Kosar Irfan Short

Kosar Irfan Short behind the scenes best page please saport me thanks for follow all the best

05/03/2026

Facebook vairal reel 1millin views on Facebook

🌼 تقویٰ ہو تو ایسا 🌼                        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ ...
04/30/2026

🌼 تقویٰ ہو تو ایسا 🌼
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے۔ ایک دن ایک بھائی نے دوسرے سے پوچھا:

"تمہارے اعمال میں ایسا کون سا عمل ہے جس کے بارے میں تمہیں سب سے زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے؟"

اس نے جواب دیا:

"میری زندگی میں کوئی ایسا بڑا عمل نہیں جس سے میں خوف زدہ ہوں، مگر ایک واقعہ مجھے ہمیشہ لرزائے رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ میں ایک کھیت کے پاس سے گزرا، وہاں سے میں نے ایک بالی توڑ لی۔ کچھ ہی دیر بعد میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے یہ درست نہیں کیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے اسی کھیت میں واپس ڈال دوں جہاں سے توڑی تھی، لیکن مجھے یاد نہ رہا کہ وہ کون سا کھیت تھا۔ چنانچہ میں نے وہ بالی کسی ایک کھیت میں ڈال دی… مگر آج تک مجھے یہی خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اسے اس کی اصل جگہ پر واپس نہ رکھ سکا ہوں۔"

پھر اس نے اپنے بھائی سے پوچھا:

"اور تمہیں کس بات کا خوف رہتا ہے؟"

اس نے جواب دیا:

"مجھے اس بات کا خوف ہے کہ جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ایک پاؤں پر دوسرے کے مقابلے میں زیادہ وزن پڑ جائے، اور میری کیفیتِ عبادت میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی آ جائے۔"

ان دونوں کی گفتگو ان کے والد سن رہے تھے۔ یہ سن کر اُن کے دل پر اللہ کا خوف اور اپنے بیٹوں کی سچائی کا اثر ہوا، تو انہوں نے دعا کی:

"اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اگر یہ اپنے کلام میں سچے ہیں تو انہیں فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے پاس بلا لے۔"

چنانچہ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں بھائیوں کا انتقال ہو گیا۔

حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

"ہم نہیں جانتے کہ ان دونوں بھائیوں میں کون زیادہ افضل تھا۔"

اور حضرتِ سیدنا یزید شخصی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

"میرے خیال میں اُن کا والد زیادہ افضل تھا۔"

📖 (حلیة الأولیاء وطبقات الأصفياء، جلد 4، ص 316)

🌸 حاصلِ کلام:
یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی تقویٰ صرف بڑے گناہوں سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ معمولی سے معمولی حق کے معاملے میں بھی دل کا کانپ اٹھنا تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنے اعمال کو کبھی معمولی نہیں سمجھتے، بلکہ چھوٹی سی لغزش پر بھی خوفِ خدا میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہی باریک بینی، یہی اخلاص، اور یہی خوفِ الٰہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچاتا ہے۔

🌹 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا تقویٰ، ایسا خوفِ خدا، اور ایسی پاکیزہ زندگی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌼♥️

ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

*اچھی بات کی طاقت*ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی اچھی اور دانائی بھری بات کرے گا، اسے چار سو دینار (سونے کے ...
04/29/2026

*اچھی بات کی طاقت*

ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی اچھی اور دانائی بھری بات کرے گا، اسے چار سو دینار (سونے کے سکے) انعام میں دیے جائیں گے۔

ایک دن بادشاہ اپنی رعایا کا حال جاننے نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوے سالہ بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے۔ بادشاہ نے حیران ہو کر کہا:
"تم چند سالوں میں دنیا سے چلی جاؤ گی، جبکہ یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے، پھر اتنی محنت کا کیا فائدہ؟"

بوڑھی عورت نے مسکرا کر جواب دیا:
"ہم نے جو پھل کھائے، وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے… اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں کھائیں۔"

