔
۲: حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ جب تک قربانی نہ کر لیں اس وقت تک احرام نہ کھولیں۔
● اگر قربانی دوسرے دن یاتیسرے دن کی تو اس وقت تک احرام نہ کھولیں۔
۳: قربانی خود کرنا بہتر ہے۔
● کسی با اعتماد آدمی، بااعتماد بینک یا کسی اور باعتماد ادارہ کے ذریعے کروانا بھی جائز ہے۔
● کسی بینک یا ادارہ سے کروائیں تو وہ ادارہ جو وقت قربانی کا بتائے اس سے پہلے حلق یا قصر کروا کراحرام کھولنا جائز نہیں۔
۴: حج کی قربانی کے جانور میں وہی شرائط ہیں جو عید الاضحیٰ کی قربانی کے جانور میں شرائط ہیں۔
۵: جو لوگ صاحبِ وسعت ہوں اور حج کے ایام میں مقیم ہوں تو ان پر عید الاضحیٰ کی قربانی بھی واجب ہے۔
۶: حجِ تمتع اور حجِ قران کی قربانی کا حدودِ حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔
● عید الاضحیٰ کی قربانی حدود ِحرم یا اس کے علاوہ کسی اور جگہ بھی کرائیں تو جائز ہے یہاں تک کہ اپنے ملک میں بھی کرا سکتے ہیں۔
*تیسراکام:* حلق یا قصر کرنا
● قربانی کے بعد تیسراکام حلق یا قصر کروانا ہے۔
📚*مسائل:*
۱: حج کا حلق یا قصر منیٰ میں کرانا سنت ہے۔
● حج کا حلق یا قصر حدودِ حرم میں کسی بھی جگہ کرنا جائز ہے۔
● حدودِ حرم سے باہر جا کر حلق یا قصر کرایا تو دم لازم ہو گا۔
۲: مذکورہ تینوں کاموں یعنی جمرہ عقبہ کی رمی، قربانی، حلق یا قصر میں ترتیب ملحوظ رکھنی چاہیے۔
● اس لیے اگر کسی حاجی صاحب نے سعودی حکومت کے متعین کردہ ادارہ یا کسی پرائیویٹ ادارہ یا فرد کے ذریعے قربانی کرنی ہو تو اس ادارہ کی طرف سے جو قربانی کا وقت دیا گیا ہو حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والے افراد اس وقت کی پابندی کریں۔
● اس سے پہلے حلق یا قصر نہ کریں۔
● احتیاط اسی میں ہے کہ اس مقررہ وقت سے بھی کچھ تاخیر سے حلق یا قصر کریں۔
● ہاں اگر پوری کوشش کے باوجود اس ترتیب کو ملحوظ رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو۔
● مثلاً قربانی کرنے والے ادارے نے وقت کی غلط اطلاع دی ہو، یا وہاں سے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے وقت کا بالکل پتہ نہ چل رہا ہو تو ایسی صورت میں اگر کسی نے حلق پہلے کر لیا اور اس کی قربانی بعد میں ہوئی تو یہ ترتیب قائم نہ رہنے کی وجہ سے اس شخص پر دم واجب نہیں ہو گا۔
۳: یہ تین کام کرنے سے حاجی احرام سے نکل جائےگا۔
● بیوی سے تعلقات (بوس وکنار اور ج**ع) کے علاوہ باقی سب پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔
*حج کا اہم رکن؛ طواف زیارت:*
● طوافِ زیارت کرنا فرض اور حج کا رکن ہے۔
● رمی، قربانی اور قصر یاحلق کے بعد 10 ذوالحجہ کو طوافِ زیارت کرناسنت ہے۔
● طوافِ زیارت 11 اور 12 کو کرنابھی جائز ہے۔
● احرام کھول کر عام کپڑوں میں طواف زیارت کےلیے مکہ مکرمہ جائیں اورطواف زیارت کرلیں۔
