04/12/2023
حوا کی بیٹی ایشال
اس ظالم دنیاں اس ظالم معاشرے سے بے خبر بے نیاز اس کو کیا پتہ کہ اس کا چھوٹا سا وجود اس دھرتی اس نام نہاد مسلمانوں پر بوجھ ہے.......
ننی بدقسمت ایشال کچھ ہی دن پہلے ضلع مالاکنڈ بٹ خیلہ خار کے قریب ٹنڈیل میں پیدا ہوئی ننی ایشال ماں باپ کی دوسری بیٹی ہے اس سے پہلے بھی ایشال کی ایک بدنصیب بہن موجود ہے,
ایشال جب پیدا ہوئی تو ماں کا تو پتہ نہیں لیکن بیغیرت اور بدقسمت بدبخت باپ پر جیسے مالاکنڈ کا پہاڑ لاد دیا گیا
ایشال کے باپ کو اس کے والد نے سعودی عرب امارات اور پتہ نہیں کہاں کہاں دھن دولت لگا کر بھیجا لیکن یہ بھاگ کر گھر پہنچ جاتا ہے تو باپ نے گھر سے نکال دیا اور یہ اب الگ رہتا ہے نشے تماشوں کا بھی عادی ہے....
تو ایشال کے پیدا ہوتے ہی باپ نے سوچ لیا کہ ایشال کو بیچ دیتا ہوں قریبی لوگوں میں بتایا کہ میری پہلے بھی ایک بیٹی ہے میں پال نہیں سکتا اگر کسی کو چاہیے تو پانچ ہزار روپے دے کر لے جائیں ۔
ایک بندے نے پانچ ہزار قیمت ادا کی اور ایشال کو اٹھا کر گھر لے گیا ایک دو دن تک کوشش کی لیکن بچی بہت زیادہ رو رہی تھی گھر والوں نے کہا پانچ ہزار کے ساتھ پانچ اور بھی دے آئیں لیکن اس بچی کو اس کی ماں تک پہنچا دیں وہ بندہ کہتا ہے میں اللہ کی رضا کیلئے اس بچی کو گھر لایا تھا مجھے ڈر تھا کہ پتہ نہیں یہ ننی سی جان کہاں بکے گی..
بہرحال بچی واپس کر دی پانچ ہزار روپے کے ساتھ..
لیکن بدقسمت ایشال تو اس دنیاں میں بوجھ بن کر آئی ہے اس کے بیغیرت باپ نے اس کو اپنے نشے کے پیسوں کا زریعا سمجھ لیا اور کل ننی بدقسمت ایشال کو کوز دیر اوسکئ میں بیچ دیا گیا اور اس دفعہ پہلے پانچ اور پانچ دس ہزار قیمت وصول کر چکا تھا اس دفعہ 20 ہزار ڈیمانڈ کی گئی اب اگلے بندے کو اچھا کہیں یا برا کہیں لیکن اس نے اس بیغیرت اصل میں دھرتی کے بوجھ کو 70 ہزار روپے ادا کرکے ایشال کو لے گیا......
معصوم ایشال اب بھی ناخبر ہے کہ کچھ دن ہوئے ہیں دنیاں میں آئے ہوئے دو دفعہ بک چکی ہے چلیں وہ تو ناخبر ہے لیکن اس ماں پر کیا گزر رہی ہوگی وہ ماں کیسے سو پائے گی وہ بے بسی کے عالم میں اس معاشرے کو کیا سمجھتی ہوگی کوئی بھی صاحب اولاد یہ درد ضرور محسوس کر سکتا ہے....
یہاں یہ سب پڑھنے سننے والے کو باپ یا پھر خریدار گہنگار لگ رہا ہوگا بالکل اس میں شک نہیں لیکن ننی ایشال کا مجرم میں ہوں آپ ہیں یہ سارا معاشرہ ہے کوئی نشے کا بزنس کر رہا ہے کوئی سیاست کا کوئی کسی اور طرح سے معاشرے کو بگاڑنے میں سب بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں,
اور یہ بات سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ ننی معصوم ایشال کی خریداری اور فروخت کو باقاعدہ قانونی شکل بھی دی گئی ہے لینے دینے والوں نے قانون کے سہارے پر لکھت پڑھت بھی کر رکھی ہے بیچنے والے نے اقرار کیا کہ میں نے یہ بچی بیچ دی 70 ہزار روپے کے حوض اور لینے والے نے یہ وارنٹی لے رکھی ہے کہ آئندہ آپ کا اس بچی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا اے بدبختوں اس طرح تو جانور بھی نا کر پائیں.....
ایشال بیٹی ہم سب آپ کے قصور وار ہیں ہم کس منہ اللہ سے معافی مانگیں گے ہم معافی کے قابل ہی نہیں ہم زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہم بحیثیت معاشرہ جب ہمارا بھائی بیٹا بگڑ جائے یا یوں کہیں کہ بیغیرت ہو جائے ہم کسی حوا کی بیٹی کو اس کے پلو سے باندھ دیتے ہیں یا یوں کہیں کسی حوا کی بیٹی کو ایک نام نہاد مرد کیلئے قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں ہم سوچتے ہیں شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا.....
وہ ٹھیک خاک ہوگا اس نے حوا کی بیٹی کو تو دنیاں میں جہنم دکھا دینی ہے لیکن پیدا ہونے والے بچوں کو نسل در نسل بربادی میں جھونک دیتے ہیں اور پھر اس کا نتیجہ ایشال جیسی ہزاروں بیٹیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے,
انتہائی افسوس کا مقام ہے 😭😭😭
سب دوست اس پر آواز اٹھائیں پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا تک ایشال کی آواز پہنچائیں سب سے دلی التجا ہے پلیز؟
کسی بھی طرح مدد کی عرض سے مزید ڈیٹائل کیلئے مجھ سے واٹساب پر رابطہ کر سکتے ہیں نمبر درج ذیل ہیں .......
امیرزیب توتاخیل سعودی عرب ریاض
00966595032232
00966510824545