بادشاہ اس جواب سے بہت متاثر ہوا اور فوراً حکم دیا کہ اسے چار سو دینار دیے جائیں۔

جب بوڑھی عورت کو دینار ملے تو وہ مسکرانے لگی۔
بادشاہ نے پوچھا: "کس بات پر مسکرا رہی ہو؟"
وہ بولی:
"یہ درخت تو بیس سال بعد پھل دیتے، مگر مجھے تو اس کا پھل ابھی مل گیا۔"

یہ سن کر بادشاہ مزید خوش ہوا اور مزید چار سو دینار دینے کا حکم دے دیا۔

جب اسے مزید دینار ملے تو وہ پھر مسکرا دی۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: "اب کیوں مسکرائی ہو؟"
بوڑھی عورت نے جواب دیا:
"زیتون کا درخت سال میں ایک بار پھل دیتا ہے، لیکن میرے درخت نے تو دو بار پھل دے دیا!"

بادشاہ اس کی دانائی پر مزید متاثر ہوا اور ایک بار پھر چار سو دینار دینے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ فوراً وہاں سے روانہ ہو گیا۔

وزیر نے پوچھا: "حضور، آپ اتنی جلدی کیوں چلے آئے؟"
بادشاہ نے کہا:
"اگر میں مزید رکا رہتا تو میرا خزانہ ختم ہو جاتا، مگر اس عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں!"

💫 حقیقت یہ ہے کہ اچھی بات دل جیت لیتی ہے، نرم لہجہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے، اور دانائی بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے۔
اچھی باتیں دنیا میں دوست بڑھاتی ہیں، دشمن کم کرتی ہیں، اور آخرت میں اجر و ثواب کا سبب بنتی ہیں۔
آپ دولت سے بہت کچھ خرید سکتے ہیں، مگر دلوں کو جیتنے کے لیے صرف اچھے الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں 💯

ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

04/29/2026
*خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ ...
04/28/2026

*خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔*

ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔

کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔

کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔

ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں

”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" ”نہیں" ۔۔

کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی" ۔۔۔

ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ۔

ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔

رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔

انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔

پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔

انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔"”نہیں" اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔

کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔"

پرنسپل متانت سے بولیں "جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟"

کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔

ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔

اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی۔۔

اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔

پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔۔۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔

طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔

سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔

وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔

کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔

دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔

میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں.

خدارا اپنے اردگرد ایسے سفید پوش لوگوں کا خیال رکھا کریں..... یہ اپنی عزت کو غربت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اللہ آپکی عزت کا خیال رکھے گا۔۔۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

Ji haan, Iqrar Ul Hassan ka airport par FIA walon ke saath jhagray ki video *26 April 2026* ko viral hui thi.*Hua kya th...
04/28/2026

Ji haan, Iqrar Ul Hassan ka airport par FIA walon ke saath jhagray ki video *26 April 2026* ko viral hui thi.

*Hua kya tha?*
Airport par immigration counter par Iqrar Ul Hassan ki FIA ke ek officer se tez behas ho gayi. Video mein suna ja sakta hai:

1. *Wajah*: Iqrar ke mutabiq FIA officer ne duty par khare ho kar *siyasi comment* kiya tha. Kehte hain officer ne kaha: _"Tumhara haal bhi Jawad Ahmad jaisa hoga"_. Jawad Ahmad singer hain jo PTI mein thay aur giraftar hue thay.

2. *Iqrar ka gussa*: Iqrar ne officer ko kaha: _"Aap wardi mein ho, meri tax ke paise se tankhwa lete ho, aur siyasi baat kar rahe ho? Duty karni hai to karo, siyaasat nahi"_. Unhon ne ye bhi kaha: _"Agar Khan ke follower ho to himmat dikhao, mard bano"_.