● جب طواف کرچکیں تو واپس منیٰ آجائیں اور رات کا قیام منیٰ میں کریں۔
● اگر مکہ مکرمہ میں رہنا چاہیں تو بھی رہ سکتے ہیں لیکن سنت اور افضل منیٰ میں رہنا ہے۔
📚 *مسائل:*
۱: 10 ذوالحجہ کے 4 افعال (رمی، قربانی، حلق یاقصر اور طوافِ زیارت) میں سے پہلے تین افعال میں ترتیب واجب ہے۔
● طوافِ زیارت اور مذکورہ تین افعال کے درمیان ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔
● کسی نے ان تین چیزوں؛ رمی، قربانی اور حلق یا قصر سے پہلے طوافِ زیارت کر لیا تو مکروہ ہے۔
● اس سے دم لازم نہیں ہو گا۔
۲: طوافِ زیارت کے بعد حج کی سعی کریں۔
● اگر حج کی سعی پہلے کسی طواف کے ساتھ کر لی ہے تو اب طوافِ زیارت کے بعد سعی کرنے کی ضرورت نہیں، صرف طواف کرنا کافی ہے۔
۳: طوافِ زیارت کے بعد تمام ممنوعات حلال ہو جاتے ہیں حتی کہ بیوی کےساتھ بوس وکنار اور ہمبستری بھی حلال ہو جاتی ہے۔
۴: اگر کسی نے 12 ذوالحجہ کے غروب کے بعد طواف زیارت کیا، اس سے پہلے نہ کیا تو اس پر دم لازم ہوجائے گا۔
۵: طوافِ زیارت جنابت یا حیض ونفاس کی حالت میں کیا تو
۞ سخت گناہ ہو گا
۞ توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے
۞ ایک بڑا جانور؛ اونٹ یا گائے حدودِ حرم میں ذبح کرنا لازم ہے۔
طوافِ قدوم یاطوافِ وَداع یاطوافِ نفل جنابت یاحیض ونفاس کی حالت میں کیا یا طوافِ زیارت بے وضو کیا تو
۞ سخت گناہ ہو گا۔
۞ توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔
۞ ایک چھوٹا جانور؛ بھیڑ یا بکری حدودِ حرم میں ذبح کرنا لازم ہے۔
ان میں سے کوئی طواف بھی دوبارہ طہارت کی حالت میں کر لیا جائے تو دم ساقط ہو جائے گا۔
*نوٹ:* اگر کسی عورت کی واپسی کی تاریخ آ پہنچے اور حیض ختم نہ ہوا ہو اور سفر کو مؤخر کرنا بھی ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لے۔
۞ اور یہ عورت توبہ اور استغفار کرے۔
۞ ایک بڑا جانور؛ اونٹ یا گائے حدودِ حرم میں ذبح کرے۔
۞ اگر رقم پاس نہ ہونے یا کسی بھی وجہ سے بڑا جانور حدودِ حرم میں ذبح نہ کر سکے تو اسے بعد میں کر لے حتی کہ زندگی میں کسی وقت بھی کر لے۔
۞ اگر کسی عورت نے حالت حیض میں طوافِ زیارت کر لیا، پھر پاک ہو گئی۔
۞ اگر دم ادا نہیں کیا تھا تو یہ عورت دوبارہ طواف زیارت کر لے۔
۞ طوافِ زیارت دوبارہ کرنے کی صورت وہ دم جو ذمہ میں لازم تھا، اب ختم ہو جائے گا۔
۞ اور اگر اس نے دم ادا کر دیا ہو تو اب طوافِ زیارت دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى أَزْوَاجِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اٰلِ إِبْرَاهِيْمَ وَ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى أَزْوَاجِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اٰلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

