02/11/2020
دل کی گرتی ہوئی دیوار سے لگ کر روئے
گل میسّر نہ تھے، ہم خار سے لگ کر روئے
اک عمارت تھی بنائی یہ جہاں والوں نے
گرتے دیکھا، سبھی معمار سے لگ کر روئے
ہم کو افسوس تھا جانے کا، ترے کوچے سے
کوچے والوں میں بھی دو چار سے لگ کر روئے
بِکنے کی چاہ لئے نکلے سرِ بازار جو ہم
خود فروشی پہ خریدار سے لگ کر روئے
آنے والوں نے بھی میت پہ بہائے آنسو
اپنے تھے جو مرے غمخوار سے لگ کر روئے
لمحہ ایسا بھی ہے آیا کہ بہت روئے ہم
دل کا جانا تھا سو دِلدار سے لگ کر روئے
ہم کو معلوم نہیں کچھ بھی تمہارے بارے
بیٹھے ہیں بس، ترے دربار سے لگ کر روئے
صحبتِ یار میسّر نہ ہوئی، جب ہم کو
آتے جاتے سبھی اغیار سے لگ کر روئے
نیک بندوں نے کیا ہم سے کنارہ آخر
ہم گنہگار، گنہگار سے لگ کر روئے
خود گلے لگ کے مری پیٹھ میں خنجر ڈالا
آخری سانس تک غدّار سے لگ کر روئے
ہائے کیا آپٌ کا جانا تھا حِرا پر حضرتٌ
نہ ملِا کوئی تو اِک غار سے لگ کر روئے
جانے کب اپنا مِلن ہو گا دوبارہ الماسٌ
جا رہے تھے کہ ہم اِک یار سے لگ کر روئے