3. *Officer ka jawab*: FIA officer ne kaha _"Sir, aap behas kar rahe hain, main to duty kar raha hoon"_. Baad mein officer ne inkaar kiya ke usne direct Iqrar ko kuch kaha, kehta hai _"Apne colleague se baat ki thi"

*Wajah kya ho sakti hai?*
1. *Siyasi comment*: FIA officer ne wardi mein siyasi baat ki jo rules ke khilaaf hai. Govt officer ko duty par neutral rehna hota hai.
2. *Iqrar ka mood*: Iqrar ab siyaasat mein aa chuke hain aur "Pakistan Awaam Raaj Tehreek" bana rahe hain. Is liye wo siyasi baaton par foran react karte hain.
3. *Purana background*: Iqrar Sar-e-Aam mein hamesha corruption aur rishwat ke khilaaf bolte rahe hain. FIA par bhi pehle sting operations hue hain. Shayad is wajah se bhi tension thi.

Video viral hone ke baad social media par 2 tarah ki raaye aayi: Kuch log Iqrar ke saath thay ke officer ko wardi mein siyaasat nahi karni chahiye. Kuch ne kaha ke baat araam se bhi ho sakti thi.

*Note*: Ye 26 April 2026 ka waqia hai aur poora video social media par maujood hai.

Aap ka kya khayal hai is incident par?

*سبــق آمـوز کہــانی*       *👈 غصہ ___!!*ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔ اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین ...
04/24/2026

*سبــق آمـوز کہــانی*

*👈 غصہ ___!!*

ایک بچہ بہت بدتمیز اور غصے کا تیز تھا۔ اسے بات بے بات فوراً غصہ آجاتا ، والدین نے اسے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ ایک روز اس کے والد کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کیلوں کا ایک ڈبا لا کے دیا اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، “ بیٹا جب بھی تمہیں غصہ آئے ۔اس میں سے ایک کیل نکال کر یہاں دیوار میں ٹھونک دینا۔ پہلے دن لڑکے …نے دیوار میں 37 کیلیں ٹھونکیں۔ ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد بچہ سمجھ گیا کہ غصہ کنٹرول کرنا آسان ہے لیکن دیوار میں کیل ٹھونکنا خاصا مشکل کام ہے۔ اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی۔ والد نے مشورہ دیا کہ اب جب تمھیں غصہ آئے اور تم اسے کنٹرول کرلو تو ایک کیل دیوار میں سے نکال دینا۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار سے ساری کیلیں نکال لیں۔
باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس دیوار کے پاس لے جا کر کہنے لگے، بیٹا تم نے اپنے غصے کو کنٹرول کرکے بہت اچھا کیا لیکن ذرا اس دیوار کو غور سے دیکھو ! یہ پہلے جیسی نہیں‌ رہی۔ اس میں یہ سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں۔جب تم غصے سے چیختے چلاتے ہو اور الٹی سیدھی باتیں‌ کرتے ہو تو اس دیوار کی مانند تمھاری شخصیت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تم انسان کے دل میں‌ چاقو گھونپ کر اسے باہر نکال سکتے ہو لیکن چاقو باہر نکالنے کے بعد تم ہزار بار بھی معذرت کرو ، معافی مانگو ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ زخم اپنی جگہ باقی رہے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

*آج کے جدید دور میں خاندانی نظام جن سنگین نفسیاتی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے، ان کی جڑیں ہماری بدلتی ہوئی عادات اور ...
04/23/2026