4️⃣ *حج کا چوتھا دن11 ذوالحجہ*
❉ آج تینوں جمرات کی رمی کرنی ہے۔
❉ پہلے جمرہ اولیٰ کی، پھرجمرہ وسطیٰ کی اور آخر میں جمرہ عقبہ کی۔
❉ اپنے ساتھ 21 کنکریاں لے جائیں۔
❉ احتیاطاً دو چار کنکریاں زائد بھی ساتھ رکھیں تو اچھاہے۔
❉ جمرہ اولیٰ کی رمی کریں تو یہ دعا کریں:
رَغْمًا لِلشَّيْطٰنِ وَحِزْبِهٖ، أَللّٰهُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَسَعْيًا مَشْكُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا.
❉ جب جمرہ اولیٰ کی رمی سے فارغ ہوجائیں تو ذرا آگے بڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعاکریں۔
❉ اس کے بعد جمرہ وسطیٰ کی رمی کریں تو یہ دعا کریں:
رَغْمًا لِلشَّيْطٰنِ وَحِزْبِهٖ، أَللّٰهُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَسَعْيًا مَشْكُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا.
❉ ذرا آگے بڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوکر ہاتھ ا ٹھاکر دعاکریں۔
❉ اس کےبعد جمرہ عقبہ پر جائیں اور رمی کریں تو یہ دعا مانگیں:
رَغْمًا لِلشَّيْطٰنِ وَحِزْبِهٖ، أَللّٰهُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَسَعْيًا مَشْكُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا.
❉ اس رمی کے بعد وہاں دعاکے لیے نہ ٹھہریں۔
❉ بغیر دعا مانگے وہاں سے چل پڑیں۔
❉ باقی وقت جتنا زیادہ ہوسکے تلاوت، ذکر اور دعا میں گزاریں۔
📚 *مسائل:*
1: آج یعنی 11 ذوالحجہ کی رمی کا وقت زوال کے بعد شروع ہوجاتاہے۔
✪ زوال سے غروب تک کا وقت مستحب وقت ہے۔
✪ اگر اس وقت عذرہو مثلاً ہجوم بہت زیادہ ہو یا ناقابل برداشت تکلیف کا خطرہ ہو تو مغرب یا عشاء کے بعد بھی بلا کراہت جائز ہے۔
✪ بلا عذر غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر بارھویں ذو الحجہ کی صبح صادق تک مؤخر کرنا مکروہ ہے۔
2: آج کی رمی زوال سے پہلے کرنا جائز نہیں ہے۔
✪ زوال سےپہلے 11 ذوالحجہ کی رمی کا وقت شروع ہی نہیں ہوتا۔
✪ اگر کسی نے غلطی سے یہ رمی زوال سے پہلے کی تو وقت شروع ہونے پر دوبارہ کرنی واجب ہو گی۔
✪ اگر دوبارہ نہ کی تو دم لازم ہو گا۔

5️⃣ *حج کا پانچواں دن 12 ذوالحجہ*
1️⃣ آج کے دن بھی تینوں جمرات کی رمی کرے۔
2️⃣ اس کا طریقہ کار اور اوقات 11 ذوالحجہ کی رمی کی طرح ہیں۔

📚 *مسائل:*
1️⃣ 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے مکہ مکرمہ جانا جائز ہے۔
◈ اگر غروب منیٰ میں ہو گیا تو اب مکہ مکرمہ جانا مکروہ ہے۔
◈ دم وصدقہ وغیرہ لازم نہ ہو گا۔
◈ اگر منیٰ میں ہی 13 ذوالحجہ کی صبح صادق ہوگئی تو اب منیٰ سے مکہ مکرمہ جانا جائز نہیں۔
◈ 13 ذوالحجہ کی رمی کرنا واجب ہے۔
◈ اگر 13 ذوالحجہ کی رمی نہ کی تو دم لازم ہو گا۔
2️⃣ 13 ذوالحجہ کے دن رمی کا وقت زوال سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے۔
◈ اور صبح صادق سے لے کر زوال سے پہلے پہلے کراہت کے ساتھ جائز ہے۔

❤️‍🩹 *مبارک ہو! حج مکمل ہوگیا*
• آپ کا حج مکمل ہوا۔
• خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے یہ توفیق عطافرمائی۔
• بقیہ جتنے ایام مکہ مکرمہ میں قیام ہو تو زیادہ سے زیادہ عبادات میں گزاریں۔
• تلاوت، اذکار، درود شریف، نوافل، طواف، عمرے، صدقہ وخیرات اور دیگر نیک کام بجا لاتے رہیں۔
• اس موقع کو اپنے لیے سعادت بھی سمجھیں اور غنیمت بھی۔
• اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے، امت مسلمہ کے لیے خصوصاً اور باقی امت کے لیے عموماً دعاؤں کا اہتمام کریں۔
ALM

23/05/2026

#

ALM
23/05/2026

ALM

🕋🕋❤️‍🩹🥺* مقام ابراہیم کی انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر مقامِ ابراہیمؑ کی مکمل داستان**جب اللہ نے ایک نبی کے قدموں کو پتھ...
23/05/2026

🕋🕋❤️‍🩹🥺* مقام ابراہیم کی
انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر مقامِ ابراہیمؑ کی مکمل داستان**جب اللہ نے ایک نبی کے قدموں کو پتھر میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا —

آپ طواف کے ساتویں چکر کے بعد رکتے ہیں۔

سانس تیز ہے۔ قدم تھکے ہوئے ہیں۔ آنکھیں بھری ہوئی ہیں۔ اور دل… دل اس کیفیت میں ہے جو الفاظ میں نہیں آتی۔

پھر نگاہ اس سنہری جالی پر پڑتی ہے۔

وہاں ایک پتھر ہے۔

صرف ایک پتھر۔

نہ سونے کا، نہ چاندی کا — بس ایک سادہ پتھر جو شیشے کے پیچھے محفوظ ہے۔

مگر اس پتھر کی کہانی وہ ہے جو آسمان نے خود لکھی، زمین نے خود محفوظ کی، اور قرآن نے خود بیان فرمائی۔

یہ مقامِ ابراہیم علیہ السلام ہے۔

---

**1 — وہ لمحہ جو ہزاروں سال پہلے گزرا**

ذرا آنکھیں بند کریں۔

وادیِ مکہ ویران ہے۔ نہ آبادی، نہ درخت، نہ سایہ۔ صرف ریت، سورج، اور خاموشی۔

ایک بوڑھا نبی اپنے جوان بیٹے کے ساتھ اللہ کا گھر تعمیر کر رہا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا کر دیتے ہیں، ابراہیم علیہ السلام دیوار چنتے ہیں۔ جیسے جیسے دیوار اونچی ہوتی ہے، وہ پتھر جس پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہیں — خود بخود اونچا ہوتا جاتا ہے۔

یہ معجزہ نہیں تھا — یہ اللہ کا اپنے خلیل کے ساتھ وہ سلوک تھا جو کسی کو نصیب نہیں ہوا۔

زمین نرم ہو گئی۔

اور ان مبارک قدموں کے نشان اس پتھر میں اتر گئے۔

اللہ نے چاہا کہ جب تک کعبہ قائم ہے، یہ نشان باقی رہیں۔ جب تک اسلام زندہ ہے، یہ گواہی دیتے رہیں۔ جب تک حج ہوتا رہے، ہر زائر ان قدموں کو دیکھے اور محسوس کرے کہ اطاعت کا صلہ اللہ کبھی مٹنے نہیں دیتا۔

---

**2 — قرآن نے خود اس مقام کا نام لیا**

اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں ارشاد فرمایا:

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا

"اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کا مقام — اور جو اس میں داخل ہو وہ امن میں ہے۔"
(سورۃ آل عمران: 97)

ذرا سوچیں — اللہ نے اس ایک آیت میں کیا کچھ سمیٹ دیا۔

"آیاتٌ بینات" — یعنی یہ کوئی داستان نہیں، یہ آنکھوں سے دیکھنے والی گواہی ہے۔ وہ پتھر جو آج بھی موجود ہے، وہ نشان جو آج بھی محفوظ ہیں — یہ اللہ کی قدرت کی زندہ دلیل ہیں۔

اور پھر اللہ نے سورۃ البقرہ میں اس مقام کو شریعت کا حصہ بنا دیا:

وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

"اور ابراہیم کے مقام کو نماز کی جگہ بناؤ۔"
(سورۃ البقرہ: 125)

یہ پتھر دو درجوں پر فائز ہے۔

ایک طرف یہ "آیتِ بینہ" ہے — ایمان کے لیے دلیل، آنکھوں کے لیے نشانی۔
دوسری طرف یہ "مصلّیٰ" ہے — شریعت کا حکم، عبادت کی جگہ۔

یعنی اللہ نے اس پتھر کو صرف یاد گار نہیں بنایا — اسے عبادت میں شامل کر دیا۔ ہر طواف کے بعد ان قدموں کے سامنے نماز — گویا ہر زائر کہہ رہا ہو: یا اللہ! ہم بھی وہی راستہ چاہتے ہیں جو تیرے خلیل نے چنا تھا۔

---

**3 — وہ صبح جب عمرؓ کی بات آیت بن گئی**

فتحِ مکہ کے بعد کا زمانہ ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ مسجدِ حرام میں تشریف فرما ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے دل ابھی فتح کی خوشی سے معمور ہیں۔

اس وقت حضرت عمر بن خطابؓ کے قلب میں ایک بات آتی ہے۔ وہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کرتے ہیں:

یا رسول اللہﷺ! یہ وہ مقام ہے جسے اللہ نے قرآن میں یاد فرمایا۔ کیا ہم اسے اپنی نماز کی جگہ نہ بنائیں؟

ابھی یہ الفاظ تھمے بھی نہیں تھے کہ وحی نازل ہوئی:

وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے یہ رائے دی اور فوراً یہ آیت اتری۔
(صحیح بخاری)

یہ وہ لمحہ ہے جسے اہلِ علم "موافقاتِ عمرؓ" کہتے ہیں۔

مگر یہاں صرف یہ بات نہیں کہ عمرؓ کی رائے درست نکلی — یہاں ایک بڑا سبق ہے۔

وہ یہ کہ جب دل اللہ سے جڑا ہو، جب نیت خالص ہو، جب سوچ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو — تو بندے کے دل پر وہ بات ڈالی جاتی ہے جو آسمان کو منظور ہوتی ہے۔

عمرؓ نے جو محسوس کیا، اللہ نے وہی فرمایا۔

---

**4 — وہ سوال جو صدیوں سے ہے**

کیا قدموں کے نشانات آج بھی موجود ہیں؟

یہ سوال بہت پرانا ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ ابتداء میں یہ نشان بالکل واضح تھے — قدموں کی پوری شکل، انگلیوں کے نقوش، ایڑی کا گھیراؤ — سب کچھ نمایاں۔

پھر صدیاں گزریں۔ لوگ آتے رہے، ہاتھ لگاتے رہے، بوسے دیتے رہے — اور نشان آہستہ آہستہ مدھم ہوتے گئے۔

مگر اہلِ تحقیق کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ یہ پتھر کیا گواہی دے رہا ہے۔

اور اس پر ہر دور کے علماء کا اتفاق ہے: یہ وہی پتھر ہے جس پر خلیلِ اللہ کھڑے ہوئے۔ یہ وہی مقام ہے جسے اللہ نے قرآن میں یاد فرمایا۔ صدیوں کا گزرنا نشانات کو مدھم کر سکتا ہے — مگر حقیقت کو نہیں۔

---

**5 — وہ فیصلہ جو غلط سمجھا گیا**

عہدِ فاروقی میں ایک واقعہ ہوا جسے بعض لوگ غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے: "حضرت عمرؓ نے مقامِ ابراہیم کو ہٹا دیا۔"

حقیقت یہ ہے کہ پتھر ہٹایا نہیں گیا — اسے ذرا آگے منتقل کیا گیا۔

اسباب کیا تھے؟ ایک: سیلاب کا خطرہ — مقام کو نقصان سے بچانا تھا۔ دوسرا: طواف میں اس قدر ازدحام ہو گیا تھا کہ لوگوں کا گزرنا دشوار ہو گیا تھا۔