*آج کے جدید دور میں خاندانی نظام جن سنگین نفسیاتی اور معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے، ان کی جڑیں ہماری بدلتی ہوئی عادات اور ترجیحات میں پیوست ہیں۔*
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان اب پہلے سے کہیں زیادہ انفرادی پسندی کا شکار ہو چکا ہے، جہاں ہر فرد اپنی انا اور ذاتی خواہشات کو رشتوں کے استحکام پر فوقیت دینے لگا ہے۔ اس صورتحال میں موبائل فون کا بے جا استعمال ایک خاموش زہر کی طرح کام کر رہا ہے؛ ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں اجنبیوں سے تو جوڑ دیا ہے لیکن ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد کے درمیان میلوں کی دوری پیدا کر دی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے گھر والوں کی موجودگی میں بھی موبائل کی مجازی دنیا میں کھویا رہتا ہے، تو یہ عمل اپنوں میں احساسِ کمتری اور محرومی پیدا کرتا ہے، جسے نفسیات کی زبان میں "فبنگ" (Phubbing) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے باہمی مکالمہ ختم ہوتا ہے اور خاموش نفرتیں جنم لینے لگتی ہیں۔
گھریلو ناچاقیوں کی ایک دوسری بڑی وجہ اپنوں سے مشورہ کرنے کے بجائے دوسروں پر بھروسہ کرنا اور کانوں کا کچا ہونا ہے۔ جب رشتوں میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے، تو انسان اپنے نجی معاملات میں باہر کے لوگوں یا سوشل میڈیا کے غیر متعلقہ افراد کو جج بنا لیتا ہے۔ باہر والے لوگ اکثر آپ کے حالات کی گہرائی اور پس منظر سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے ان کے مشورے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے ہی مخلص رشتوں سے بدگمان ہونا اور بغیر کسی تحقیق کے اپنوں کے خلاف محاذ کھڑا کرنا ایک ایسی نادانی ہے جو ہنستے بستے گھروں کے سکون کو آگ لگا دیتی ہے۔ جب گھر کے اندر کی باتیں باہر جانے لگتی ہیں اور دوسروں کی مداخلت بڑھ جاتی ہے، تو رشتوں کا تقدس اور رازداری ختم ہو جاتی ہے، جو بالآخر بڑے جھگڑوں اور جدائی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے چند ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں "ڈیجیٹل ڈی ٹاکس" کی عادت ڈالنی ہوگی، یعنی گھر میں ایک ایسا وقت مقرر کرنا جہاں موبائل کو ایک طرف رکھ کر صرف ایک دوسرے کی باتیں سنی اور سمجھی جائیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گھر کے معاملات کو صرف گھر کی حد تک محدود رکھا جائے؛ اپنے شریکِ حیات یا والدین سے مشورہ کرنا نہ صرف اعتماد کو بحال کرتا ہے بلکہ رشتوں میں اپنائیت کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ کسی تیسرے فرد کی بات پر یقین کرنے سے پہلے براہِ راست اپنے پیاروں سے گفتگو کر کے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھیے، دنیا کا کوئی بھی اجنبی یا ڈیجیٹل دوست آپ کے گھر والوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ انا کو ترک کر کے "ہم" کی سوچ اپنانا اور رشتوں کو وقت دینا ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمارے بکھرتے ہوئے خاندانی نظام کو دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔

موبائل کا محدود استعمال: گھر والوں کے ساتھ بیٹھتے وقت فون کو دور رکھیں۔
خفیہ گفتگو سے پرہیز: گھر کے معاملات میں باہر والوں کو شریک نہ کریں۔
تصدیق کی عادت: کسی کی لگائی بجھائی پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کریں۔
باہمی مشورہ: چھوٹے بڑے فیصلوں میں گھر کے افراد کو اہمیت دیں۔
انا کی قربانی: بحث جیتنے کے بجائے رشتہ جیتنے کو ترجیح دیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

*‏قیمتی موقع جو ہاتھ سے نکل گیا۔*ایک زمانے کی بات ہے، ایک مزدور ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا سارا دارو...
04/22/2026