صحابہ کرامؓ نے مل کر یہ فیصلہ کیا۔ یہ ایک انتظامی اور فقہی فیصلہ تھا جو مقام کی حفاظت ہی کے لیے تھا — نہ کہ اس کی تحقیر کے لیے۔

جو چیز محفوظ تھی وہ پتھر تھا — اور وہ آج بھی موجود ہے۔

---

**6 — وہ روایت جو دلوں کو روشن کرتی ہے**

ایک روایت میں آیا ہے کہ رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیمؑ جنت کے یاقوتوں میں سے ہیں، جن کی روشنی اللہ نے ڈھانپ دی — ورنہ وہ مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتے۔

یہ روایت فضائل کے باب میں آتی ہے — اور اس سے دل میں اس مقام کی عظمت اور محبت اور بڑھ جاتی ہے۔

سوچیں — اگر اللہ نے اس پتھر کی روشنی ڈھانپ کر رکھی ہے، تو جب اس روشنی کا پردہ اٹھے گا، کیا کیفیت ہو گی؟

---

**7 — اے زائر! تمہارے قدم بھی لکھے جا رہے ہیں**

جب آپ اس سنہری جالی کے سامنے کھڑے ہوں اور نماز کے لیے نیت باندھیں —

تو ایک لمحے کے لیے رکیں۔

محسوس کریں کہ آپ صرف طواف کی سنت ادا نہیں کر رہے۔

آپ ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی اس زنجیر میں شامل ہو رہے ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہے۔ ہر وہ انسان جس نے یہاں نماز پڑھی — عرب ہو یا عجم، امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر — وہ سب اسی زنجیر میں تھے۔ اور آج آپ بھی۔

ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے لیے قدم رکھا — اللہ نے وہ قدم پتھر میں محفوظ کر لیا۔

آپ نے اللہ کے لیے یہ سفر کیا، یہ طواف کیا، یہ قدم اٹھائے —

کیا آپ کو یقین نہیں کہ اللہ یہ قدم بھی دیکھ رہا ہے؟

کیا آپ کو یقین نہیں کہ وہ ذات جس نے پتھر میں قدموں کے نشان محفوظ کیے، وہ آپ کے دل کی ہر کیفیت بھی محفوظ کر رہی ہے؟

یہ مقامِ ابراہیمؑ صدیوں سے یہی کہتا آیا ہے:

جو اللہ کے لیے کھڑا ہو — اللہ اسے مٹنے نہیں دیتا۔

---

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِيْنَ إِنَّكَ حَمِيدمَّجِيد۔
ALM

22/05/2026

آج ذوالحج کے پہلے جمعہ کی دعائیں۔۔
یا اللہ
جن آنکھوں میں چھپے آنسو
کسی کو نظر نہیں آتے
تو اُن سب کے دلوں کا حال جانتا ہے…
یا رب
جو خاموشی سے رو رہے ہیں
اُن کی دعاؤں کو رد نہ کرنا…
جو رزق، محبت، سکون، صحت
اور معافی مانگ رہے ہیں
اُن کی جھولیاں بھر دے…
یا اللہ
اس پوسٹ پر “آمین” لکھنے والے
اور پڑھ کر خاموش رہ جانے والے
سب کی ایک ایسی دعا قبول فرما
جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہے ہیں
آمین یا رب العالمین
ALM

"آپ ﷺ وہ گلابِ ازل ہیں جس کی خوشبو صدیوں کی مسافت کے بعد بھی ویسی ہی تازہ ہے۔"♥❤❣اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَل...
22/05/2026

"آپ ﷺ وہ گلابِ ازل ہیں جس کی خوشبو صدیوں کی مسافت کے بعد بھی ویسی ہی تازہ ہے۔"♥
❤❣اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيد❣
❣اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد❣
ALM

Address

Lahore

Telephone

923224731813

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALEEF LAAM MEEM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ALEEF LAAM MEEM:

Share