*‏قیمتی موقع جو ہاتھ سے نکل گیا۔*

ایک زمانے کی بات ہے، ایک مزدور ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا سارا دارومدار روز کی مزدوری پر تھا۔ روزانہ وہ زمین کھودتا، مٹی گدھے پر لادتا، اور اسے بیچ کر اپنا پیٹ پالتا۔ ایک دن، جب وہ زمین کھود رہا تھا، اچانک اس کے ہاتھ ایک چمکدار پتھر لگا۔ وہ نہایت خوبصورت اور روشن تھا، لیکن مزدور کو اُس کی کوئی پہچان نہ تھی۔ اُس نے سوچا شاید یہ کوئی خوبصورت کنکر ہے، لہٰذا اسے رسی میں باندھ کر اپنے گدھے کی گردن میں لٹکا دیا اور چل پڑا۔ اسی گاؤں میں ایک تاجر کی چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی۔ جب اُس نے گدھے کی گردن میں لٹکتے ہوئے چمکتے پتھر کو دیکھا تو رک گیا۔ اُس نے مزدور سے پوچھا،
"یہ چمکتا ہوا پتھر کیا ہے؟"
مزدور نے سادگی سے جواب دیا:
"بس مٹی کھودتے وقت ملا تھا، خوبصورت لگا، اس لیے گدھے کو پہنا دیا۔"
تاجر کو وہ پتھر پسند آیا۔ اُس نے مزدور سے وہ پتھر پچاس روپے میں خرید لیا اور دکان کی ترازو پر سجا دیا۔ اب جو بھی دکان پر آتا، اُس پتھر کو دیکھ کر تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔
کچھ دن بعد ایک سنار دکان پر آیا۔ اس کی نظر جیسے ہی اس چمکتے پتھر پر پڑی، وہ ٹھٹک گیا۔ غور سے دیکھنے کے بعد اُس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں بلکہ ایک نایاب ہیرا ہے۔
اس نے فوراً تاجر سے پوچھا، "یہ قیمتی پتھر کہاں سے آیا؟"
تاجر نے بےفکری سے جواب دیا، "بس ایک مزدور سے 500 روپے میں خریدا تھا، مجھے لگا سجاوٹ کے لیے اچھا ہے۔"
سنار بولا، "کیا تم یہ مجھے بیچنا چاہو گے؟"
تاجر نے کہا، "ہاں، اگر0 100 روپے دو، تو لے جاؤ۔"
لیکن سنار نے بخل سے کام لیا اور کہا: "میں 800 روپے دے سکتا ہوں، اگر منظور ہو تو ٹھیک، ورنہ میں چلا جاتا ہوں۔"
تاجر نے مسکرا کر کہا: 1000 سے کم نہیں۔
سنار دل میں سوچنے لگا کہ اگلے دن آ کر شاید 900 روپے میں خرید لے گا، اور یوں وہ خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔
اسی شام، ایک دوسرا سنار، جو اتفاق سے اُس گاؤں سے گزر رہا تھا، راستے میں اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ وہ تاجر کی دکان پر رکا اور جیسے ہی اس کی نظر اُس چمکتے پتھر پر پڑی، اُس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ فوراً 1000 روپے نکالے اور وہ پتھر خرید لیا۔
اگلے دن پہلا سنار واپس آیا اور جب اُس نے دیکھا کہ پتھر غائب ہے تو فوراً پوچھا:
"وہ پتھر کہاں گیا؟" تاجر نے ہنستے ہوئے جواب دیا: "کل شام ایک اور صاحب آئے اور 1000 روپے میں لے گئے۔"
یہ سن کر سنار کا چہرہ لال ہوگیا۔ غصے میں بولا: "تم نے کتنی بڑی بیوقوفی کی! وہ ایک معمولی پتھر نہیں، بلکہ ایک انمول ہیرا تھا!"
تاجر نے خاموشی سے جواب دیا: "جناب، میں نے تو سچ میں نہیں جانا کہ وہ کیا تھا۔ لیکن افسوس، آپ جانتے تھے... پھر بھی صرف 200 روپے بچانے کے چکر میں اسے کھو دیا۔ تو بےوقوف کون ہوا؟"
________________________________________
اس کہانی میں چھپے تین عظیم سبق موجود ہیں
1. ہر وقت کنجوسی مت کرو: سستی صرف وہاں دکھاؤ جہاں واقعی ضروری ہو، ورنہ کئی قیمتی موقعے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔
2. مواقع پہچانو: بعض اوقات ہم خود کو بہت عقل مند سمجھ کر سنہری مواقع گنوا دیتے ہیں۔
3. فوری عمل کرو، وقت کا انتظار مت کرو: جیسا کہا گیا ہے: "کل کا کام آج کر لو، اور آج کا ابھی!"کیونکہ صحیح وقت "ابھی" ہے۔
زندگی ایک ہیرا ہے، بس اسے پہچاننے کی نظر ہونی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو چیز آپ کو مقدر بنا سکتی ہے، وہ آپ صرف 200 روپے کے لالچ میں گنوا بیٹھیں!

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کری

Address

New York, NY
07302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kosar Irfan Short posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kosar Irfan Short:

Share